سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
عبداللہ بن سبا
عبداللہ بن سبا المعروف بہ ابن السوداء شہر صنعا کا رہنے والا ایک یہودی تھا‘ وہ سیدنا عثمان غنی کے عہد خلافت میں یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں کو دولت خوب حاصل ہوتی ہے اور اب یہی دنیا میں سب سے بڑی فاتح قوم بن گئی ہے مدینہ میں آیا اور بظاہر مسلمانوں میں شامل ہو گیا‘ مدینہ میں اس کا آنا اور رہنا بہت ہی غیر معروف اور ناقابل التفات تھا لیکن اس نے مدینہ میں رہ کر مسلمانوں کی اندرونی اور داخلی کمزوریوں کو خوب جانچا اور مخالف اسلام تدابیر کو خوب سوچا‘ انہیں ایام میں بصرہ کے اندر ایک شخص حکیم بن جبلہ رہتا تھا‘ اس نے یہ وطیرہ اختیار کیا کہ اسلامی لشکر کے ساتھ ھکسی فوج میں شریک ہو جاتا تو موقعہ پا کر ذمیوں کو لوٹ لیتا‘ کبھی کبھی اور لوگوں کو بھی اپنا شریک بناتا اور ڈاکہ زنی کرتا‘ اس کی ڈاکہ زنی کی خبریں مدینہ میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تک پہنچیں۔ انہوں نے گورنر بصرہ کو لکھا کہ حکیم بن جبلہ کو شہر بصرہ کے اندر نظر بند رکھو اور حدود شہر سے باہر ہرگز نہ نکلنے دو‘ اس حکم کی تعمیل میں وہ بصرہ کے اندر محصور و نظر بند رہنے لگا‘ عبداللہ بن سبا حکیم بن جبلہ کے حالات سن کر مدینہ سے روانہ ہوا اور بصرہ میں پہنچ کر حکیم بن جبلہ کے مکان پر مقیم ہوا‘ یہاں اس نے حکیم بن جبلہ اور اس کے ذریعہ اس کے دوستوں اور دوسرے لوگوں سے مراسم پیدا کئے‘ اپنے آپ کو مسلمان اور حامی و خیر خواہ آل رسول ظاہر کر کے لوگوں کے دلوں میں اپنے منصوبے کے موافق فساد انگیز خیالات و عقائد پیدا کرنے لگا‘ کبھی کہتا کہ مجھ کو تعجب ہوتا ہے کہ مسلمان اس بات کے تو قائل ہیں کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے لیکن اس بات کو نہیں مانتے کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم بھی دنیا میں ضرور آئیں گے‘ چنانچہ اس نے لوگوں کو {اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَاد} (القصص : ۲۸/۸۵) کی غلط تفسیر سنا سنا کر اس عقیدہ پر قائم کرنا شروع کیا کہ سیدنا محمد کی مراجعت دوبارہ دنیا میں ضرور ہو گی‘ بہت سے احمق اس فریب میں آ گئے‘ پھر اس نے ان احمقوں کو اس عقیدے پر قائم کرنا شروع کیا کہ ہر پیغمبر کا ایک خلیفہ اور وصی ہوا کرتا ہے اور سیدنا محمد کے وصی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ جس طرح رسول اللہ خاتم الانبیاء ہیں اسی طرح سیدنا علی خاتم الاوصیاء ہیں‘ پھر اس نے علانیہ کہنا شروع کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سوا دوسروں کو خلیفہ بنا کر بڑی حق تلفی کی ہے‘ اب سب کو چاہیے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مدد کریں اور موجودہ خلیفہ کو قتل یا معزول کر کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیں۔
عبداللہ بن سبا یہ تمام منصوبے اور اپنی تحریک کی ان تمام تجویزوں کو مدینہ منورہ سے سوچ سمجھ کر بصرہ میں آیا تھا اور اس نے نہایت احتیاط اور قابلیت کے ساتھ بہ اقساط اپنی مجوزہ بد عقیدگیوں کو شائع کرنا اور لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کیا۔
