سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

ردت مہرہ

مہرہ میں کچھ لوگ عمان کے مقیم تھے‘ ان کے علاوہ عبدالقیس کے لوگ بھی وہاں موجود تھے‘ ازد اور بنی سعد وغیرہ قبائل بھی وہاں آباد تھے‘ یہ سب کے سب مرتد ہو کر ریاست و امارت کے معاملہ میں دو گروہوں کے اندر منقسم ہو کر آپس میں لڑائی جھگڑا کر رہے تھے‘ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ نے مہرہ میں پہنچ کر ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی‘ ان میں سے ایک گروہ نے اسلام قبول کر لیا‘ دوسرے نے جس کا سردار مصبح تھا اسلام قبول کرنے سے انکار اور اپنے ارتداد پر اصرار کیا۔ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ نے گروہ مسلم کو اپنے ساتھ لے کر مرتدین پر حملہ کیا اور شکست فاش دے کر ان کے سردار کو قتل کر دیا‘ اس فتح کا نواحی علاقوں پر خاص اثر پڑا‘ اردگرد کے تمام قبائل بخوشی اسلام میں داخل ہو گئے‘ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ نے مال غنیمت کے ساتھ اسلامی کامیابیوں کی مفصل کیفیت لکھ کر سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجی‘ وہاں سے جواب آیا کہ اب تم یمن کی طرف روانہ ہو کر مہاجر رضی اللہ عنہ بن ابی امیہ کے لشکر میں شریک ہو جائو۔