سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
جنگ نہاوند
فتح مدائن دجلو لاء کے بعد یزدجرد مقام رے میں جا کر مقیم ہوا تھا وہاں کے مرزبان مسمی آبان جادویہ نے یزدجرد کے قیام کو اپنی حکومت و اختیار کے منافی دیکھ کر بے وفائی کی علامات کا اظہار کیا اور یزد جرد رے سے روانہ ہو کر اصفہان چلا گیا‘ اصفہان کے چند روز قیام کے بعد کرمان کی طرف آیا‘ وہاں سے پھر اصفہان میں‘ جب مسلمانوں نے صوبہ اہواز پر تصرف کیا تو یزد جرد مشرقی ایران یعنی خراسان کے شہر مرو میں آ کر مقیم ہوا‘ یہاں اس نے ایک آتش کدہ بنوایا اور اطمینان کے ساتھ رہنے لگا‘ اس کا خیال تھا کہ اہل عرب اب آگے نہ بڑھیں گے‘ اور سرحدی مقامات تک ان کی فتوحات کا سلسلہ ختم ہو جائے گا‘ لیکن اہواز کے تمام و کمال مسلمانوں کے قبضہ میں چلنے جانے اور ہرمزان کے گرفتارہو کر مدینہ چلے جانے کی خبر سن کر اس کو طیش آ گیا اور وہ پھر ایک مرتبہ پوری قوت کے ساتھ مسلمانوں کے استیصال کی غرض سے فوجوں کے فراہم کرنے میں مصروف ہوا‘ اس نے اطراف و جوانب کے امراء کو خطوط لکھے اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے غیرتیں دلا کر آمادہ و مستعد بنایا۔
چنانچہ یزدجرد کی ان کوششوں کے نتیجہ میں یکایک طبرستان‘ جرجان‘ خراسان اصفہان‘ ہمدان‘ سندھ وغیرہ ملکوں اور صوبوں میں مسلمانوں کے خلاف سخت جوش اور مستعدی پیدا ہوئی اور جوق در جوق لشکری لوگ یزدجرد کی خدمت میں آ آ کر جمع ہونے لگے‘ یزد جرد نے فیروز اور بقول دیگر مروان شاہ کو سپہ سالار بنا کر ڈیڑھ لاکھ لشکر جرار کے ساتھ نہاوند کی طرف روانہ کیا‘ یہاں یہ ڈیڑھ لاکھ لشکر جمع ہو رہا تھا اور ادھر مدینہ منورہ میں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بلاد ایران میں پیش قدمی کی اجازت مسلمانوں کو دے چکے تھے‘ انہیں ایام میں مدینے کے اندر خبر پہنچی کہ ڈیڑھ لاکھ کا لشکر جمع ہو گیا ہے۔
فاروق اعظم نے اس لشکر کے مقابلے کے خود جانے کا ارادہ کیا‘ لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ نے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے جانے کو مناسب نہ سمجھ کر اس رائے سے اختلاف کیا‘ فاروق اعظم نے ان بزرگوں کی رائے کو منظور کر کے کوفہ کی افواج کا سپہ سالار نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو مقرر کر کے حکم دیا کہ کوفہ کے قریب کسی چشمہ پر جا کر قیام کرو۔
ان ایام میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں اپنے پاس بلوایا ہوا تھا‘ وہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے‘ ان سے دریافت کیا گیا کہ تم کوفہ میں کس کو اپنا قائم مقام بنا کر آئے ہو‘ انہوں نے عرض کیا کہ عبداللہ بن عبداللہ بن عتبان کو‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عبداللہ بن عتبان کو حکم لکھ کر بھیجا کہ کوفہ کی افواج کو نعمان بن مقرن کے ساتھ روانہ کر دو‘ اور فلاں چشمہ پر نعمان بن مقرر کے پاس بھیج دو۔ انہوں نے اس حکم کی تعمیل میں حذیفہ بن الیمان اور نعیم بن مقرن کے ہمراہ فوج مرتب کر کے روانہ کر دی‘ ساتھ ہی اہواز کی مقیم افواج کو لکھ بھیجا کہ فارس و اصفہان کی ناکہ بندی کرو تاکہ اہل نہاوند کو ایرانی امداد نہ پہنچا سکیں۔
نعمان بن مقرن کے پاس جب فوجیں جمع ہو گئیں تو انہوں نے اپنے بھائی نعیم بن مقرن کو مقدمۃ الجیش کا افسر مقرر کیا‘ میمنہ حذیفہ بن الیمان کو دیا‘ میسرہ سوید بن مقرن کے سپرد کیا‘ پیادہ فوج پر قعقاع کو اور ساقہ پر مجاشع بن مسعود کو متعین و مامور کیا‘ اس تمام اسلامی لشکر کی تعداد تیس ہزار تھی‘ کوفہ سے روانہ ہو کر یہ لشکر نہاوند کی طرف برابر بڑھتا چلا گیا اور وہاں سے نو میل کے فاصلہ پر قیام کیا‘ ادھر سے ایرانی لشکر بھی جس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تھی میدان میں نکل آیا۔