رفتہ رفتہ اس فتنے کا حال بصرے کے گورنر عبداللہ بن عامر کو معلوم ہوا تو انہوں نے عبداللہ بن سبا کو بلا کر پوچھا کہ تم کون ہو‘ کہاں سے آئے ہو اور یہاں کیوں آئے ہو‘ عبداللہ بن سبا نے کہا مجھ کو اسلام سے دلچسپی ہے‘ میں اپنے یہودی مذہب کی کمزوریوں سے واقف ہو کر اسلام کی طرف متوجہ ہوا ہوں اور یہاں آپ کی رعایا بن کر زندگی بسر کرنا چاہتا ہوں‘ عبداللہ بن عامر نے کہا کہ میں نے تمہارے حالات اور تمہاری باتوں کو تحقیق کیا ہے مجھ کو تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم کوئی فتنہ برپا کرنا اور مسلمانوں کو گمراہ کر کے یہودی ہونے کی حیثیت سے جمعیت اسلامی میں افتراق و انتشار پیدا کرنا چاہتے ہو‘ چونکہ عبداللہ بن عامر کی زبان سے پتے کی باتیں نکل گئی تھیں‘ لہذا اس کے بعد عبداللہ بن سبا نے بصرے میں اپنا قیام مناسب نہ سمجھا اور اپنے خاص الخاص راز دار اور شریک کار لوگوں کو وہاں چھوڑ کر اپنی بنائی ہوئی جماعت کے لیے مناسب تجاویز و ہدایات سمجھا کر بصرہ سے چل دیا اور دوسرے اسلامی فوجی مرکز یعنی کوفہ۱؎ میں آیا‘ یہاں پہلے سے ہی ایک جماعت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کے عامل کی دشمن موجود تھی‘ عبداللہ بن سبا کو کوفہ میں آ کر بصرہ سے زیادہ بہتر موقع اپنی شرارتوں کو کامیاب بنانے کا ملا۔
عبداللہ بن سبا کو ایک طرف تو اسلام سے مخالفت تھی‘ دوسری طرف اس کو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے خاص ذاتی عداوت تھی اور وہ سیدنا عثمان غنی سے کوئی انتقام یا بدلہ لینے کا خواہشمند معلوم ہوتا تھا‘ کوفہ میں آ کر بہت جلد عبداللہ بن سبا نے اپنے زہدو اتقاء کا سکہ لوگوں کے دلوں پر بٹھا دیا‘ عام طور پر لوگ اس کو تعظیم و تکریم کی نگاہ سے دیکھتے اور اس کا ادب و لحاظ کرنے لگے‘ جب کوفہ میں عبداللہ بن سبا کے پھیلائے ہوئے خیالات کا چرچا ہوا تو یہاں کے گورنر سعید بن العاص نے اس کو بلا کر ڈانٹا اور وہاں کے سمجھ دار اور شریف آدمیوں نے بھی اس کو مشنتبہ آدمی سمجھا‘ چنانچہ عبداللہ بن سبا کوفہ سے نکل کر شام کی طرف روانہ ہوا‘ مگر جس طرح بصرہ میں وہ اپنی ایک جماعت چھوڑ آیا تھا‘ اسی طرح کوفہ میں بھی اس نے اپنی ایک زبردست جماعت چھوڑی‘ جس میں مالک اشتر وغیرہ مذکورہ بالا اشخاص اور ان کے احباب و اقارب زیادہ تر شامل تھے۔
کوفہ سے جب وہ شام یعنی دمشق میں پہنچا تو یہاں اس کی دال زیادہ نہ گلی اور جلدی ہی اسے یہاں سے شہر بدر ہونا پڑا‘ عبداللہ بن سبا کی عداوت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور بنو امیہ سے دم بہ دم ترقی کر رہی تھی اور ہر جلاوطنی اس کے لیے ایک نیا میدان اور نیا موقع کامیابی کا پیدا کر دیتی تھی‘ شام سے خارج ہو کر وہ سیدھا مصر میں پہنچا‘ وہاں کے گورنر عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ تھے‘ مصر میں عبداللہ بن سبا نے اپنے سابقہ تجربے سے فائدہ اٹھا کر زیادہ احتیاط اور زیادہ گہرے پن کے ساتھ کام شروع کیا‘ یہاں اس نے اپنی خفیہ سوسائٹی کا مکمل نظام مرتب کیا اور محبت اہل بیت اور حمایت علی رضی اللہ عنہ کے اظہار کو خاص الخاص ذریعہ کامیابی بنایا‘ مصر کے گورنر عبداللہ بن سعد کی نسبت بھی مصریوں کو اور وہاں کے مقیم عربوں کو شکایات تھیں‘ عبداللہ بن سعد کو افریقہ بربر‘ نیز قیصر قسطنطنیہ کے معاملات کی وجہ سے داخلی باتوں کی طرف زیادہ متوجہ رہنے کی فرصت بھی نہ تھی۔
یہاں سے عبداللہ بن سبا نے اپنے بصرہ اور کوفہ کے دوستوں سے خط و کتابت جاری کی اور مقررہ و مجوزہ نظام کے موافق مصر‘ کوفہ اور بصرہ سے وہاں کے عاملوں کی شکایت میں مدینہ والوں کے پاس پیہم خطوط جانے شروع ہوئے‘ ساتھ ہی بصرہ والوں کے پاس کوفہ اور مصر سے خطوط پہنچے کہ یہاں کے گورنروں نے بڑے ظلم پر کمر باندھ رکھی ہے‘ اور رعایا پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے‘ اسی طرح بصرہ اور کوفہ سے مصر والوں کے پاس اور بصرہ و مصر و دمشق سے کوفہ والوں کے پاس خطوط پہنچنے لگے‘ چونکہ کسی جگہ بھی عاملوں اور گورنروں کے ہاتھ سے رعایا پر ظلم نہ ہوتا تھا‘ لہذا ہر جگہ کے آدمیوں نے یہ سمجھا کہ ہم