سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

فتح بابل وکوثیٰ

ایرانیوں نے قادسیہ سے بھاگ کر بابل میں قیام کیا اور کئی نامور سرداروں نے مفرور لوگوں کو فراہم کر کے مقابلہ کی تیاریاں کیں‘ سیدنا سعد نے فتح کے بعد دو مہینے تک قادسیہ میں قیام فرمایا اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے حکم کا انتظار کیا‘ دربار خلافت سے احکام کے وصول ہونے پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اہل و عیال کو تو قادسیہ ہی میں چھوڑا اور خود لشکر اسلامی کے ساتھ مدائن کی جانب روانہ ہوئے‘ اپنی روانگی سے پہلے سیدنا زہرہ بن حیوۃ کو مقدمۃ الجیش بنا کر آگے روانہ کیا‘ زہرہ دشمنوں کو مارتے ہٹاتے محکوم بناتے ہوئے بڑھے چلے جاتے تھے‘ یہاں تک کہ بابل کے قریب پہنچے‘ یہاں سیدنا سعد بھی اپنی پوری فوج لے کر آپہنچے۔ ایرانی سرداروں نے سیدنا سعد کے آنے کی خبر سنی تو وہ بابل میں قیام نہ کر سکے‘ کچھ مدائن کی طرف چل دئے‘ کچھ ہواز اور نہاوند کی جانب چلے گئے اور راستے میں تمام پلوں کو توڑتے اور دریائے دجلہ اور اس کی نہروں اور ندیوں کو ناقابل عبور بناتے ہوئے گئے‘ ایرانیوں کے فرار و منتشر ہو جانے کی خبر سن کر سیدنا سعد نے سیدنا زہرہ کو حسب دستور آگے روانہ کیا اور خود بھی ان کے پیچھے بڑے لشکر کولے کر متحرک ہوئے‘ سیدنا زہرہ جب مقام کوثیٰ پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہاں ایرانیوں کا مشہور سردار شہریار مقابلہ پر آمادہ ہے۔ کوثی وہ مقام ہے جہاں نمرود نے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو قید کیا تھا‘ قید خانہ کی جگہ اس وقت تک محفوظ تھی‘ شہریار سیدنا زہرہ کے قریب پہنچنے کا حال سن کر کوثی سے باہر نکلا‘ اورمسلمانوں کے مقابل صف آرا ہو کر میدان میں آگے بڑھ کر للکارا کہ تمہارے سارے لشکر میں جو سب سے زیادہ بہادر جنگ جو ہو وہ میرے مقابلے پر آئے‘ یہ سن کر سیدنا زہرہ نے جواب دیا کہ میں خود تیرے مقابلہ پر آنے کو تیار تھا‘ لیکن اب تیری یہ لن ترانی سن کر تیرے مقابلے پر اس لشکر میں سے کسی ادنیٰ ترین غلام کو بھیجتا ہوں کہ وہ تیرے غرور کا سر نیچا کر دے۔ یہ کہہ کر آپ نے نائل بن جعشم اعرج کو جو قبیلہ بنو تمیم کا غلام تھا اشارہ کیا‘ سیدنا نائل بن جعشم فوراً گھوڑا اڑا کر میدان میں شہریار کے مقابل پہنچے‘ شہریار ان کو نہایت کمزور دیکھ کر ان کی طرف بھاگا اور گردن پکڑ کر کھینچا اور زمین پر گرا کر ان کی چھاتی پر چڑھ بیٹھا‘ اتفاقاً شہریار کا انگوٹھا سیدنا نائل کے منہ میں آ گیا‘ انہوں نے اس کو اس زور سے چبایا کہ شہریار بیتاب ہو گیا اور سیدنا نائل فوراً اٹھ کر اس کے سینے پر چڑھ بیٹھے اور بلا توقف خنجر نکال کر اس کا پیٹ چاک کر دیا‘ شہر یار کے مارے جاتے ہی تمام ایرانی فوجیں بھاگ پڑی‘ شہریار کی زرہ‘ قیمتی پوشاک‘ زریں تاج اور ہتھیار سب نائل کو ملے‘ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے پہنچ کر شہریار کے مارے جانے اور کوثی کے فتح ہونے کا حال سنا اور اس مقام کو جا کر دیکھا جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام قید رہے تھے‘ پھر سیدنا نائل کو حکم دیا کہ شہریار کی پوشاک پہن کر اورشہریار کے تمام ہتھیار لگا کر آئیں‘ چنانچہ اس حکم کی تعمیل ہوئی اور لشکر اسلام اس نظارہ کو دیکھ کر خدئے تعالیٰ کی حمدو ثنا میں مصروف ہوا۔