سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
فتح بغراس‘ مرعش‘ حدث
اب شام کی طرف سے مطمئن ہو کر اور تمام شہروں میں عامل مقرر کرنے اور فوجی دستے متعین فرما دینے کے بعد سیدنا ابوعبیدہ نے فلسطین کی طرف توجہ فرمائی اور ایک لشکر میسرہ بن مسروق کی سرداری میں مقام بغراس کو روانہ کیا جو علاقہ انطاکیہ میں ایشیائے کوچک کی سرحد پر ایک مقام تھا ‘ یہاں بہت سے عرب قبائل غسان‘ تنوخ ایاد وغیرہ آباد تھے اور عیسائی مذہب رکھنے کی وجہ سے فتح انطاکیہ کا حال سن کر ہرقل کے پاس جانے کی تیاریاں کر رہے تھے‘ میسرہ بن مسروق نے جاتے ہی ان پر حملہ کیا‘ بڑا بھاری معرکہ ہوا‘ سیدنا ابوعبیدہ نے انطاکیہ سے مالک بن اشتر نخعی کو میسرہ کی کمک پر روانہ کیا‘ اس نئی فوج کو آتے ہوئے دیکھ کر عیسائی گھبرا گئے اور حواس باختہ ہو کر بھاگے‘ سیدنا خالد بن ولید ایک چھوٹا سا لشکر لے کر مرعش کی طرف گئے اور عیسائیوں نے جلاوطنی کی اجازت حال کر کے شہر خالد بن ولید کے سپرد کر دیا‘ اسی طرح ایک لشکر لے کر حبیب بن مسلمہ قلعہ حارث کی طرف گئے اور اس کو فتح کیا۔