سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
فتح دمشق
جنگ یرموک میںرومی لشکر شکست فاش کھا کربھاگا اور مقام فحل میںجا کر رکا‘ ہرقل نے احکام جاری کئے جن کے موافق فحل میں بھی اور دمشق میں بھی عظیم رومی لشکر مقابلہ کے لیے فراہم ہو گئے‘ دمشق کی خوب مضبوطی کر لی گئی اور فلسطین و حمص کی طرف سے بوقت ضرورت دمشق والوں کو مزید کمک بھیجنے کا مزید اہتمام بھی ہو گیا‘ افواج دمشق کا سپہ سالار اعظم ہرقل نے نسطاس بن نسطورس کو مقرر کیا اور ماہان نامی بطریق گورنر سپہ سالار پہلے سے وہاں موجود تھا‘ اسلامی لشکر ابھی یرموک ہی میں خیمہ زن تھا‘ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بن الجراح نے فاروق اعظم کے حکم کے موافق لشکر عراق پر جو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عراق سے آیا تھا‘ ہاشم بن رضی اللہ عنہ عتبہ کو امیر مقرر کر کے عراق کی جانب روانہ کر دیا‘ ایک دستہ فوج فحل کی جانب روانہ کیا‘ باقی فوج کے چند حصے کر کے ایک حصہ ذوالکلاع رضی اللہ عنہ کی سرداری میں روانہ کیا تاکہ دمشق اور حمص کے درمیان مقیم رہ کر اس فوج کو جو ہرقل حمص سے دمشق والوں کی کمک کو روانہ کرے روکیں‘ ایک حصہ کو فلسطین و دمشق کے درمیان متعین کیا کہ فلسطین کی طرف سے رومی فوجوں کو دمشق کی جانب نہ آنے دیں‘ باقی فوج کو لے کر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ خود دمشق کی جانب متوجہ ہوئے‘ دمشق پہنچنے سے پہلے مقام غوطہ کو فتح کیا‘ آخرم اہ رجب ۱۳ ھ میں اسلامی لشکر نے دمشق کا محاصرہ کر لیا۔
شہر میں کافی فوج تھی‘ لیکن رومیوں کی جرات نہ ہوئی کہ میدان میں نکل کر مسلمانوں کا مقابلہ کرتے‘ انہوں نے شہر کی مضبوط فصیلوں اور اپنے سامان مدافعت کی پناہ لینی مناسب سمجھی‘ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح باب الجابیہ کی جانب خیمہ زن ہوئے‘ سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ باب توما کی جانب اترے‘ سیدنا شرجیل بن حسنہ فراویس کی جانب اور یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ باب صغیر و باب کیسان کی جانب فروکش ہوئے‘ اس طرح دمشق کے چاروں طرف اسلامی لشکر نے محاصرہ ڈال دیا‘ محصورین شہر کی فصیلوں پر چڑھ کر کبھی پتھروں کی بارش منجنیقوں کے ذریعہ کرتے‘ کبھی تیروں کا مینہ برساتے‘ مسلمان بھی ان کے جواب دینے میں کوتاہی نہ کرتے‘ اس طرح یہ محاصرہ ماہ رجب ۱۳ ھ سے ۱۶ محرم ۱۴ ھ تک چھ مہینے جاری رہا ہرقل نے حمص سے دمشق والوں کی کمک کے لیے جو فوجیں روانہ کیں ان کو ذوالکلاع رضی اللہ عنہ نے دمشق تک نہ پہنچنے دیا‘ کیونکہ وہ اسی غرض کے لیے دمشق و حمص کے درمیان مقیم تھے‘ جب چھ مہینے گذر گئے تو دمشق والے ہرقل کی امداد سے مایوس ہو گئے اور ان میں مقابلہ کرنے کا جوش کم ہونے لگا تو سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اس حالت سے بروقت مطلع ہو کر اور محاصرہ کو طول دینا مناسب نہ سمجھ کر ہر سمت کے سرداروں کو حکم دیا کہ کل شہر پر حملہ آوری شروع ہو گی۔
مسلمانوں کی اس جنگی تیاری اور حملہ آوری کا حال معلوم کر کے امراء دمشق کے ایک وفد نے باب تو ماکی جانب سے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر امان طلب کی‘ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کو امان نامہ لکھ دیا اور بلا مقابلہ شہر کے اندر داخل ہوئے‘ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جو امان نامہ دمشق والوں کو لکھ کر دیا اس کا مضمون اس طرح تھا۔
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے دمشق والوں کو یہ رعایتیں دی ہیں کہ جب اسلامی لشکر دمشق میں داخل ہو گا تو دمشق والوں کو امان دی جائے گی‘ ان کی جان و مال اور گرجوں پر کوئی تصرف نہ کیا جائے گا‘ نہ شہر دمشق کی شہر پناہ منہدم کی جائے گی‘ نہ کسی مکان کو مسمار و منہدم کیا جائے گا‘ اسلامی لشکر کا کوئی شخص شہر والوں کے کسی مکان میں سکونت اختیار نہ کرے گا‘ مسلمان اور ان کا خلیفہ بجز نیکی کے کوئی برا سلوک دمشق والوں سے نہ کریں گے جب تک کہ دمشق والے جزیہ ادا کرتے رہیں گے۔
