سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
روم و ایران
بعثت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت دنیا میں دو سلطنتیں سب سے بڑی تھیں اور وہی گویا تمام قابل تذکرہ دنیا پر چھائی ہوئی تھیں‘ ایک روم کی سلطنت‘ اور دوسری ایرانی شہنشاہی‘ اس وقت دنیا میں صرف دو ہی تمدن تھے‘ آدھی دنیا پر رومی تمدن چھایا ہوا تھا اور آدھی پر ایرانی‘ ملک عرب تو بالکل کسمپرسی اور تاریکی کے عالم میں پڑا ہوا تھا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ظہور ہوا اور اسلام کے ذریعہ ایک نئی سلطنت اور نئے تمدن کی ابتداء ہوئی اور دنیا نے دیکھ لیا کہ عربی یا اسلامی سلطنت کے مقابلے میں رومی و ایرانی سلطنتیں اور رومی و ایرانی ہوا ہو کر فنا ہو گئے اور ساری دنیا اسلامی حکومت اور اسلامی تمدن کے زیر سایہ زندگی بسر کرنے لگی‘ اس اجمال کی تفصیل آئندہ اوراق میں پیش کریں گے‘ اب چونکہ عرب کی سلطنت اور رومی و ایران سلطنتوں کی زور آزمائی شروع ہونے والی ہے اور بہت جلد ہم ایران و روم کو عرب کے مقابلہ میں ریزہ ریزہ ہوتے ہوئے دیکھنے والے ہیں‘ لہذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں مشہور و متمدن سلطنتوں سے بقدر ضرورت واقف ہو جائیں۔
کسی زمانہ میں ایرانی سلطنت بحیرہ روم‘ بحیرہ اسود ‘ خلیج فارس‘ دریائے سندھ ‘ کشمیر ‘ تبت ‘ کوہ الٹائی‘ بحیرہ کاسپین تک وسیع تھی‘ کیانی خاندان کی حکمرانی اور رستم و زابلستان کی پہلوانی کا زمانہ گزرنے کے بعد اسکندر یونانی نے سلطنت ایرانی کو پارہ پارہ کر دیا تھا‘ لیکن تمدن ایرانی باقی رہا تھا‘ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے چار سو سال پیشتر ارد شیر بابکاں نے ساسانی خاندان کی بنیاد ڈالی‘ ساسانی خاندان نے کیانیوں کی وسیع سلطنت کے اکثر حصوں کو اپنی مملکت میں شامل کر کے خلیج فارس‘ دریائے فرات‘ بحیرہ کاسپین ‘ دریائے سندھ‘ دریائے جیحوں کے درمیان ایک وسیع اور ٹھوس سلطنت قائم کر کے تمام براعظم ایشیا کی سیادت حاصل کر لی۔
رومیوں کی سلطنت کا مرکز سلطنت اٹلی کا شہر روما تھا جس میں جو لیس سیزر اور اغوسطس وغیرہ شہنشاہ گذر چکے تھے‘ اس سلطنت میں قریباً تمام براعظم یورپ اور مصر و ایشیائے کوچک شامل تھا‘ کچھ عرصہ بعد اس رومی شہنشاہی کے دو ٹکڑے ہو گئے‘ مغربی حصہ کا دارالسطنت تو شہر روماہی رہا‘ لیکن مشرقی حصہ کا دارالسلطنت شہر قسطنطنیہ قرار پایا‘ قسطنطنیہ کے قیصر کو بھی قیصر روم ہی کے نام سے پکارا جاتا تھا جس کے تحت و تصرف میں مصر‘ حبش‘ و فلسطین و شام و ایشیائے کوچک و بلقان کے ممالک تھے‘ اس مشرقی رومی سلطنت کی شان و شوکت اور قوت و سطوت کے آگے مغربی روم کی حیثیت و حقیقت ماند پڑ گئی تھی‘ ایشیائے کوچک اور عراق کے میدانوں میں ان دونوں شہنشاہیوں یعنی رومی و ایرانی سلطنتوں کی حد فاصل کوئی قدرتی چیز پہاڑ و سمندر وغیرہ کے نہ ہونے سے کبھی کبھی ایک دوسرے ٹکرانے اور معرکہ آرا ہونے کا بھی موقع آ جاتا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت کے وقت ایران کا شہنشاہ نوشیروان عادل ساسانی تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے وقت ایران پر نوشیروان عادل کا پوتا خسرو پرویز متمکن تھا۔
