سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
فتح عین التمر
عقبہ بن عقبہ نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بن ولید کے قریب پہنچنے کی خبر سن کر مہران بن بہرام ایرانی سپہ سالار سے کہا‘ کہ عربوں کی لڑائی کو عرب ہی خوب جانتے ہیں لہذا آپ اول ہم کو اسلامی لشکر کا مقابلہ کرنے دیجئے‘ مہران نے اس بات کو بخوشی منظور کر لیا‘ عقبہ سب سے پہلے میدان میں نکلا سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بن ولید نے اس کو فوراً زندہ گرفتار کر لیا‘ عقبہ کے گرفتار ہوتے ہی عقبہ کا تمام لشکر بھاگ پڑا‘ بہت سے مفرورین کو مسلمانوں نے گرفتار بھی کیا‘ مہران بن بہرام پر اس نظارہ سے ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ وہ قلعہ چھوڑ کر بلا مقابلہ فرار ہو گیا‘ عقبہ کی بھاگی ہوئی فوج نے ایرانیوں سے قلعہ خالی دیکھ کر فوراً قلعہ کے اندر داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا اور اس طرح قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے‘ چار روز کے محاصرہ کے بعد قلعہ پر بھی اسلامی لشکر کا قبضہ ہوا‘ عیسائی عرب جو مجوسیوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے تھے مقتول ہوئے‘ اور مال و اسباب پر مسلمانوں کا قبضہ ہوا۔