سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
قبیلہ ایاد کی واپسی
اسی سال جبکہ پورے صوبہ جزیرہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا تو وہاں سے قبیلہ ایاد جو عیسائی مذہب رکھتا تھا جلا وطن ہو کر ہرقل کے ملک میں چلا گیا اور وہاں سکونت اختیار کی‘ فاروق اعظم نے اس بات سے مطلع ہو کر ہر قل کو خط لکھا کہ
’’مجھ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ قبائل عرب سے ایک قبیلہ ہمارا ملک چھوڑ کر تمہارے شہروں میں چلا گیا ہے‘ اگر تم ان عربوں کو اپنے ملک سے نہ نکال دو گے تو ہم ان تمام عیسائیوں کو جو ہمارے ملک میں آباد ہیں نکال کر تمہارے پاس بھیج دیں گے‘‘۔
ہرقل نے اس فاروقی خط کو پڑھتے ہی فوراً قبیلہ ایاد کو جو چار ہزار نفوس پر مشتمل تھا اپنے علاقے سے نکال دیا‘ وہ شام اور جزیرہ میں واپس آ کر آباد ہو گے‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے عراق عجم پر حبیب بن مسلمہ کو‘ اور عراق عرب پر ولید بن عقبہ کو انتظامی افسر مقرر فرمایا تھا‘ ان عربوں کے واپس آنے پر ولیدبن عقبہ کو لکھا کہ ان لوگوں کو اسلام لانے پر مجبور نہ کرو‘ اگر وہ جزیہ دینا منظور کریں تو قبول کرلو۔
یہ بات کہ سوائے اسلام کے کوئی درخواست منظور نہ کی جائے گی جزیرۃ العرب مابین مکہ مدینہ اور یمن کے لیے مخصوص ہے‘ ہاں اس شرط کا ان لوگوں کو ضرور پابند بنائو کہ جن لڑکوں کے والدین مسلمان ہو گئے ہیں ان کو عیسائی نہ بنائیں یعنی مسلمانوں کی اولاد کو عیسائی بنانے کی کوشش نہ کریں اور جو مسلمان ہونا چاہے اس کو نہ روکیں۔
ولید بن عقبہ نے اس حکم فاروقی کی تعمیل کی‘ چند روز کے بعد قبیلہ ایاد نے ایک سفارت مدینہ منورہ میں بھیجی کہ ہم سے کوئی رقم جزیہ کے نام سے وصول نہ کی جائے‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ان کی درخواست کو منظور کر کے جزیہ سے دو چند رقم صدقہ کے نام سے وصول کرنے کا حکم وہاں کے عامل کو لکھ بھیجا اور قبیلہ ایاد نے اس کوبخوشی منظور کر لیا‘ چند روز کے بعد قبیلہ ایاد نے ولیدبن عقبہ کی شکایت کی تو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کر کے ان کی جگہ فرات بن حیان اور ہند بن عمرو الجملی کو مقرر فرمایا۔
اس جگہ یہ بات قابل تذکرہ ہے کہ صوبہ جزیرہ کی فتح کو بعض مورخین نے فتوحات شام میں شمار کیا ہے ‘ بہرحال عیاض بن غنم اور خالد بن ولید جو عیاض بن غنم کے کمکی بن کر آئے تھے سیدنا ابوعبیدہ کی افواج یعنی افواج شام سے آئے تھے‘ صوبہ جزیرہ کی فتح کو شام و عراق دونوں کی فتوحات میں شامل سمجھنا چاہیے۔