اور قسطنطنیہ میں ایک زبردست بغاوت قیصر فوقا کے خلاف نمودار ہوئی‘ امرائے سلطنت اور رعایائے ملک نے فوقا کو تخت سے اتار کر قتل کر دیا اور افریقی مقبوضات کے گورنر یعنی فرما روائے مصر کو قسطنطنیہ کے تخت پر بٹھانے کے لیے دعوت دی‘ گورنر افریقہ تو پیرانہ سالی کی وجہ سے نہ جا سکا‘ لیکن اس کاجوان العمر و جواں بخت بیٹا ہرقل قسطنطنیہ میں تخت نشیں ہو گیا اور ہر قل کی شہنشاہی کو ارکان سلطنت نے بخوشی تسلیم کر لیا‘ مقتول قیصر فوقا اور خسرو پرویز کے درمیان دوستی و محبت کے تعلقات تھے‘ چنانچہ خسرو پرویز نے رومی سلطنت یعنی ہرقل پر حملہ کر دیا‘ کیونکہ ایک ایسے شخص کے تخت نشین ہونے کے بعد جووراثتاً تخت و تاج کا حق دار نہ تھا‘ ایرانیوں کے لیے سلطنت روم پر حملہ آور ہونے کا بہترین موقع تھا‘ ایرانیوں اور رومیوں میں لڑائی شروع ہوئی‘ ان لڑائیوں کا سلسلہ چھ سات سال تک جاری رہا۔
بالآخر نتیجہ یہ ہوا کہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے آٹھویں سال ایرانیوں نے شام کا ملک فتح کر کے بیت المقدس پر قبضہ کیا اور عیسائیوں سے صلیب چھین کر لے گئے ساتھ ہی فلسطین کے تمام ملک کو فتح کر کے اسکندریہ تک پہنچ گئے۔
مشرکین مکہ نے ایرانیوں کی ان فتوحات کا حال سن کر بڑی خوشیاں منائیں کیونکہ رومی اہل کتاب اور ایرانی مشرک تھے‘ مسلمانوں کو مشرکوں کے مقابلہ میں اہل کتاب سے ہمدردی تھی اس لیے اس خبر سے مسلمانوں رنجیدہ ہوئے‘ خدائے تعالیٰ نے سورئہ روم کی آیات نازل فرمائیں‘ اور ان میں اطلاع دی کہ اگرچہ رومی اس وقت میں مغلوب ہو گئے ہیں لیکن چندسال کے بعد وہ غالب ہو جائیں گے اور مسلمان اس وقت مسرور ہوں گے۔ ۱؎ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
ہر قل چھ سات سال تک برابر فوجی تیاریوں میں مصروف رہا‘ اس عرصہ میں اس نے اپنے ملک کے اندرونی انتظامات پر بھی پورے طور پر قابو پا لیا‘ ایرانیوں کو اپنی حدود مملکت سے نکالنے اور سابقہ ہزیمتوں کا انتقام لینے کے لیے نکلا اور بالآخر ملک شام کے میدانوں میں رومی لشکر نے ایرانیوں کو فیصلہ کن شکست دی‘ ایرانی بھاگے اور قیصر روم نے اپنے علاقے ایرانیوں سے خالی کرا لینے کے علاوہ ایرانیوں کے بعض صوبوں پر بھی قبضہ کر لیا۔
ادھر رومیوں نے ایرانیوں پر فتح عظیم حال کی‘ ادھر بدر کے میدان میں مسلمانوں نے کفار مکہ کو شکست فاش دی‘ اور قرآن کریم کی پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی‘ اس کے بعد بھی ایرانیوں اور رومیوں میں لڑائی کا سلسلہ جاری رہا‘ ۷ ھ میں ابتداء میں رومیوں اور ایرانیوں کے درمیان صلح ہو گئی اور ایرانیوں نے وہ صلیب جو بیت المقدس سے لے گئے تھے رومیوں کو واپس کر دی‘ اس صلح نے ہرقل کی فتوحات کو ایک طرف مکمل کر دیا‘ دوسری طرف ایرانیوں نے اپنے کھوئے ہوئے علاقے اور صوبے رومیوں سے واپس لیے‘ لہذا ایرانی بھی اس صلح سے خوش ہوئے‘ اس وقت ایرانی و رومی دونوں درباروں میں بیداری کے علامات نمایاں تھے‘ اور دونوں اپنی اپنی ترقی و مضبوطی کے لیے مناسب تدبیر میں مصروف ہو گئے تھے۔
اسی سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بادشاہوں کے نام خطوط روانہ کئے‘ کیانیوں کے زمانہ میں ایران کا دارالسلطنت استخر تھا جس کو سکندر یونانی نے جلا کر خاک سیاہ کر دیا تھا‘ اب ساسانی خاندان کا دارالسلطنت مدائن تھا‘ ادھر ہرقل اپنی فتوحات اور صلیب کے واپس ملنے کی خوشی میں زیارت کے لیے بیت المقدس آیا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا خط خسرو پرویز کے پاس مدائن میں‘ ہرقل کے پاس بیت المقدس میں پہنچا‘ خسرو پرویز نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے نامہ گرامی کو چاک کر دیا اور ہرقل نے تکریم و عزت کے ساتھ اس خط کو لیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایرانی بادشاہ کی حرکت نا معقول کا حال سن کر فرمایا کہ اس کی سلطنت پارہ پارہ ہو جائے گی۔
