سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
جنگ بویب
سیدنا فاروق اعظم کو جب ابوعبیدہ بن مسعود ثقفی کی شہادت‘اور مسلمانوں کے نقصان عظیم کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے خاص اہتمام کے ساتھ ایرانیوں کے مقابلہ کی تیاریاں شروع کیں‘ قبائل کی طرف قاصد بھیجے اور لوگوں کو لڑائی کے لیے ترغیب دی‘ چنانچہ متعدد قبائل فاروق اعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مدینہ منورہ سے مثنی بن حارثہ کی امداد کے لیے عراق کی طرف روانہ کئے گئے‘ سیدنا مثنی نے بھی عراق عرب میں فوجی بھرتی جاری کر کے ایک نئی فوج عراق عرب کی مرتب فرما لی تھی۔
ان تیاریوں کا حال دوبارہ ایران کو معلوم ہوا تو وہاں سے رستم (ایران کا وزیراعظم اور وزیر جنگ) نے مہران ہمدانی کو سالار جنگ بنا کر بارہ ہزار انتخابی فوج کے ساتھ روانہ کیا‘ مہران کے انتخاب کی وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے ملک عرب میں تربیت و پرورش پائی تھی‘ اور وہ اہل عرب کی اور عربی لشکر کی صحیح قوت کا اندازہ کر سکتا تھا‘ سیدنا مثنی نے مہران ہمدانی کی روانگی کا حال سن کر اپنی تمام افواج کو دریائے فرات کے کنارے مقام بویب میں مجتمع کیا‘ مہران بھی بویب کے بالمقابل فرات کے دوسرے کنارے پہنچ کر خیمہ زن ہوا اور مثنی کے پاس پیغام بھیجا کہ تم خود دریائے فرات کو عبور کر کے اس طرف آئو یا ہم کو دریائے فرات کے عبور کرنے کا موقع دو کہ ہم اس طرف آ کر صفوف آراستہ کریں‘ سیدنا مثنی چوں کہ گذشتہ جنگ میں دریا کے عبور کرنے کا تلخ تجربہ دیکھ چکے تھے‘ لہذا انہوں نے جواباً کہلا بھیجا کہ تم ہی فرات کو عبور کر کے اس طرف آ جائو‘ چنانچہ مہران اپنی تمام ایرانی افواج اور جنگی ہاتھیوں کو لے کر دریا کے اس طرح آیا‘ اور سب سے آگے پیادوں کو رکھ کر ان کے پیچھے ہاتھیوں کی صفوں کو کھڑا کیا‘ جن پر تیر انداز سوار تھے‘ داہنے‘ بائیں سواروں کے دستے تھے۔
ادھر سے اسلامی فوج بھی مقابلہ کے لیے صف بستہ ہو کر تیار ہو گئی‘ ایرانیوں نے حملہ کیا‘ مسلمانوں نے ان کا بڑی پامردی و جواں مردی کے ساتھ مقابلہ کیا‘ طرفین سے خوب خوب داد شجاعت دی گئی‘ بالآخر لشکر ایران کو مسلمانوں کے مقابلہ میں شکست حاصل ہوئی‘ جب ایرانیوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا تو مثنی بن حارثہ سپہ سالار اسلام نے دوڑ کر پل کو توڑ دیا تاکہ ایرانی بہ آسانی دریا کو عبور کر کے نہ بھاگ سکیں‘ نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے ایرانی قتل اور بہت سے غرق دریا ہوئے‘ مہران ھمدانی میدان جنگ میں مارا گیا‘ ایرانی لشکر کے قریباً ایک لاکھ آدمی (بروایت ابن خلدون) اس لڑائی میں مقتول ہوئے‘ اور مسلمانوں کے لشکر سے صرف سو آدمی شہید ہوئے‘ ایرانی لشکر سے جو لوگ بچ کر بھاگے ان کا تعاقب مسلمانوں نے مقام ساباط تک کیا۔ اس لڑائی کے بعد سواد سے دجلہ تک کا تمام علاقہ مسلمانوں کے قبضہ و تصرف میں آ گیا‘ یہ لڑائی ماہ رمضان ۱۳ھ میں ہوئی۔