سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

بصرہ کوفہ

۱۴ ھ سے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو سردار لشکر کی رپورٹوں اور عراق کی طرف سے آنے والے سپاہیوں کے معائنہ سے اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ عربوں کو عراق کی آب و ہوا موافق نہیں آتی‘ چنانچہ آپ نے احکام جاری کئے کہ اہل عرب کے لیے ایسی چھائونیاں قائم کی جائیں جن کی آب و ہوا ملک عرب سے بہت مشابہ اور صحت بخش ہو تاکہ فوجیں جب لڑائی کے کام سے فارغ ہوا کریں تو ان چھائونیوں میں آ کر قیام کیا کریں‘ اسی زمانہ میں بصرہ کے مقام پر فوجی چھائونی دجلہ کے قریب قائم کی گئی‘ اس چھائونی میں صرف پھوس کے چھپر تھے اور جب لشکری لوگ کسی مہم پر جاتے تو ان چھپروں کو آگ لگا جاتے تھے واپس آ کر پھر اپنی ضرورت کے موافق چھپر ڈال لیتے تھے۔ ۱۷ ھ میں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بصرہ میں مکانات بنائے اور ایک دوسری چھائونی کوفہ کے آباد کرنے کی منظوری دی‘ اسی سال بصرہ میں میں مکانات بننے شروع ہوئے اور اسی سال کوفہ کی آبادی شروع ہوئی‘ ان دو مقامات کی آب و ہوا عربوں کو بہت موافق آئی اور چند روز کے بعد یہ دونوں شہر اسلامی طاقت کے مرکز شمار ہونے لگے۔