خسرو پرویز نے یہی نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے خط اور قاصد کے ساتھ گستاخی کی بلکہ اپنے عامل باذان والی یمن کو لکھا کہ اس عربی پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو گرفتار کر کے ہمارے پاس بھیج دو‘ باذان نے دو آدمی مدینے میں بھیجے‘ وہ دونوں خدمت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں حاضر ہوئے اور خسرو پرویز کے حکم سے اطلاع دی‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس کو اپنا اللہ تعالیٰ سمجھتے ہو یعنی خسرو پرویز وہ رات اپنے بیٹے کے ہاتھ سے مارا گیا‘ یہ دونوں جب باذان کے پاس واپس پہنچے تو وہاں مدائن سے اطلاع پہنچی کہ خسرو پرویز کو اس کے بیٹے شیرویہ نے قتل کر دیا ہے‘ یہ واقعہ قتل ٹھیک اسی رات کا تھا جس رات کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔
باذان گورنر یمن مسلمان ہو گیا اور اس طرح ملک یمن میں بہت جلد اسلام پھیل گیا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے باذان ہی کو یمن کا عامل رکھا‘ شیرویہ کو اس قدر مہلت ہی نہ ملی کہ وہ اندرونی جھگڑے سے فارغ ہو کر عرب اور مسلمانوں کی طرف متوجہ ہوتا‘ چند روز کے بعد اس کا کمسن بچہ تخت ایران پر بیٹھایا گیا جس کا نام اردشیر تھا‘ اس کمسن اردشیر کو ایرانی سپہ سالار شہریار نامی نے چند مہینے کے بعد قتل کر کے خود تخت سلطنت پر جلوس کیا‘ چند روز کے بعد ارکان سلطنت نے اس کو قتل کر کے شیرویہ کی بہن اور خسرو پرویز کی بیٹی پوران کو تخت پر بٹھایا جو صرف ایک سال چند ماہ حکمران رہی‘ اسی کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات پائی۔
پوران کے بعد کئی نو عمر لڑکے اور عورتیں یکے بعد دیگرے تخت نشیں ہوئیں‘ آخر میں یزدجرد۱؎ تخت نشیں ہوا جس کے زمانہ میں ایران پر مسلمانوں کا قبضہ ہوا‘ غرض جس روز سے خسرو پرویز نے نامہ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کو چاک کیا تھا اسی روز سے ایرانی سلطنت کا قصر رفیع قدرتی طور پر منہدم ہونا شروع ہو گیا تھا‘ اور ایران کے تخت پر بجائے ملک گیرو ملک دار عالی ہمت بادشاہوں کے‘ لڑکوں اور عورتوں نے قبضہ پا لیا تھا‘ ایرانی سلطنت کے قبضہ سے اس کا ایک صوبہ یعنی یمن کا ملک نکل چکا تھا۔ ۲؎ اس لیے ایرانیوں کو مسلمانوں سے اور بھی عداوت ہو گئی تھی۔
ایرانی مشرک ہونے کی وجہ سے زیادہ متکبر اور مغرور تھے‘ لہذا وہ عربوں کو زیادہ حقیر سمجھ کر ان کی قوت و استقلال کی خبریں سن سن کر زیادہ بے چین اور مسلمانوں کے استیصال پر زیادہ آمادہ تھے‘ لیکن قدرت نے ان کو اس طرح اندرونی جھگڑوں اور بادشاہوں کے عزل و نصب کی مصیبتوں میں گرفتار کر دیا تھا کہ وہ ملک عرب کی طرف جلدی متوجہ نہ ہو سکتے تھے‘ منافقین مدینہ اور یہود ان مدینہ نے جو مدینہ سے جلاوطن ہوئے تھے‘ بہ تواتر دربار مدائن میں اپنے زبان آور چالاک ایلچی بھیج بھیج کر ایرانیوں کو مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لیے ابھارا تھا‘ دوسری طرف ان لوگوں نے ہرقل کے دربار میں بھی اس قسم کی کوششیں شروع کر رکھی تھیں۔
