سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

فتنہ پرداز قافلوں کی روانگی

سب سے پہلے ایک ہزار آدمیوں کا ایک قافلہ یہ مشہور کر کے کہ ہم حج ادا کرنے جاتے ہیں مصر سے روانہ ہوا‘ اس قافلہ میں عبدالرحمن بن عدیس‘ کنانہ بن بشر لیثی ‘ سودان بن حمران وغیرہ بھی شامل تھے۔ اس قافلہ کا سردار غافقی بن حرب عکی تھا‘ تجویز یہ کی گئی تھی کہ مصر سے یہ ایک ہزار آدمی سب کے سب ایک ہی مرتبہ روانہ نہ ہوں‘ بلکہ مختلف اوقات میں یکے بعد دیگرے چار چھوٹے چھوٹے قافلوں کی شکل میں روانہ ہوں اور آگے کئی منزل کے بعد سب مل کر ایک قافلہ بن جائیں‘ چنانچہ ایسی ہی ہوا۔ ایک ہزار کا قافلہ مقام کوفہ سے مالک اشتر کی سرداری میں اسی اہتمام کے ساتھ یعنی چار حصوں میں منقسم ہو کر روانہ ہوا‘ اس قافلہ میں زید بن سوحان عبدی‘ زیادبن النضر حارثی‘ عبداللہ بن الاصم عامری بھی شامل تھے۔ اسی طرح ایک ہزار کا قافلہ حرقوص بن زہیر سعدی کی سرداری میں بصرہ سے روانہ ہوا جس میں حکیم بن جبلہ عبدی‘ بشیر بن شریح قیسی وغیرہ شامل تھے۔ یہ تمام قافلے ماہ شوال ۳۵ ھ میں اپنے اپنے شہروں سے روانہ ہوئے اور سب نے یہ مشہور کیا کہ ہم حج ادا کرنے جاتے ہیں‘ ان سب نے آپس میں پہلے ہی سے یہ تجویز پختہ کر لی تھی کہ اس مرتبہ امیر المومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ضرور معزول یا قتل کریں گے‘ اپنے اپنے مقاموں سے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر روانہ ہوئے‘ پھر سب یکجا ہوئے‘ اس کے بعد چند منزلیں طے کر کے تینوں صوبوں کے قافلے مل کر ایک ہو گئے اور سب کے سب مل کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے‘ جب مدینہ منورہ تین منزل کے فاصلے پر رہ گیا تو وہ لوگ جو طلحہ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے آگے بڑھ کر ذوخشب میں ٹھہر گئے‘ جولوگ زبیر بن العوام کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے مقام اعوص میں آ کر مقیم ہو گئے اور جو لوگ سیدنا علی کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے وہ ذوالمروہ میں مقیم ہو گئے۔ طلحہ کے حامیوں میں زیادہ تعداد بصرہ کے لوگوں کی تھی‘ زبیر بن العوام کے طرف داروں میں زیادہ تعداد کوفہ کے لوگوں کی تھی‘ جو لوگ سیدنا علی کو خلیفہ بنانا چاہتے ان میں زیادہ تر مصر کے لوگ شامل تھے۔ زیاد بن النضر اور عبداللہ بن الاصم نے ان تمام بلوائیوں سے کہا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرے رہو جلدی نہ کرو‘ ہم پہلے مدینہ میں داخل ہو کر اہل مدینہ کی حالت معلوم کر آئیں‘ کیوں کہ ہم کو معلوم ہوا ہے کہ مدینہ والوں نے بھی جنگی تیاری کی ہے‘ اگر یہ خبر صحیح ہے تو پھر ہم سے کچھ نہ ہو سکے گا‘ تمام بلوائی یہ سن کر خاموش ہو گئے‘ اور یہ دونوں مدینہ میں داخل ہوئے‘ مدینہ میں پہنچ کر یہ دونوں سیدنا علی‘ طلحہ‘ زبیر اور امہات المومنین سے ملے اور ان سے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا‘ ان سبھوں نے ان کو ملامت کی اور واپس جانے کا حکم دیا۔ اس جگہ یہ بات خصوصیت سے قابل تذکرہ ہے کہ عبداللہ بن سبا کے جو آدمی مدینہ منورہ میں موجود تھے‘ انہوں نے سیدنا علی‘ سیدنا طلحہ‘ سیدنا زبیر اور امہات المومنین کے نام سے بہت سے خطوط لکھ لکھ کر کوفہ‘ مصرو بصرہ کے ان لوگوں کے نام روانہ کئے جو ان بزرگوں کے نام سے عقیدت رکھتے اور عبداللہ بن سبا کے دام تزدیر میں پورے اور یقینی طور پر نہیں پھنسے تھے‘ ان خطوط میں لکھا گیا تھا کہ سیدنا عثمان اب اس قابل نہیں رہے کہ ان کو تخت خلافت پر متمکن رہنے دیا جائے‘ مناسب یہی ہے اور امت مسلمہ کی فلاح اسی میں مضمر ہے کہ اس آنے والے ماہ ذی الحجہ میں اس ضروری کام کو سر انجام دے دیا جائے‘ یہی وجہ تھی کہ یہ تینوں قافلے مدینہ منورہ میں ہر قسم کا فساد مچانے اور کشت و خون کرنے کے ارادے سے آئے تھے‘ ورنہ تین ہزار آدمیوں کا کیا حوصلہ تھا کہ وہ اس مدینۃ النبی پر تصرف کرتے اور زبردستی اپنے ارادے پورے کرانے کے عزم سے آتے‘ جس مدینہ پر جنگ احزاب کے کثیر التعداد کفار دخل نہ پا سکے تھے ان بلوائیوں کو یہی شیری اور دلیری تھی کہ مدینہ کے اکابر سب ہماری حمایت پر آمادہ ہیں اور ہم جو کچھ کریں گے گویا ان ہی کے منشا کو پورا کریں گے۔ مدینہ میں جب ہر ایک بزرگ نے ان کی آمد کو نا مناسب قرار دیا‘ اور انہوں نے مدینہ میں کسی قسم کی مستعدی و جنگی تیاری بھی نہ دیکھی تو انہوں نے ان بزرگوں کی مخالفت رائے کو مصلحت اندیشی پر محمول کیا اور واپس جا کر تمام بلوائیوں کے نمائندوں اور سرداروں کو جمع کیا اور مدینہ والوںکی طرف سے اطمینان دلا کر یہ تجویز پیش کی سرداران مصر جن میں زیادہ تر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حامی ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس‘ بصرہ والے طلحہ کے پاس اور کوفہ والے زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں‘ چنانچہ یہ لوگ مدینہ میں داخل ہو کر تینوں حضرات کی خدمت میں الگ الگ حاضر ہوئے اور کہا کہ ہم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو کسی طرح پسند نہیں کرتے‘ آپ ہم سے بیعت خلافت لے لیں‘ ہر ایک بزرگ سے بیعت لینے کی فرمائش کی گئی‘ اور ہر ایک نے سختی کے ساتھ انکار کیا‘ جب انکار دیکھا تو مصر والوں نے سیدنا علی سے کہا کہ ہمارے یہاں کا عامل عبداللہ بن سعد چونکہ ظالم ہے‘ ہم اس کو معزول کرائے بغیر تو مدینہ سے ہرگز نہ جائیں گے۔ بلوائیوں کے ان سرداروں کے اصرار اور جرات کو دیکھ کر اور مناسب وقت سمجھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور بعض دوسرے اصحاب کرام نے سیدنا عثمان کی خدمت میں حاضر ہو کر مشورہ دیا کہ ان بلوائیوں کو مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی یہاں سے ٹال دو‘ اور ان کی ضد پوری کر دو‘ یعنی عبداللہ بن سعد کو مصر کی امارت سے معزول کر دو‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ پھر کس کو مصر کا عامل تجویز کیا جائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اور دوسرے صحابہ نے محمد بن ابی بکر کا نام لیا‘ وہ پہلے ہی سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حامی اور عبداللہ بن سبا کے فریب میں آئے ہوئے تھے‘ سیدنا عثمان غنی نے محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو مصر کی امارت کا فرمان لکھ کر دے دیا‘ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بلوائیوں کے سرداروں کو رخصت کیا اور کہا کہ جائو اب تمہاری ضد پوری ہو گئی‘ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی بہت کچھ سمجھا بجھا کر لوگوں کو رخصت کر دیا۔ تیسرے یا چوتھے روز کیا دیکھتے ہیں کہ باغیوں کی ساری کی ساری جماعت تکبیر کے نعرے بلند کرتی ہوئی مدینہ میں داخل ہوئی اور سیدنا عثمان کے گھر کا محاصرہ کر لیا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ تو یہاں سے چلے گئے تھے‘ پھر کیسے واپس آ گئے‘ انہوں نے کہا کہ خلیفہ نے ایک خط اپنے غلام کے ہاتھ عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس مصر کی جانب روانہ کیا تھا کہ ہم جب وہاں پہنچیں تو وہ ہم کو قتل کر دے‘ ہم نے وہ خط راستہ میں پکڑ لیا ہے‘ اس کو لے کر آئے ہیں‘ ساتھ ہی مصری و کوفی قافلے بھی واپس آ گئے ہیں کہ اپنے بھائیوں کے ساتھ رنج و راحت میں شرکت کریں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ واللہ یہ تم لوگوں کی سازش ہے اور تمہاری نیت نیک نہیں ہے‘ ان لوگوں نے کہا خیر جو کچھ بھی ہو اس خلیفہ کو قتل کرنا ضروری ہے‘ آپ اس کام میں ہماری امداد کریں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے برہم ہو کر فرمایا کہ میں بھلا تمہاری مدد کیسے کر سکتا ہوں‘ یہ سن کر ان لوگوں نے کہا کہ پھر آپ نے ہم کو لکھا کیوں تھا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے کبھی تم کو کچھ بھی نہیں لکھا‘ یہ سن کر وہ آپس میں حیرت کے ساتھ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے بعد مدینہ سے باہر مقام احجار الزیت میں تشریف لے گئے‘ اور بلوائیوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو تنگ کرنا شروع کیا۔ اب تک بلوائی لوگ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے‘ اب انہوں نے ان کے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی اور دوسرے لوگوں کو بھی زبردستی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکنا شروع کیا۔ سیدنا عثمان غنی نے یہ رنگ اور مدینہ کی گلیوں کو بلوائیوں سے پر دیکھ کر مختلف ممالک کے والیوں کو خطوط لکھے اور امداد طلب کی‘ یا یہ خبریں خود بخود ہی ان ممالک میں پہنچیں چنانچہ مصر‘ شام‘ کوفہ‘ بصرہ سے نیک دل لوگوں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے مدینہ کی طرف لوگوں کو روانہ ہونے اور خلیفہ وقت کی مدد کرنے کی ترغیب دی۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حبیب بن مسلمہ فہری کو اور عبداللہ بن سعد نے معاویہ بن حدیج کو روانہ کیا‘ کوفہ سے قعقاع بن عمرو ایک جمعیت کے ساتھ روانہ ہوئے‘ اسی طرح بصرے سے بھی ایک جمعیت روانہ ہوئی‘ ان خبروں کے پہنچنے اور ان امدادی جمعیتوں کے روانہ ہونے میں ضرور کچھ نہ کچھ تامل واقع ہوا‘ کیوں کہ ان میں سے کوئی بھی سیدنا عثمان غنی کی شہادت سے پہلے مدینہ میں نہ پہنچ سکا‘ سب نے راستے ہی میں واقعہ شہادت کا حال سنا اور راستے ہی سے اپنے اپنے صوبوں کی طرف واپس روانہ ہو گئے۔ تیس دن تک حالت محاصرہ میں سیدنا عثمان غنی نمازوں کے لیے مسجد میں آتے رہے‘ اس کے بعد بلوائیوں نے ان کا گھر سے نکلنا اور گھر میں پانی کا جانا بند کر دیا‘ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ہر چند کہا کہ تم عینی شاہد پیش کرو کہ میں نے یہ خط لکھا ہے جس کو تم نے بہانہ بنایا ہے یا مجھ سے قسم لے لو‘ مجھ کو اس کا کوئی علم نہیں ہے‘ بلوائیوں نے کسی کی کوئی معقول بات پھر سننی پسند نہ کی‘ ایک عام افراتفری اور ہلچل کا زمانہ تھا‘ سیدنا عثمان غنی پر بلوائیوں نے پانی کا جانا بند کیا تو ان کو بڑی تکلیف ہوئی‘ پھر ایک ہمسایہ کے ذریعہ پوشیدہ طور پر پانی گھر میں پہنچتا رہا۔