سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

ایران میں تغیرات انتظامی

۲۷ھ کے ابتدائی ایام میں بصرہ والوں نے اپنے گورنر سیدنا ابوموسیٰ اشعری کی شکایت مدینہ میں آ کر خلیفہ وقت سے کی‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بصرہ کی حکومت سے معزول کر کے اپنے ماموں زاد بھائی عبداللہ بن عامر بن کرزبن ربیعہ بن حبیب بن عبدشمس کو مقرر فرما دیا‘ اس وقت عبداللہ بن عامر کی عمر قریباً پچیس سال کی تھی‘ ان کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے نہ صرف ابو موسیٰ اشعری کے لشکر کی بلکہ عثمان بن ابی العاص ثقفی والی عمان و بحرین کے لشکر کی بھی سرداری سپرد کی۔ عبیداللہ بن معمر خراسان کے گورنر تھے‘ ان کو وہاں سے خلیفہ وقت نے تبدیل کر کے فارس کے صوبہ کی گورنری تفویض کی ‘ اور خراسان کی حکومت پر عمیر بن عثمان بن سعد رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا‘ عمیر بن عثمان نے خراسان پہنچتے ہی نہایت ہی مستعدی اور قوت کے ساتھ ملک کا انتظام کیا اور فرغانہ تک علاقہ پر قبضہ کر لیا‘ ۲۷ ھ کے شروع میں عمیر بن عثمان خراسان کی گورنری سے معزول ہوئے ان کی جگہ ابن احمر مامور ہوئے اور عبدالرحمن بن عبس کرمان کی حکومت پر مقرر کئے گئے‘ چند روز کے بعد کرمان کی گورنری سے عبدالرحمن معزول ہوئے اور ان کی جگہ عاصم بن عمرو مقرر ہوئے اور سجستان کی گورنری عمران بن النفیل کو دی گئی۔