ہرقل کا دربار چونکہ اندرونی جھگڑوں سے پاک تھا لہذا ان کو وہاں زیادہ کامیابی حاصل ہوئی‘ ملک شام کے جنوبی حصہ میں عرب قوم کے لوگ آباد تھے اور ان کی بہت سی چھوٹی چھوٹی خود مختار ریاستیں قائم تھیں‘ عربی لوگ عیسائی مذہب اختیار کر چکے تھے اور عرب مستنصرہ کے نام سے مشہور تھے‘ عرب مستنصرہ کی خود مختار ریاستوں سے ہرقل کے دوستانہ و ہمدردانہ تعلقات تھے‘ جب کبھی ان اعراب مستنصرہ کی ریاستوں پر ایرانیوں نے حملے کئے تھے تو قیصر قسطنطنیہ نے ان کی مدد وحفاظت پرآمادگی ظاہر کی‘ اس لیے یہ لوگ اور بھی مجبور تھے کہ اپنے آپ کو قیصر روم کی حمایت میںرکھیں‘ چونکہ عربی النسل ہونے کے سبب یہ لوگ زیادہ بہادر تھے اس لیے قیصر روم ان کے وجود کو زیادہ قیمتی سمجھتا اور ضرورت کے وقت ان کی جنگ جو یانہ قابلیتوں سے فائدہ اٹھایا کرتا تھا۔
ملک عرب میں جو ایک اسلامی سلطنت قائم ہو چکی تھی‘ اس اسلامی سلطنت اور قیصر روم کی سلطنت کے درمیان عرب مستنصرہ کی ریاستیں حد فاصل تھیں‘ چونکہ یہ ریاستیں سب عیسائی مذہب رکھتی تھیں اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ رومیوں اور عربوں کے درمیان توایک حد فاصل تھی‘ لیکن اسلامی سلطنت اور عیسائی حکومت کے درمیان کوئی حد فاصل نہ تھی‘ حیات نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں جب عیسائی ریاستوں اور مسلمانوں کے درمیان مقابلہ و مقاتلہ کی نوبت پہنچی تو ایک طرف ان اعراب مستنصرہ نے ہرقل سے امداد کی درخواست کی‘ دوسری طرف منافقوں اور یہودیوں کی ریشہ دوانیوں نے دربار ہرقل کو مسلمانوں کی بیخ کنی پر آمادہ و مستعد کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جس زمانہ میں ہرقل کے پاس خط بھیجا تھا اسی زمانہ میں بصری و دمشق کے رئیسوں کی طرف بھی خط روانہ کئے تھے لیکن ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ایلچیوں کے ساتھ برا برتائو کیا تھا‘ چنانچہ بصری کے ماتحت حاکم شرجیل نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ایلچی سیدنا حارث کو شہید کر دیا تھا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو شرجیل بن عمرو غسانی سے سیدنا حارث رضی اللہ عنہ کا انتقام لینے کے لیے روانہ کیا اور جنگ موتہ میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بن رواحہ شہید ہوئے‘ اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے لڑائی کی حالت کو سنبھالا‘ اس جنگ میں ہرقل کی فوجوں نے شرجیل غسانی کی حمایت میں مسلمانوں کا مقابلہ کیا۔
رومیوں نے اس کے بعد ملک عرب پر چڑھائی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خود چشمہ تبوک تک لشکر لے کر جانا پڑا‘ اس وقت رومی سامنے سے ٹل گئے اور کوئی بڑی لڑائی نہ ہوئی‘ بلکہ انہیں اعراب مستنصرہ کی ریاستوں سے جزیہ لے کر اور ان پر رعب قائم کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم واپس تشریف لائے‘ تو خبر سنی کہ ہر قل ملک عرب پر حملہ کی تیاریاں کر رہا ہے اور سرحد شام پر فوجیں جمع ہو رہی ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اس طرف روانہ کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی علالت کی وجہ سے یہ لشکر مدینہ کے باہر رکا رہا اور آخر سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ ہو کر اس لشکر کو روانہ کیا‘ یہ لشکر سرحد شام تک گیا اور وہاں کے سرکش و باغی رئوسا کو درست کر کے چلا آیا۔
