سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
جھوٹی نبیہ کا نکاح
سجاح یہ پیغام پاتے ہی مسیلمہ کی طرف روانہ ہو گئی‘ اس نے اپنے قلعہ کے سامنے ایک خیمہ کھڑا کیا‘ سجاح کو اس میں اتارا‘ دونوں کی بات چیت ہوئی‘ سجاح نے مسیلمہ کی پیغمبری کو تسلیم کیا‘ اس پر ایمان لائی‘ پھر دونوں کا نکاح ہو گیا‘ نکاح کے بعد سجاح تین دن تک مسیلمہ کے پاس رہی‘ وہاں سے رخصت ہو کر اپنے لشکر میں آئی تو لشکر والوں نے کہا کہ نکاح کا مہر کہاں ہے‘ یہ تو نے بے مہر کیسا نکاح کیا ہے؟ وہ پھر مسیلمہ کے پاس گئی تو مسلیمہ نے کہا کہ میں نے تیرے مہر میں تیری جماعت کے لیے دو نمازیں یعنی عشاء اور فجر کی نماز معاف کر دی ہے‘ سجاح وہاں سے رخصت ہو کر آئی‘ ہذیل و عقبہ کو یمامہ کی نصف پیداوار وصول کرنے کے لیے چھوڑ کر روانہ ہوئی تھی کہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ جو بنو تمیم کی طرف بڑھے چلے آ رہے تھے سامنے آ گئے‘ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے لشکر کو دیکھتے ہی سجاح کے ہمراہی فرار ہو گئے‘ اور وہ بہزار وقت اپنے قبیلہ بنی تغلب میں بمقام جزیرہ پہنچ کر گم نامی کی زندگی بسر کرنے لگی۔
سیدنا خالد بن ولید جب نبو تمیم کے علاقہ میں پہنچے تو وہاں کے ان لوگوں سے جو اسلام پر قائم تھے کوئی تعرض نہیں کیا‘ لیکن جو مرتد ہو گئے تھے وہ گرفتار و قتل کئے گئے‘ مرتد اور مسلمانوں کی شناخت اذان کے ذریعہ ہوتی تھی‘ جیسا کہ اوپر فرمان صدیقی میں ذکر آ چکا ہے ۔۔۔۔۔ مالک بن نویرہ کی بستیوں پر بھی اذان کے بعد ہی حملہ ہوا۔