سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

مطعم بن جنیعہ

اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ سیدنا علاء بن الحضرمی کو سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر کا سردار بنا کر بحرین کی طرف روانہ کیا تھا‘ بحرین میں بنو عبدالقیس‘ بنو بکر بن وائل معہ اپنی شاخوں کے زبردست قبائل تھے‘ یہ بھی پڑھ چکے ہو کہ جارود بن المعلیٰ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلہ عبدالقیس کی طرف سے وفد ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خبر وفات کو سن کر قبیلہ عبدالقیس کے لوگ یہ کہہ کر مرتد ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نبی ہوتے تو کبھی نہ مرتے۔ سیدنا جارود بن المعلیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کو ایک جگہ جمع کیا اور کہا کہ مجھ کو تم سے ایک بات دریافت کرنی ہے جو جانتا ہو وہ بتائے‘ جو نہ جانتا ہو وہ خاموش رہے‘ انہوں نے اپنی قوم کو مخاطب کر کے دریافت کیا کہ تم پر یہ بتائو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے بھی دنیا میں نبی آئے ہیں یا نہیں؟ سب نے کہا آئے ہیں‘ پھر انہوں نے پوچھا کہ وہ سب عام انسانوں کی طرح اپنی زندگی پوری کر کے فوت ہو گئے یا نہیں؟ سب نے کہا وہ اپنی زندگی پوری کر کے فوت ہو گئے‘ سیدنا جارود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بس اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی اپنا زمانہ حیات پورا کر کے فوت ہو گئے۔ یہ کہہ کر انہوں نے کہا اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمد اعبدہ و رسولہ قبیلہ عبدالقیس کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے اسی وقت توبہ کی اور اسلام پر قائم ہو گئے۔ قبیلہ عبدالقیس تو سیدنا جارود بن المعلیٰ رضی اللہ عنہ کی بروقت کوشش سے اس طرح بچ گیا لیکن قبیلہ بنو بکر بن وائل نے مرتد ہو کر حطم کو اپنا سردار بنایا‘ حطم بنوبکر کی جمیعت کثیرہ لے کر نکلا اور مقام قطیف و ہجر کے درمیان ڈیرے ڈال دئیے اور کچھ آدمیوں کو قبیلہ عبدالقیس کی طرف بھیجا کہ ان کو مرتد بنا کر لائیں‘ لیکن عبدالقیس نے صاف طور پر مرتد ہونے سے انکار کیا اور وہ لوگ ناکام و نامراد واپس آئے‘ اس کے بعد حطم نے معرور بن سوید کو ایک جمعیت دے کر اردگرد کے مسلمان لوگوں کو مرتد بنانے یا ان سے لڑنے کے لیے بھیجا۔ اسی حالت میں سیدنا علاء بن الحضرمی اپنا لشکر لیے ہوئے ملک بحرین میں داخل ہوئے‘ انہوں نے سیدنا جارود بن المعلیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس جومقام دارین میں تشریف رکھتے تھے حکم بھیجا کہ بنو عبدالقیس کو ہمراہ لے کر حطم پر حملہ کرو‘ اس حکم کے پہنچتے اور اس خبر کے مشہور ہوتے ہی اردگرد کے تمام مسلمان علاء بن الحضرمی کے پاس آ آ کر جمع ہو گئے اور جس قدر مرتدین و مشرکین اس علاقہ میں تھے وہ سب حطم کے لشکر میں آ آ کر شامل ہو گئے۔ سیدنا علاء بن الحضرمی رضی اللہ عنہ اپنا لشکر لیے ہوئے آگے بڑھے اور حطم کی لشکرگاہ کے قریب پہنچ کر خیمہ زن ہوئے اور انہوں نے دیکھا کہ حطم نے اپنے لشکرگاہ کے گرد ایک خندق کھدوالی ہے‘ آخر دونوں لشکروں میں لڑائی شروع ہوئی ایک مہینہ تک طرفین سے لڑائی کا سلسلہ جاری رہا کوئی ایک دوسرے پر فتح یاب نہ ہوا‘ جب پورا ایک مہینہ اسی حالت میں گذر گیا تو سیدنا علاء رضی اللہ عنہ نے غازیان اسلام کو لے کر ایک زبردست حملہ کیا‘ اور بہادر ان اسلام خندق کو عبور کر کے لشکر گاہ کفار میں داخل ہو گئے‘ قیس بن عاصم کے ہاتھ سے حطم مارا گیا‘ بہت سے مرتدین ہلاک ہوئے‘ باقی بھاگ نکلے‘ بھاگے ہوئوں کا تعاقب ہوا‘ اور بالآخر رفتہ رفتہ سب اسلام کی طرف لوٹ آئے‘ مذکورہ بالا جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ بہت سامان غنیمت آیا‘ جس سے لشکر اسلام کی حالت خوب درست ہو گئی۔