سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
جنگ قارن
ہرمز کی اطلاعی عرضی جب دربار ایران میں پہنچی تو وہاں سے ہرمز کی امداد کے لیے ایک زبردست اور بہادر سردار قارن ایک بہادر فوج کے ساتھ روانہ ہوا مگر اس کے پہنچنے سے پہلے ہرمز کا خاتمہ ہو چکا تھا‘ راستے میں قارن کو ہرمز کی ہزمیت یافتہ فوج ملی اس نے بھگوڑوں کو روکا اور ان کی ہمت بندھا کر اپنے ہمراہ لیا اور آگے بڑھ کر نہر کے کنارے قیام کیا‘ ادھر سے اسلامی لشکر آگے بڑھا‘ جنگ ہوئی‘ قارن انوشجان‘ اور قبادتینوں بڑے بڑے سردار مارے گئے‘ ایرانی اپنی تیس ہزار لاشیں میدان جنگ میں چھوڑ کر بھاگے‘ بھاگتے ہوئے بہت نہر میں ڈوب کر مرے بہت سے گرفتار ہوئے‘ اس لڑائی کے بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بن ولید نے اس صوبہ کی رعایا کو کسی قسم کی کوئی تکلیف و اذیت پہنچائے بغیر جزیہ کی ادائیگی پر آمادہ کر کے وہاں اسلامی عامل مقرر فرما دئیے اور رعایائے ایران نے رعایائے اسلام بن کر یہ محسوس کیا کہ دوزخ سے نکل کر جنت میں داخل ہو گئے۔