چہار شنبہ کے روز لڑائی شروع ہو کر جمعرات تک جاری رہی اور کوئی فیصلہ فتح و شکست کا نہ ہو سکا‘ جمعہ کے روز سے ایرانی پھر شہر اور شہر پناہ کے اندر چلے گئے‘ انہوں نے شہر کے باہر لوہے کے گوکھرو بچھا رکھے تھے جن کی وجہ سے اسلامی لشکر شہر کی فصیل کے قریب بھی نہیں جا سکتا تھا اور ایرانی جب چاہتے دروازوں سے نکل کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے‘ یہ رنگ دیکھ کر نعمان نے سرداران لشکر کو اپنے خیمہ میں بغرض مشورہ طلب کیا‘ اور ہر ایک سے لڑائی کے متعلق رائے لی گئی‘ سیدنا طلیحہ بن خالد کی رائے سب کو پسند آئی اور اسی کے موافق اسلامی فوج مرتب و مسلح ہو کر چھ سات میل شہر سے پیچھے ہٹ کر مقیم ہوئی‘ اور قعقاع تھوڑی سی فوج لے کر شہر والوں پر حملہ آور ہوئے ایرانی اس تھوڑی سی فوج کو حملہ آور دیکھ کر بڑے جوش و خروش کے ساتھ مقابلہ کو نکلے‘ سیدنا قعقاع نے ایرانیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا شروع کیا‘ ایرانی فتح کی خوشی میں ان کی جمعیت کو دباتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے چلے آئے یہاں تک کہ اپنی خندقوں وغیرہ سے بہت فاصلہ پر آ کر اسلامی لشکر اور تازہ دم فوج کی زد پر آ گئے‘ نعمان بن مقرن اور ان کے ساتھ تمام اسلامی لشکر نے نعرہ تکبیر کے ساتھ یکایک حملہ کیا تو ایرانی لشکر نہایت بے سروسامانی کے ساتھ بھاگا‘ اور مسلمانوں نے بے دریغ ان کو قتل کرنا شروع کیا‘ عین معرکہ قتال کی شدت کے عالم میں سیدنا نعمان بن مقرن زخمی ہو کر گھوڑے سے گرے‘ ان کے بھائی نعیم بن مقرن نے فوراً اپنے بھائی کے کپڑے پہن کر علم ہاتھوں میں لے لیا‘ اور لشکر والوں کو آخر تک اپنے سپہ سالار کے شہید ہونے کا حال معلوم نہ ہوا‘ ایرانی لشکر جو میدان سے سراسیمہ ہو کر بھاگا اور ان گو کھروں سے جو مسلمانوں کے لیے بچھائے تھے اپنے آپ کو نہ بچا سکا اور خود ان گوکھروں میں مبتلا ہو کر ہزاروں ایرانی ہلاک ہوئے‘ ایرانی سردار نہاوند سے بھاگے اور تمام بھگوڑے ہمدان میں جا کر جمع ہوئے‘ نعیم و قعقاع نے ان فراریوں کا پاشنہ کوب پہنچ کر ہمدان کا محاصرہ کر لیا اور بآسانی ہمدان پر اسلامی قبضہ ہو گیا‘ سیدنا نعمان کی شہادت کے بعد سیدنا حذیفہ بن الیمان لشکر اسلام کے سپہ سالار مقرر ہوئے تھے‘ انہوں نے نہاوند پہنچ کر مال غنیمت جمع کیا‘ یہاں کے آتش کدے کو بجھایا۔
ایک موبد نے خود سیدنا حذیفہ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیش قیمت جواہرات کا ایک صندوقچہ جو اس کے پاس شاہی امانت کے طور پر رکھا تھا پیش کیا‘ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مال غنیمت لشکر میں تقسیم کیا اور خمس کے ساتھ وہ جواہرات کا صندوقچہ بھی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سائب بن الاقرع کے ہاتھ روانہ کیا‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو چند روز سے کوئی خبر جنگ کی نہیں پہنچی تھی‘ وہ بہت منتظر و پریشان تھے کہ سائب بن الاقرع خمس مع جواہرات اور فتح کی خوشخبری لے کر پہنچے‘ فاروق اعظم بہت خوش ہوئے جواہرات کو بیت المال میں داخل کرا کر سائب کو واپس جانے کا حکم دیا۔
سائب کوفہ میں داخل ہی ہوئے تھے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا فرستادہ قاصد بھی ان کے پیچھے کوفہ میں داخل ہوا اور سائب کو پھر مدینہ کی طرف لوٹا کر لے گیا‘ فاروق اعظم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ فرشتے ان جواہرات کے رکھ لینے پر مجھ کو عذاب کی دھمکی دیتے ہیں‘ لہذا میں ان کو بیت المال میں ہرگز نہ رکھوں گا‘ تم ان جواہرات کو لے جائو اور فروخت کر کے ان کی قیمت لشکر اسلام پر تقسیم کر دو‘ سائب نے کوفہ میں ان جواہرات کو عمرو بن حریث مخزومی کے ہاتھ دو لاکھ درہم پر فروخت کیا اور وہ دو لاکھ درہم مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے‘ سیدنا عمروبن حریث نے ان جواہرات کو فارس میں لے جا کر چار لاکھ درہم میں فروخت کر دیا‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا قاتل ابولولو نہاوند کا باشندہ تھا اور اسی لڑائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