سیدنا علی رضی اللہ عنہ

ام المومنین رضی اللہ عنہ کی مکہ سے بصرہ کی جانب روانگی

عبداللہ بن عامر اور یعلی بن منبہ بصرہ اور یمن سے کافی روپیہ اور سامان لے کر مکہ میں پہنچے تھے‘ لہذا ان ہی دونوں نے لشکر ام المومنین رضی اللہ عنہ کی سامان سفر کی تیاری و فراہمی میں حصہ لیا‘ ان دونوں نے روانگی سے پہلے تمام مکہ میں منادی کرا دی تھی کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بصرہ کی طرف جا رہے ہیں‘ جو شخص اسلام کا ہمدرد اور خون عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ لینا چاہتا ہو وہ آئے اور شریک لشکر ہو جائے‘ اس کو سواری وغیرہ دی جائے گی۔ غرض اس طرح مکہ معظمہ سے ڈیڑھ ہزار آدمیوں کا لشکر روانہ ہوا‘ عین روانگی کے وقت مروان بن الحکم اور سعید بن العاص بھی مکہ میں پہنچے اور شریک لشکر ہوئے‘ مکہ سے تھوڑی ہی دور چلے تھے‘ کہ اطراف و جوانب سے جوق در جوق لوگ آ آ کر شریک ہونا شروع ہوئے اور بہت جلد اس لشکر کی تعداد تین ہزار ہو گئی۔ ام فضل بنت الحرث مادر عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی اتفاقاً شریک لشکر تھیں‘ انہوں نے قبیلہ جہنیہ کے ایک شخص ظفر نامی کو اجرت دے کر سیدنا علی کی جانب روانہ کیا‘ اور ایک خط دیا‘ جس میں اس لشکر اور اس کی روانگی کے تمام حالات لکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو آگاہ کیا گیا تھا‘ باقی امہات المومنین جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ آئی تھیں‘ مقام ذات عرق تک تو ہمراہ آئیں‘ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے رو رو کر رخصت ہوئیں اور مدینہ کی طرف روانہ ہوئیں۔ بعض اختلافات کی وجہ سے راستہ ہی سے سعید بن العاص اور مغیرہ بن شعبہ اور کچھ اور لوگ واپس ہو گئے۔