سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا آخری خطبہ!

جب یہ تحریر لکھی جا چکی تو آپ نے حکم دیا کہ لوگوں کو پڑھ کر سنا دو‘ پھر خود اسی شدت مرض کی حالت میں باہر تشریف لائے اور مسلمانوں کے مجمع کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ’’میں نے اپنے کسی عزیز رشتہ دار کو خلیفہ نہیں بنایا‘ اور میں نے صرف اپنی ہی رائے سے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نہیں بنایا‘ بلکہ صاحب الرائے لوگوں سے مشورہ کر لینے کے بعد خلیفہ بنایا ہے‘ پس کیا تم لوگ اس شخص کے خلیفہ ہونے پر رضا مند ہو جس کو میں نے تمہارے لیے انتخاب کیا ہے؟ یہ سن کر لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کے انتخاب اور آپ کی تجویز کو پسند کرتے ہیں‘ پھر سیدنا صدیق اکبر نے فرمایا کہ تم کو چاہیے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا کہنا سنو‘ اور اس کی اطاعت کرو‘ سب نے اقرار اطاعت کیا‘ اس کے بعد سیدنا عمر فاروق کو مخاطب کر کے فرمایا۔کہ: ’’اے عمر! میں نے تم کو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر اپنا نائب بنایا ہے‘ اللہ تعالیٰ سے ظاہر و باطن میں ڈرتے رہنا‘ اے عمر رضی اللہ عنہ ! اللہ تعالیٰ کے بعض حقوق ہیں‘ جو رات سے متعلق ہیں ‘ ان کو وہ دن میں قبول نہیں کرے گا‘ اسی طرح بعض حقوق دن سے متعلق ہیں جن کو وہ رات میں قبول نہیں کرے گا‘ اللہ تعالیٰ نوافل کو قبول نہیں فرماتا جب تک کہ فرائض ادا نہ کئے جائیں۔ اے عمر رضی اللہ عنہ ! جن کے اعمال صالحہ قیامت میں وزنی ہوں گے وہی فلاح پائیں گے اور جن کے نیک اعمال کم ہوں گے وہ مبتلائے مصیبت ہوں گے‘ اے عمر! فلاح و نجات کی راہیں قرآن مجید پر عمل کرنے اور حق کی پیری سے میسر ہوتی ہیں‘ اے عمر! کیاتم کو معلوم نہیں کہ ترغیب و ترہیب اور انذارو بشارت کی آیات قرآن مجید میں ساتھ ساتھ نازل ہوئی ہیں تاکہ مومن اللہ تعالیٰ سے ڈرتا اور اس سے اپنی مغفرت طلب کرتا رہے‘ اے عمر! جب قرآن مجید میں اہل نار کا ذکر آئے تو دعا کرو کہ الٰہی! تو مجھے ان میں شامل نہ کرنا‘ اور جب اہل جنت کا ذکر آئے تو دعا کرو کہ الٰہی! تو مجھے ان میں شامل کر‘ اے عمر! تم جب میری ان وصیتوں پر عمل کرو گے تو مجھے گویا اپنے پاس بیٹھا ہوا پائو گے‘‘۔ یہ تحریر اور وصیت وغیرہ کی کارروائی ۲۲ جمادی الثانی ۱۳ھ بروز دو شنبہ عمل میں آئی‘ اسی روز دن کے دوسرے حصے میں یا۲۲ اور ۲۳ جمادی الثانی کی درمیانی شب میں جو شب سہ شنبہ تھی بعد مغرب بعمر ۶۳ سال آپ کا انتقال ہوا اور عشاء سے پہلے یا رات کے کسی وقت میں آپ دفن کر دئیے گئے‘ سوا دو سال آپ نے خلافت کی‘ مکہ کے عامل سیدنا عتاب رضی اللہ عنہ بن اسید نے بھی مکہ میں اسی روز انتقال کیا‘جس روز ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے لیے تحریر لکھوائی‘ اور مسلمانوں کو اسکی اطلاع دی‘ وہ صدیق اکبر کی زندگی کا آخری دن تھا۔ اسی روز بعد تکمیل تحریر سیدنا مثنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ جو حیرہ (عراق) سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تھے مدینہ منورہ پہنچے‘ وہاں (عراق) کی یہ صورت پیش آئی تھی کہ جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نصف فوج خود لے کر اور نصف مثنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے پاس چھوڑ کر شام کی طرف روانہ ہو گئے تو بہمن جادویہ ایرانی سپہ سالار یہ سمجھ کر کہ اب خالد بن ولید کی غیر موجودگی میں مسلمانوں کا اس ملک سے نکال دینا آسان ہے ایک لشکر عظیم لے کر آیا‘مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے حیہر سے چل کر بابل کے قریب اس ایرانی لشکر کا استقبال کیا‘ جنگ عظیم برپا ہوئی بڑے کشت و خون کے بعد ایرانیوں کو شکست فاش نصیب ہوئی‘ مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے مدائن کے قریب تک ایرانیوں کا تعاقب کیا اور پھر واپس حیرہ میں چلے آئے۔ اس شکست کے بعد ایرانیوں نے اپنے اندرونی جھگڑوں کو ملتوی کر کے اور ایرانی سپہ سالاروں اور وزیروں نے اپنی رقابتوں کو فراموش کر کے از سر نو تیاریاں شروع کیں‘ تمام ملک اور صوبوں میں زندگی جوش اور ہمت کی لہر دوڑ گئی ایرانی قبائل اور رئوسا ملک سب مسلمانوں کے خلاف میدان جنگ میں جانے اور لڑنے مرنے پر مستعد ہو گئے‘ سیدنا مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے جب ایرانیوں کی جنگی سرگرمیوں کے حالات سنے‘ تو ان کو اپنی قلت فوج کے تصور سے پریشانی ہوئی‘ لہذا وہ بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کو اپنی جگہ مقرر کر کے خود عازم مدینہ ہوئے کہ خلیفۃ الرسول کو زبانی بالتفصیل تمام حالات سنائیں اور اس موقعہ کی اہمیت و نزاکت سمجھائیں‘ سیدنا مثنیٰ رضی اللہ عنہ جب مدینہ میں پہنچے تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی زندگی کے صرف چند گھنٹے باقی تھے‘ انہوں نے مثنیٰ رضی اللہ عنہ سے تمام حالات سنے اور سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم مثنیٰ کے ساتھ فوج جمع کر کے ضرور اور جلد روانہ کرنا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس سے باہر نکلے تو آپ نے فرمایا۔ اے اللہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کی بہتری اور فتنہ و فساد کے خطرے کو دور کرنے کے لیے اپنے بعد خلیفہ منتخب کیا ہے‘ میں نے جو کچھ کیا ہے مسلمانوں کی بھلائی کے لیے کیا ہے‘ تو دلوں کے حال سے خوب واقف ہے‘ میں نے مسلمانوں سے مشورہ بھی لے لیا ہے اور ان میں سے اس شخص کو جو سب سے بہتر قوی اور مسلمانوں کی بھلائی چاہنے والا اور امین ہے ان کا والی بنایا ہے۔ پس تو میرا خلیفہ ان میں قائم رکھ ‘ وہ تیرے بندے ہیں اور ان کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے‘ ان کے والیوں کو نیک بنا اور عمر کو بہتر خلیفہ بنا اور اس کی رعیت کو اس کے لیے اچھی رعیت بنا دے۔