ملک عرب
آب و ہوا اور باشندے
ملک عرب میں کوئی مشہور اور قابل تذکرہ دریا‘ یا ندی نہیں ہے‘ قریباً تمام ملک خشک ریگستانی اور بنجر زمین پر مشتمل ہے‘ سمندر کے کنارے جو علاقے واقع ہیں ان میں کچھ سر سبزی اور آبادی ہے‘ پانی کی نایابی نے درمیانی حصوں میں انسانی آبادی کو غیر ممکن اور سخت دشوار بنا دیا ہے‘ تمام آباد علاقے ساحل سمندر پر واقع ہیں‘ صرف ایک نجد کا وسیع صوبہ ہے جو ربع خالی کے شمال اور وسط ملک میں واقع ہے‘ نجد ایک سطح مرتفع ہے جس میں بڑے بڑے ریگستان بھی واقع ہیں اور نجد کے ریگستانوں کا سلسلہ ملک شام کے وسیع ریگستانوں سے جا ملا ہے۔
ملک عرب میں جا بجا پہاڑوں کے سلسلے بھی واقع ہیں‘ لیکن کوئی پہاڑ سر سبزو شاداب نہیں‘ بحرقلزم کے ساحلی صوبے یعنی یمن اور حجاز وغیرہ باقی تمام صوبوں پرشادابی و سرسبزی میں فوقیت رکھتے ہیں‘ کل ملک عرب کی آبادی سوا کروڑ کے قریب بیان کی جاتی ہے۔۱؎ گویا فی مربع میل دس آدمی آباد ہیں۔ دھوپ سخت شدت سے پڑتی ہے‘ لو ایسی تندوتیز چلتی ہے کہ اس کا نام بھی سموم یا زہریلی ہوا رکھا گیا ہے‘ انسان کی تو حقیقت کیا ہے اونٹ جیسا ریگستانی جانور بھی سموم کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ اور باد سموم کے جھونکوں سے مر کر رہ جاتا ہے‘ اونٹ اس ملک میں بڑا کار آمد جانور ہے‘ سینکڑوں کوس مسافر کو پانی کا نام و نشان تک نہیں ملتا‘ اونٹ ریگستانی جہاز ہے اسی پر بڑے بڑے سفر طے کئے جاتے ہیں‘ کھجور کے سوا کوئی قابل تذکرہ پیداوار نہیں‘ اس ملک کے باشندے اونٹ کے دودھ اور کھجور کے پھل پر اپنی گزران کر لیتے ہیں ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ خانہ بدوشی کی حالت میں زندگی بسر کرتا ہے‘ اسی لیے بڑے بڑے شہر بہت کم ہیں۔۲؎ حالی مرحوم نے عرب کا نقشہ اس طرح تیار کیا ہے۔
عرب کچھ نہ تھا اک جزیرہ نما تھا!
کہ پیوند ملکوں سے جس کا جدا تھا
نہ وہ غیر قوموں پہ چڑھ کر گیا تھا
نہ اس پرکوئی غیر فرماں روا تھا
تمدن کا اس پر پڑا تھا نہ سایہ
ترقی کا تھا واں قدم تک نہ آیا
نہ آب و ہوا ایسی تھی روح پرور
کہ قابل ہی خود جس سے پیدا ہوں جوہر
نہ کچھ ایسے سامان تھے واں میسر
کنول جس سے کھل جائیں دل کے سراسر
نہ سبزہ تھا صحرا میں پیدا نہ پانیـ
فقط آب باراں پہ تھی زندگانی
زمیں سنگلاخ اور ہوا آتش افشاں
لوئوں کی لپٹ باد صر صر کے طوفاں
پہاڑ اور ٹیلے سراب اور بیاباں!
کھجوروں کے جھنڈ اور خار مغیلاں
نہ کھیتوں میں غلہ نہ جنگل میں کھیتی!
عرب اور کل کائنات اس کی یہ تھی!
اس کتاب کی گنجائش اوراق اس سے زیادہ جغرافیہ عرب کی نسبت کچھ لکھنے کی اجازت نہیں دیتی۔