سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
جنگ حصید
اہل فارس نے جب یہ دیکھا کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ صوبہ حیرہ کو چھوڑ کر دومۃ الجندل کی طرف چلے گئے تو انہوں نے حیرہ کے واپس لینے اور اسلامی عاملوں کو اس علاقہ سے نکال دینے کی بلاتوقف زبردست کوشش کی‘ حیرہ کے عربی قبائل نے بھی اپنے سردار عقبہ بن عقبہ کے قتل کا معاوضہ لینے کے لیے ازسر نوجن کی تیاریاں فوراً مکمل کر لیں‘ دربار ایران سے دو نامی سردار ززمہر اور روزبہ لشکر عظیم لے کر روانہ ہوئے۔ قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس حملہ آوری کا حال سن کر موجودہ مسلمانوں کی دو فوجیں بنائیں‘ ایک کی سرداری ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کو دی اور دوسری قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنے ماتحت لی اور حیرہ سے روانہ ہو کر مقام حصید میں ایرانیوں سے جا بھڑے‘ بڑی خوں ریز جنگ ہوئی ایرانیوں کے دونوں سردار اور نصف سے زیادہ فوج مسلمانوں کے ہاتھ سے مقتول ہوئی‘ باقی مفرور ہو کر مقام خنافش کی طرف گئی‘ جہاں ایرانیوں کا ایک زبردست سپہ سالار بہبوذان ایک زبردست فوج لیے ہوئے پڑا تھا‘ ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ ان مفرورین کے تعاقب میں خنافش تک پہنچے تو بہبوذان خنافش سے بھاگ کر مضیح کی طرف چلا گیا‘ جہاں ہذیل بن عمران معہ دوسرے عرب سرداروں کے عربوں کی جمعیت کثیرہ لیے ہوئے مسلمانوں کے مقابلہ کی غرض سے پڑا ہوا تھا‘ یہاں یہ واقعات گذرے تھے‘ کہ سیدنا خالد بن ولید دومتہ الجندل سے فارغ ہو کر واپس حیرہ میں تشریف لے آئے۔