ہرقل کی فوجوں سے اس لیے مقابلہ پیش نہ آیا کہ رئوساء عرب مستنصرہ میں سے بعض بطیب خاطر اسلام کو حق سمجھ تسلیم کر چکے تھے اور ہرقل متامل تھا کہ یہ سرحدی ریاستیں اسلام میں داخل ہونے والی ہیں یا عیسائیت پر قائم رہ کر مسلمانوں کے مقابلہ پر مستعد ہونے والی ہیں‘ محض ان ریاستوں کی وجہ سے جو کئی بار اسلامی طاقت کے نظارے دیکھ چکی تھیں اور اصول اسلامی سے واقف ہو کر اسلام کی طرف مائل نظر آتی تھیں ہرقل کولڑائی کے لیے اقدام میں تامل تھا‘ وہ خود بھی اسلامی صداقت کا دلی طور پر معترف تھا لہذا ایک طرف مسلمانوں کی ترقی اس کے زوال سلطنت کا پیغام تھا اور وہ مسلمانوں کی طاقت کو پیش ازخطرہ مٹا دینا چاہتا تھا‘ دوسری طرف چونکہ اس کو انجام اور نتیجہ مشتبہ نظر آتا تھا لہذا آئندہ بہترین موقع کے انتظار میں وہ جنگ کو ٹالتا رہا‘ بہرحال وہ ہرقل جو ایرانیوں کی عظیم الشان شہنشاہی کو نیچا دکھا چکا تھا وہ ہمہ تن اسلامی طاقت کے برباد کرنے کی طرف متوجہ تھا اور کسی مناسب موقعہ کو ہاتھ سے گنوا دینے والا نہ تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد جو تمام ملک عرب میں بد امنی اور ہلچل پیدا ہوئی تو ایک طرف ایرانیوں نے اور دوسری طرف رومیوں نے ان خبروں کو بڑے اطمینان و مسرت کے ساتھ سنا‘ دنیا میں پہلی ہی مرتبہ تمام براعظم و عرب نے ایک سلطنت اور ایک متحد طاقت کی شکل میں اپنے آپ کو جلوہ افروز کیا تھا اور اسی لیے رومیوں اور ایرانیوں کے درباروں نے اس ملک کو غور و التفات اور فکر و تردد کی نگاہ سے دیکھا تھا اور یہ دونوں حکومتیں بجائے خود الگ الگ اس جدید عربی طاقت یعنی حکومت اسلام کو مٹا دینے اور فنا کر دینے پر آمادہ تھیں‘ وفات نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کی خبر کے ساتھ ہی ارتداد کی خبروں نے ان دونوں حکومتوں کو بتا دیا تھا کہ ملک عرب کے پامال کرنے اور آئندہ خطرات کے مٹا دینے کا یہ بہترین وقت ہے‘ چنانچہ ایک طرف ہرقل کی فوجیں شام میں اور دوسری طرف ایران کی فوجیں عراق میں جمع ہونے لگیں۔۱؎ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی مآل اندیشی‘ ژرف نگاہی‘ موقعہ شناسی اور مستعدی کا اس طرح بھی اندازہ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے فتنہ ارتداد کو جلد سے جلد مٹایا اور اس فتنہ کو فرو کرنے کے بعد ایک دن بھی ضائع کئے بغیر فوراً رومیوں اور ایرانیوں کے روکنے اور مدافعت کرنے کے لیے تمام ملک عرب کو آمادہ کر دیا‘ اگر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ چند روز اور فتنہ ارتداد کو مٹانے پر قادر نہ ہوتے یا فتنہ ارتداد کے مٹ جانے کے بعد چند روز تساہل اور تامل میں گذار دیتے تو مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم یعنی دارالخلافت اسلام رومیوں یا ایرانیوں کے محاصرہ میں آ کر مسلمانوں کے لیے عرصہ حیات تنگ ہو چکا ہوتا‘ حیرت ہوتی ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کیسا سخت و اہم کام کیسے نازک و محدود وقت میں کس احتیاط اور کس خوبی کے ساتھ انجام دیا اور اسلام کی روحانی و مادی حالت اور معنوی و ظاہری شان کو کس عظمت و جبروت کے ساتھ قائم رکھا۔
اب آگے رومیوں اور ایرانیوں کے ساتھ مسلمانوں کی لڑائیاں شروع ہوتی ہیں‘ جو حالت ملک شام کی تھی‘ کہ اس کے جنوبی حصہ میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں عرب مستنصرہ کی تھیں‘ بالکل یہی حالت عراق عرب کی تھی کہ اس میں بھی چھوٹی چھوٹی ریاستیں عربوں کی تھیں جن میں سے اکثر ایرانی شہنشاہی کے ماتحت اور بعض ایرانی دربار سے گورنر مقرر ہو کر آتے اور حکومت کرتے تھے۔