ادھر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ صلح نامہ کے ذریعہ شہر میں داخل ہوئے‘ ٹھیک اسی وقت باقی ہرسہ جوانب سے اسلامی سردار سیڑھیاں لگا لگا کر اور دروازے توڑ توڑ کر قہر و غلبہ کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے‘ وسط شہر میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی‘ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم نے شہر کو بزور شمشیر فتح کیا ہے‘ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے بمصالحت شہر پر قبضہ کیا ہے‘ بعض روایات کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ بطریق ماہان نے خود امراء دمشق کو بھیج کر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے عہد نامہ لکھوایا تھا‘ دراصل وہ مسلمانوں کے حملہ کی طاقت اور نتیجہ کو دیکھنا چاہتا تھا کہ اگر مسلمان اپنے متفقہ حملے اور پوری کوشش میں ناکام رہے اور بزور شمشیر دمشق میں داخل نہ ہو سکے تو آئندہ بھی مدافعت کو جاری رکھا جائے گا اور خالد رضی اللہ عنہ کے عہد نامہ کو کوئی وقعت نہ دی جائے گی‘ لیکن اگر مسلمان اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو گئے اور زبردستی شہر میں داخل ہوئے تو اس عہد نامہ کے ذریعے اس برتائو سے محفوظ رہیں گے جو بزور شمشیر فتح کئے ہوئے شہر کے ساتھ آئین جنگ کے موافق کیا جاتا ہے۔
ادھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بزور شمشیر شہر میں داخل ہوئے اور ادھر دمشق والوں نے خود دروازہ کھول کر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو شہر کے اندر بلا لیا‘ بہرحال کوئی بات ہوئی‘ یہ ضرور ہوا کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بذریعہ مصالحت داخل دمشق ہوئے اور ابوعبیدہ بن جراح بزور شمشیر۔
وسط شہر میں جب دونوں سردار ملاقاتی ہوئے تو یہ مسئلہ در پیش ہوا کہ دمشق بزور شمشیر مفتوح سمجھا جائے یا بمصالحت‘ بعض شخصوں نے کہا کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ چونکہ افواج اسلامی کے سپہ سالار اعظم نہ تھے‘ لہذا ان کا عہد نامہ جائز نہیں سمجھا جائے گا‘ ایسا عہد نامہ صرف ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ لکھ سکتے تھے‘ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں مسلمانوں کا کوئی ایک معمولی سپاہی بھی جو عہد و اقرار کرلے گا وہ تمام مسلمانوں کو تسلیم کرنا پڑے گا‘ لہذا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا عہد نامہ جائز سمجھا جائے گا‘ اس پر یہ رائے پیش کی گئی کہ وسط شہرباب توما تک نصف شہر بذریعہ مصالحت مفتوح سمجھا جائے گا اور نصف شہر بذریعہ شمشیر مسخر تصور کیا جائے گا‘ لیکن سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اسکو بھی پسند نہ فرمایااور تمام شہر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے عہد نامہ کے موافق بمصالحت مفتوح سمجھا گیا اور ان تمام باتوں پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا جن کی نسبت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد نامہ میں تصریح فرمادی تھی۔۱؎
ابن خلدون کی روایت کے موافق خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بزور شمشیر باب توما کی طرف سے داخل ہوئے تو شہر والوں نے باقی دروازوں کے سامنے والے سرداروں سے مصالحت کر کے ان کو بمصالحت شہر میں داخل کیا۔
بہرحال مسلمانوں نے دمشق والوں کے ساتھ مصالحانہ سلوک کیا اور شہر والوں کو کوئی آزار نہیں پہنچایا سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے یزید ابن ابی سفیان کو دمشق کا عامل مقرر کیا اور رومی سرداروں نیز سپاہیوں کو دمشق سے نکل کر جہاں ان کا جی چاہا چلے جانے دیا