سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا حسن سلوک

فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کہ تو جھوٹ بولتا ہے‘ ہم نے تجھ کو امان نہیں دی‘ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فوراً بول اٹھے کہ امیرالمومنین ہرمزان سچ کہتا ہے‘ آپ نے ابھی فرمایا ہے کہ جب تک پورا حال نہ کہہ لو گے اور پانی نہ پی لو گے کسی خطرہ میں نہ ڈالے جائو گے‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سن کر حیران رہ گئے اور ہرمزان سے مخاطب ہو کر بولے کہ تم نے مجھے دھوکا دیا ہے‘ مگر میں تم کو کوئی دھوکا نہ دوں گا‘ مناسب ہے کہ تم مسلمان ہو جائو‘ ہرمزان نے اسی وقت کلمہ توحید پڑھا‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے‘ ہرمزان کو مدینے میں رہنے کی جگہ دی‘ دو ہزار سالانہ تنخواہ مقرر کر دی‘ اور اس کے بعد مہم فارس میں اکثر ہرمزان سے مشورہ لیتے رہتے تھے اس کے بعد فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے انس بن مالک اور احنف بن قیس وغیرہ ارکان سفارت سے مخاطب ہو کر کہا کہ شاید تم لوگ ذمیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے ہو‘ اسی لیے یہ بار بار بغاوت اختیار کرتے ہیں۔ یہ سن کر سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ نے جواباً عرض کیا کہ امیر المومنین ہم ہمیشہ اپنے وعدوں کا ایفاء کرتے اور ذمیوں کے ساتھ نہایت رافت و محبت کا برتائو کرتے ہیں‘ لیکن ان لوگوں کی بار بار بغاوت و سرکشی کا سبب صرف یہ ہے کہ آپ نے ہم کو بلاد فارس میں آگے بڑھنے کی ممانعت کر دی ہے‘ اہل فارس کا بادشاہ یزدجرد فارس کے ملک میں زندہ موجود ہے‘ جب تک یزدجرد فارس کے ملک میں زندہ و سلامت موجود رہے گا اس وقت تک اہل فارس لڑنے اور ہمارا مقابلہ کرنے سے کبھی باز نہ آئیں گے۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے احنف کے کلام کی تصدیق کی اور اس کے بعد بلاد فارس میں اسلامی فوجوں کو پیش قدمی کی اجازت دے دی۔