سیدنا علی رضی اللہ عنہ

آپ کے قضایا و کلمات

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ دین کے معاملہ میں میرا دشمن بھی مجھ سے استفتاء کرتا ہے‘ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھ بھیجا ہے کہ خنثیٰ مشکل کی میراث میں کیا کیا جائے‘ میں نے اسے لکھ بھیجا ہے کہ اس کی پیشاب گاہ کی صورت سے میراث کا حکم جاری ہونا چاہیے‘ یعنی اگر اس کی پیشاب گاہ مردوں کی مانند ہو تو اس کا حکم مرد کا ہو گا اور اگر عورت کی طرح ہو تو عورت کی طرح کا۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ جب بصرے میں تشریف لے گئے تو ابن کوا اور قیس بن عبادہ نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ سے وعدہ فرمایا تھا کہ میرے بعد تم خلیفہ بنائے جائو گے‘ اس معاملہ میں آپ سے بڑھ کر اور کون ثقہ ہو سکتا ہے‘ ہم آپ ہی سے دریافت کرتے ہیں کہ یہ کیا بات ہے‘ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ بالکل غلط ہے‘ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے کوئی وعدہ فرمایا تھا‘ اگر فی الحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے کوئی ایسا وعدہ فرمایا ہوتا تو میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے منبر پر کیوں کھڑا ہونے دیتا اور ان کو اپنے ہاتھ سے قتل نہ کر دیتا‘چاہے میرا ساتھ دینے والا ایک بھی نہ ہوتا‘ بات یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیماری نے طول کھینچا‘ تو ایک روز مؤذن نے حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو نماز کے واسطے بلایا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لے جائو وہ میری جگہ نماز پڑھائیں گے‘ لیکن ام المومنین (عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا ) نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس ارادہ سے باز رکھنا چاہا‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو غصہ آیا اور فرمایا کہ تم سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی عورتیں ہو۔۳؎ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو لے جائو‘ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات پائی تو ہم نے اپنی جگہ غور کیا تو اس شخص کو اپنی دنیا کے واسطے بھی قبول کر لیا‘ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمارے دین کے واسطے انتخاب فرمایا تھا‘ کیوں کہ نماز اصل دین ہے اور آپ دین کے امیر اور دنیا کے قائم رکھنے والے تھے‘ پس ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مستحق سمجھ کر ان سے بیعت کر لی اور اسی لیے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا اور کسی نے کسی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں کیا‘ نہ کوئی متنفس ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیزار ہوا‘ لہذا میں نے بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حق ادا کیا ان کی اطاعت کی‘ ان کے لشکر میں شامل ہو کر ان کی طرف سے لڑا‘ وہ جو کچھ مجھے دیتے تھے لے لیتا تھا‘ جہاں کہیں مجھے لڑنے کا حکم دیتے تھے میں لڑتا تھا‘ اور ان کے حکم سے حد شرع لگاتا تھا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ بنا گئے‘ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ویسا ہی برتائو کیا اور ان کے ساتھ اسی طرح پیش آیا‘ جس طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا تھا‘ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میری پیش قدمی اسلام اور قرابت اور دوسری خصوصیات کو دیکھتے ہوئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میری خلافت کا حکم دے جائیں گے‘ لیکن وہ ڈرے کہ کہیں ایسے شخص کا انتخاب نہ کر جائوں جس کا انجام اچھا نہ ہو‘ چنانچہ انہوں نے اپنے نفس کے ساتھ اپنی اولاد کو بھی خلافت سے محروم کر دیا‘ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بخشش و عطا کے اصول پر چلتے تو اپنے بیٹے سے بڑھ کر کس کو مستحق سمجھتے‘ غرض انتخاب اب قریش کے ہاتھ میں آیا‘ جن میں سے ایک میں بھی تھا۔ جب لوگ انتخاب کے لیے جمع ہوئے تو میں نے خیال کیا کہ وہ مجھ سے تجاوز نہ کریں گے‘ عبدالرحمن بن عوف نے ہم سے وعدے لیے کہ جو کوئی خلیفہ مقرر کیا جائے ہم اس کی اطاعت کریں گے‘ پھر انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا‘ اب جو میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ مجھ سے جو کچھ وعدہ لیا گیا تھا وہ غیر کی اطاعت کے واسطے لیا گیا تھا‘ لہذا میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی‘ اور ان کے ساتھ میں نے وہی سلوک کیا اور ان سے اسی طرح پیش آیا جس طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ جب عثمان کا بھی انتقال ہو گیا تو میں نے خیال کیا کہ وہ لوگ تو گذر گئے‘ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمارا امام بنایا تھا‘ اور وہ بھی گذر گئے جن کے لیے مجھ سے وعدہ لیا گیا تھا‘ تو میں بیعت لینے پر آمادہ ہو گیا‘ چنانچہ اہل حرمین (مکہ و مدینہ) نے اور کوفہ و بصرہ کے رہنے والوں نے مجھ سے بیعت کر لی‘ اب اس معاملہ خلافت میں ایک ایسا شخص میرا مدمقابل ہے جس کی نہ قرابت میری مانند ہے‘ نہ علم‘ نہ سبقت اسلام حالانکہ کہ میں مستحق خلافت ہوں۔ ایک شخص نے سیدنا علی سے دریافت کیا کہ آپ نے ایک خطبہ میں کہا تھا کہ الٰہی ہم کو ویسی ہی صلاحیت عطا فرما‘ جیسی تو نے خلفاء راشدین کو فرمائی تھی‘ تو آپ کے نزدیک وہ خلفاء راشدین کون تھے‘ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آنکھوں میں آنسو بھر لائے اور فرمانے لگے‘ وہ میرے دوست ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ ہیں‘ دونوں امام الہدیٰ اور شیخ الاسلام تھے‘ قریش نے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ان دونوں کی پیروی کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی انہوں نے نجات پائی‘ اور جو لوگ ان کے راستے پر پڑ گئے وہی گروہ اللہ تعالیٰ ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جھوٹ سے سخت نفرت تھی‘ ایک مرتبہ آپ کچھ فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے آپ کو جھٹلایا‘ آپ نے بد دعا کی‘ وہ ابھی مجلس سے اٹھنے بھی نہ پایا تھا کہ اس کی آنکھیں جاتی رہیں۔ ایک مرتبہ دو آدمی کھانا کھانے بیٹے‘ ایک کے پاس پانچ روٹیاں تھیں اور دوسرے کے پاس تین‘ اتنے میں ایک اور آدمی آ گیا‘ ان دونوں نے اسے اپنے ساتھ کھانے کو بٹھا لیا‘ جب وہ تیسرا آدمی کھانا کھا کر چلنے لگا تو اس نے آٹھ درم ان دونوں کو دیکر کہا کہ جو کچھ میں نے کھایا ہے اس کے عوض میں سمجھو‘ اس کے جانے کے بعد ان دونوں میں درموں کی تقسیم کے متعلق جھگڑا ہوا‘ پانچ روٹیوں والے نے دوسرے سے کہا کہ میں پانچ درم لوں گا اور تجھ کو تین ملیں گے‘ کیونکہ تیری روٹیاں تین تھیں‘ تین روٹیوں والے نے کہا میں تو نصف سے کم پر ہرگز راضی نہ ہوں گا‘ یعنی چار درم لے کر چھوڑوں گا۔ اس جھگڑے نے یہاں تک طول کھینچا کہ دونوں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ آپ نے ان دونوں کا بیان سن کر تین روٹیوں والے سے کہا کہ تیری روٹیاں کم تھیں تین درم تجھ کو زیادہ مل رہے ہیں بہتر ہے کہ تو رضا مند ہو جا‘ اس نے کہا کہ جب تک میری حق رسی نہ ہو گی میں کیسے راضی ہو سکتا ہوں‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر تیرے حصے میں صرف ایک درہم آئے گا‘ اور تیرے ساتھی کے حصے میں سات درہم آئیں گے‘ یہ سن کر اس کو بہت ہی تعجب ہوا اور اس نے کہا کہ آپ بھی عجیب قسم کا انصاف کر رہے ہیں‘ ذرا مجھ کو سمجھا دیجئے کہ میرے حصے میں ایک اور اس کے حصے میں سات کس طرح آتے ہیں‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھا سنو کل آٹھ روٹیاں تھیں اور تم تین آدمی تھے‘ چونکہ یہ مساوی طور پر تقسیم نہیں ہو سکتیں‘ لہذا ہر ایک روٹی کے تین ٹکڑے قرار دے کر کل چوبیس ٹکڑے سمجھو‘ یہ تو معلوم نہیں ہو سکتا کہ کس نے کم کھایا اور کس نے زیادہ لہذا یہی فرض کرنا پڑے گا کہ تینوں نے برابر کھانا کھایا‘ اور ہر ایک شخص نے آٹھ آٹھ ٹکڑے کھائے‘ تیری تین روٹیوں کے نو ٹکڑوں میں سے ایک اس تیسرے شخص نے کھایا اور آٹھ تیرے حصے میں آئے‘ اور تیرے ساتھی کی پانچ روٹیوں کے پندرہ ٹکڑوں میں سے سات اس تیسرے شخص نے کھائے اور آٹھ تیرے ساتھی کے حصے میں آئے‘ چونکہ تیرا ایک ٹکڑا اور تیرے ساتھی کے ساتھ ٹکڑے‘ کل آٹھ ٹکڑے کھا کر اس نے آٹھ درہم دئیے ہیں لہذا ایک درہم تیرا ہے‘ اور سات درہم تیرے ساتھی کے ہیں‘ یہ سن کر اس نے کہا کہ ہاں اب میں راضی ہوں۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے آپ کے یہاں نالش کی کہ فلاں شخص یہ کہتا ہے کہ اس نے خواب میں میری ماں سے جماع کیا ہے‘ آپ نے فرمایا اس خواب بیان کرنے والے کو دھوپ میں کھڑا کر کے اس کے سایہ کو کوڑے لگائو۔