سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
مصر کے واقعات و تغیرات
سیدنا عبداللہ بن سعد المعروف بہ ابن ابی سرح سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے رضائی بھائی تھے عہد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں ایک مرتبہ مرتد ہو کر پھر صدق دل سے مسلمان ہوئے تھے‘ سیدنا عثمان غنی نے ان کو مصر کا عامل اور افسر خزانہ بنا کر بھیجا اور عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کو صرف فوجی افسر رکھا۔ ان فوجی و ملکی افسروں میں ناچاقی پیدا ہوئی اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس ناچاقی سے مطلع ہو کر ۲۶ ھ میں سیدنا عمرو بن العاص کو قطعاً معزول و برطرف کر کے عبداللہ بن سعد کو مصر و اسکندریہ میں کامل اختیارات دے دئیے‘ اگرچہ سیدنا عبداللہ بن سعد بھی عرب کے مشہور بہادروں اور شہسواروں میں شمار ہوتے تھے لیکن وہ سیدنا عمر و بن العاص کی طرح نہ تجربہ کار تھے نہ مصر میں سیدنا عمرو کی سی ہردل عزیزی حاصل کر سکتے تھے۔
سیدنا عمرو کے معزول ہونے سے اہل مصر کو سخت صدمہ ہوا اور وہ اپنے نئے حاکم یعنی عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہو گئے‘ قیصر قسطنطین نے جب مصر کا یہ حال اور سیدنا عمر و بن العاص کے معزول ہونے کی کیفیت سنی تو اس نے اپنے ایک زبردست اور تجربہ کار سپہ سالار کو ایک زبردست فوج دے کر کشتیوں کے ذریعہ اسکندریہ کی جانب روانہ کر دیا‘ شہر میں رومی یعنی یونانی لوگ تھے وہ سب اس رومی فوج سے مل گئے‘ غرض کچھ معمولی سی زدو خورد اور خوں ریزی کے بعد اسکندریہ رومی فوج کے قبضہ میں آ گیا۔
یہ خبر سن کر سیدنا عثمان غنی نے سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو پھر مصر کا گورنر مقرر کر کے روانہ کیا‘ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس ملک میں آتے ہی رومی فوج کے مقابلے کی ایسی تیاریاں کیں اور اس طرح مقابلہ کیا کہ رومیوں کو سخت نقصان برداشت کرنے کے بعد اسکندریہ چھوڑ کر بھاگنا پڑا‘ اب کی مرتبہ عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے اسکندریہ کو تیسری مرتبہ فتح کیا تھا‘ اور اس مرتبہ اسکندریہ کے فتح کرنے سے پہلے قسم کھائی تھی کہ تمام شہر کو ویران و مسمار کر دوں گا‘ لیکن فتح کے بعد انہوں نے اپنے لشکر کو خوں ریزی اور قتل و غارت سے قطعاً روک دیا‘ جس جگہ لشکر کو قتل و غارت کی ممانعت کا حکم دیا تھا‘ اس جگہ ایک مسجد تعمیر کرا دی جس کا نام مسجد رحمت مشہور ہوا۔
جب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ملک مصر پر پورے طور پر قابض و متصرف ہو گئے اور تمام انتظامات ملکی بھی مکمل ہو گئے‘ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ وقت نے سیدنا عمروبن العاص کو مصر کی حکومت سے معزول کر کے ان کی جگہ سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کو پھر مصر کا گورنر مقرر کر دیا‘ اس مرتبہ سیدنا عمرو کو اپنے معزول ہونے کا صدمہ ہوا‘ ادھر عبداللہ کو بھی اپنے مامور مقرر ہونے کا رنج ہوا‘کیونکہ وہ مصر کی بگڑی ہوئی حالت کو خود نہ سنبھال سکے تھے اس کو عمرو بن العاص نے سدھارا اور اس کے بعد پھر ملک کی حکومت ان کو دے دی گئی‘ اب عبداللہ بن سعد کو یہ فکر ہوئی کہ کسی طرح اپنی گذشتہ بدنامی کی تلافی کروں۔