سے زیادہ اور تمام صوبوں پر ظلم و تشدد اور بے انصافی روا رکھی جا رہی ہے اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ظالمانہ طور پر اپنے عاملوں اور گورنروں کو ان کے عہدے پر بحال رکھنے اور معزول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔۱؎ چوں کہ ہر ایک صوبے اور ہر ایک علاقے سے مدینہ منورہ میں بھی برابر خطوط پہنچ رہے تھے لہذا سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو مصر کی جانب اور محمد بن مسلمہ کو کوفے کی طرف روانہ کیا کہ وہاں کے حالات دیکھ کر آئیں اور صحیح اطلاع دربار خلافت میں پہنچائیں‘ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ جب مصر میں پہنچے تو وہاں کے ان لوگوں نے جو عبداللہ بن سعد گورنر مصر سے ناخوش تھے‘ اور ان لوگوں نے جو عبداللہ بن سبا کی جماعت سے تعلق رکھتے تھے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو اپنا ہم نوا و ہم خیال بنا لیا اور ان کو مدینہ منورہ میں واپس جانے سے یہ کہہ کر روک لیا کہ سیدنا عثمان دیدہ و دانستہ ظلم و ستم کو روا رکھتے ہیں‘ ان کی امداد و مصاحبت سے پرہیز کرنا مناسب ہے۔ ۲؎ محمد بن مسلمہ نے کوفہ پہنچ کر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی کہ یہاں کے عوام بھی‘ اور بعض شرفاء‘ بھی علانیہ زبان درازی اور طعن و تشنیع پر زبان کھولتے اور عذر و بغاوت کے علامات کا اظہار کر رہے ہیں۔
انہیں ایام میں اشعث بن قیس‘ سعد بن قیس صائب بن اقرع‘ مالک بن حبیب‘ حکیم بن سلامت‘ جریر بن عبداللہ‘ سلمان بن ربیعہ وغیرہ حضرات جو صاحب اثر اور عزم و ہمت کے وارث اور خلافت اسلامیہ کے حامی تھے کوفہ سے دوسرے مقامات کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔
سعید بن العاص نے ہر طرف شورش اور لوگوں کی زبانوں پر علانیہ شکایات کو دیکھ کر قعقاع بن عمرو کو اپنا قائم مقام بنایا اور کوفہ سے مدینہ کا عزم کیا کہ خلیفہ وقت کو جا کر خود زبانی تمام حالات سنائیں اور اندیشہ و خطرہ کی پوری کیفیت سمجھائیں‘ سعید بن العاص کے روانہ ہونے کے بعد کوفہ کے لوگوں نے مالک اشتر وغیرہ کو جو حمص میں مقیم تھے لکھا کہ آج کل کوفہ بالکل خالی ہے جس طرح ممکن ہو اپنے آپ کو کوفہ میں پہنچا دیں‘ کوفہ میں بارعب عمال خلافت کے موجود نہ رہنے کے سبب عوام کی زبانیں بالکل بے لگام ہو گئیں اور علانیہ لوگ عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کے عاملوں کو برا کہنے اور طعن و تشنیع کرنے لگے۔۱؎ اس ہنگامہ نے یہاں تک ترقی کی کہ یزید بن قیس کوفہ والوں کی ایک جمعیت ہمراہ لے کر اس ارادے سے نکلا کہ مدینہ میں پہنچ کر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خلع خلافت پر مجبور کرے‘ قعقاع بن عمرو یہ دیکھ کر سدراہ ہوئے‘ اور ایک جمعیت اپنے ہمراہ لے جا کر یزید بن قیس کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے۔
یزید نے قعقاع بن عمرو کی منت سماجت کر لی اور کہا کہ مجھ کو سعید بن العاص رضی اللہ عنہ سے بعض شکایات ہیں‘ اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ سعید بن العاص کو کوفہ کی گورنری سے معزول کرایا جائے‘ قعقاع بن عمرو نے یزید کو چھوڑ دیا‘ لیکن اس کے بعد ہی مالک اشتر اپنی جمعیت کے ساتھ حمص سے کوفہ میں پہنچ گیا‘ ان لوگوں کے کوفے پہنچنے پر شورش پسندوں میں ایک تازہ قوت اور جوش پیدا ہوا‘ مالک اشتر نے علانیہ لوگوں کو یزید بن قیس کی جماعت میں شامل ہونے کی ترغیب دی اور خود بھی یزید بن قیس کے لشکریوں میں شامل ہو کر کوفہ سے روانہ ہوا‘ قعقاع اس جمعیت کا مقابلہ نہ کر سکے‘ یہ لوگ کوفہ سے روانہ ہو کر قادسیہ کے قریب مقام جرعہ میں پہنچے۔