سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی کامیابی

سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد کے موافق اردن و بلقاء کی وادیوں میں پہنچ کر رومیوں کے لشکر سے لڑائی شروع کر دی‘ رومیوں کو شکست دے کر اور بے شمار غنیمت اور قیدی لے کر چالیس دن کے بعد مدینہ میں واپس آئے‘ اس لشکر کی روانگی بظاہر بے حد خطرناک معلوم ہوتی تھی مگر اس کے نتائج اسلام اور مسلمانوں کے لیے بے حد مفید ثابت ہوئے‘ ملک کی اس شورش و بدامنی کے زمانہ میں لشکر اسلام کا اس طرح رومیوں پر حملہ آور ہونا گویا تمام مرتدین اور باغیوں کو بتا دینا تھا کہ ہم تمہاری ان سرکشیوں اور تیاریوں کو ایک پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں دیتے‘ اس ہمت و طاقت کے عملی اشتہار و اعلان نے سرکشوں اور باغیوں کے حوصلوں کو پست کر کے ان کو فکرو تردد میں مبتلا کر دیا اور وہ بجائے اس کے کہ بے تحاشہ سب کے سب مسلمانوں کی بیخ کنی پر پل پڑتے‘ اپنی اپنی جگہ پر تحقیق کرنے لگے کہ مسلمانوں کو مغلوب کیا جا سکتا ہے یا نہیں‘ یہی وجہ ہے کہ طلیحہ اسدی‘ اور مسیلمہ کذاب وغیرہ مدعیان نبوت اپنے اپنے علاقوں سے باہر قدم نہیں نکال سکے اور منکرین زکو ۃ وغیرہ سرکش قبائل مخالفت اسلام کا قطعی فیصلہ نہ کر سکے‘ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کا رومیوں کے لشکر پر فتح مند ہونا‘ اور سالماً غانماً واپس آنا اور اس خبر کا ملک میں شہرت پانا اور بھی زیادہ مفید ثابت ہوا‘ چونکہ مال غنیمت بھی خوب ہاتھ آ گیا تھا لہذا آئندہ سرکشوں کو درست کرنا اور ملک کے امن و امان کو بحال کرنے میں اس غنیمت سے مسلمانوں کو بڑی امداد ملی اور فوجی دستوں کی روانگی میں سامان سفر کی تیاریاں زیادہ تکلیف دہ نہیں ہو سکیں۔