مقدمہ

جمہوری سلطنت

جمہوری حکومت۱؎ میں تین یا پانچ سال کی مدت کے لیے ایک عام شخص کو عام رعایا اپنا حکمران منتخب کرتی ہے‘ جس کو صدر جمہوریہ یا پریزیڈنٹ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے‘ اس صدر جمہوریت کو وہ پورے اختیارات حاصل نہیں ہوتے جن کی نوع انسان کے ایک شفیق سلطان کو ضرورت ہے‘ بعض معمولی کاموں میں بھی پریزیڈنٹ کو مجبور ہو جانا اور اپنی خواہش کے خلاف کام کرنا پڑ جاتا ہے‘ گویا حکومت کا کوئی ایک حقیقی مرکز نہیں ہوتا اور امر سلطنت منقسم ہو کر تمام افراد ملک یا افراد قوم سے متعلق ہوتا ہے‘ بظاہر یہ نظام سلطنت بہت ہی دل پسند اور خوشگوار معلوم ہوتا ہے اور عوام چونکہ اپنے اوپر خود حکومت کرنے کا موقع پاتے اور جبرو استبداد کی زنجیروں کو ٹوٹا ہوا دیکھنے سے خوش ہوتے ہیں۲؎ لیکن وہ اپنا بہت کچھ نقصان بھی کرتے ہیں نسل انسانی کی شرافت خلیع الرسن اور بہمہ جہت آزاد ہونے کے خلاف واقع ہوئی ہے‘ یہی سبب ہے کہ فرانس و امریکہ وغیرہ میں جہاں جمہوری نظام قائم ہے وہاں روحانیت جو مذہب قائم کرنا چاہتی ہے بالکل تباہ و برباد ہو گئی ہے۔ روحانیت و مذاہب کے سکھائے ہوئے اعلیٰ اخلاق کسی ایسے ملک میں قائم ہی نہیں رہ سکتے جہاں جمہوریت کاسیلاب موجیں مار رہا ہو‘ جمہوریت کا نظام سلطنت انسان کو ایسی آزاد روش پر ڈالنا اور اس قدر خلیع الرسن بنانا چاہتا ہے کہ انسان اللہ شناسی اور اللہ پرستی کے خیالات کو تادیر قائم نہیں رکھ سکتا۔ خالص جمہوری نظام حکومت میں سب سے زیادہ قوی تحریک دہریت اور لامذہبیت کی ہے‘ جس طرح ریگستان میں کھیتی پیدا نہیں ہو سکتی‘ پانی سے نکل کر مچھلی زندہ نہیں رہ سکتی‘ تاریک مقام اور کثیف ہوا میں انسان تندرست نہیں رہ سکتا اسی طرح خالص جمہوری نظام حکومت کے ماتحت مذہبی خیالات‘ مذہبی پابندیاں‘ مذہبی عبادات نشوونما نہیں پا سکتے اور کوئی الہامی مذہب۱؎ تادیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ دین کا اصل الاصول پابندی و فرمانبرداری ہے اور سچے مذہب۲؎ کی پابندی انسانی فطرت کے اس صحیح جذبہ کو زندہ رکھتی ہے کہ ہر اعلیٰ اور مستحق تکریم ہستی کو اعلیٰ مقام دیا جائے اور اس کی تکریم کی جائے‘ اور اللہ تعالیٰ چونکہ سب سے اعلیٰ اور حقیقی کمال رکھتا ہے لہذا اس کی جناب میں سر بسجود ہو کر سبحان ربی الاعلیٰ کا اقرار کیا جائے۔ دنیا میں ہر ایک نبی ہر ایک رسول ہر ایک ہادی نے یہ جائز مطالبہ کیا ہے کہ تمام انسان میرے احکام کو مانیں اور میری فرمانبرداری بجا لائیں‘ اور اس حقیقت سے انکار نہیں ہو سکتا کہ ان رسولوں‘ نبیوں ‘ ہادیوں اور رہبروں کی فرمانبرداری اور ان کے احکام کی بلاچون و چرا تعمیل کرنے ہی سے نسل انسانی نے ہمیشہ فلاح پائی ہے اور اس فرمانبرداری ہی کے نتیجہ میں نسل انسانی ذلت و پستی کے مقامات سے نکل کر اس اوج ترقی کے مقام تک آئی ہے‘ پس جو چیز یا جو نظام حکومت اس روش ستودہ کے لیے سم قاتل ہو اور انسان کو ہر ایک پابندی سے آزاد ہو کر خلیع الرسن رہنے کی ترغیب دیتا ہو وہ نتیجہ میں نوع انسانی کے لیے ہرگز مفید ثابت نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں ہر ایک باپ اپنے بیٹے سے فرمانبرداری کی توقع رکھتا ہے اور بیٹے کے لیے یہی مفید ہے کہ وہ اپنے باپ کی فرمانبرداری کرے‘ ہر ایک استاد اپنے شاگردوں سے فرمانبرداری کا خواہاں ہے اور شاگردوں کے لیے یہی مفید ہے کہ وہ استاد کی فرماں برداری کریں۔ ہر ایک لیڈر اور ہر ایک رہبر اپنے پیروئوں سے پیروی اور فرماں برداری کا خواہاں ہے اور ان کے لیے یہی مفید ہے کہ وہ پیروی اور فرمانبرداری بجا لائیں۔ ہر ایک سپہ سالار میدان جنگ میں اپنے سپاہیوں سے اپنے احکام کی تعمیل چاہتا ہے اور سپاہیوں کے لیے یہی مفید ہے کہ وہ اپنے سپہ سالار کی بلاچون و چرا فرمانبرداری کریں۔ جمہوریت کا مجموعی اثر یہ مرتب ہوتا ہے کہ بیٹا اپنے باپ کی‘ شاگرد اپنے استاد کی ‘ عوام اپنے لیڈر کی سپاہی اپنے سپہ سالار کی اطاعت و فرمانبرداری کو اپنے لیے محنت اور سرا سرگراں محسوس کرنے لگتے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ تمام چیزیں زائل ہو کر انسان اس دہریت اور لامذہبیت کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے جو اس کو انسانیت سے خارج کر کے بہیمیت کے مقام پر لانا چاہتی ہے۔ جمہوریت کا مقام چونکہ مذہبیت کے خلاف واقع ہوا ہے‘ لہذا جس قدر مذہبیت کو صدمہ پہنچے گا اسی قدر امن و سکون اور راحت و اطمینان ملک و قوم سے فنا ہو جائے گا‘ کیونکہ حقیقی مدنیت اور حقیقی امن و سکون صرف مذہب کی بدولت دنیا میں قائم ہو سکتا ہے‘ حکومت و سلطنت اس معاملہ میں ہمیشہ ناکام رہی ہے‘ گھروں کے اندر‘ تنہائی کے موقعوں‘ بیابانوں ‘ ریگستانوں‘ راستوں وغیرہ میں انسان حکومت کی طاقت اور پولیس کی نگرانی سے بالکل آزاد ہوتا ہے‘ ان مقامات پر قتل چوری‘ زنا وغیرہ جرائم سے مذہب ہی باز رکھ سکتا ہے‘ نہ کہ حکومت‘ اگر روئے زمین کے تمام باشندے لامذہب ہو جائیں تو سطح زمین کشت و خون‘ قتل و غارت ‘ چوری زنا‘ جھوٹ‘ فریب وغیرہ بدتمیزیوں اور شرارتوں سے لبریز ہو کر نوع انسانی کے لیے جہنم بن جائے۔۱؎ یورپ و امریکہ کی جمہوریتوں میں ہم کوئی ایسی چیز نہیں دیکھتے جس کے لیے بجا طور پر ہمارے دل میں رشک پیدا ہو سکے۔ انہیں ملکوں میں لامذہبیت زیادہ پائی جاتی ہے‘انہیں میں معاشرت انسانی بے حیائی کی طرف زیادہ مائل ہے‘ انہیں میں وعدہ خلافی بے وفائی‘ خود مطلبی‘ دروغ بیانی‘ دھوکہ دہی وغیرہ لوگوں کے عام چال چلن کا جزو بن جاتے ہیں‘ جمہوری حکومتوں میں کوئی نپولین ‘ کوئی قیصرولیم‘ کوئی جولیس سیرز‘ کوئی تیمور‘ کوئی ہنی بال‘ کوئی صلاح الدین‘ کوئی سلیمان قانونی‘ کوئی شیر شاہ‘ کوئی عالمگیر‘ بھی ہرگز پیدا نہیں ہو سکتا اور پیدا ہو کر زندہ نہیں رہ سکتا‘ کسی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا پیدا ہونا تو بہت ہی بڑی بات ہے۔ انسانی فریب خوردگیوں اور انسانی پست ہمتیوں‘ کی غالباً یہ سب سے زیادہ بد نما اور عظیم الشان مثال ہے کہ ہم آج بہت سے مسلمانوں کو بھی یورپ و امریکہ والی جمہوریتوں کا خواہش مند دیکھ رہے ہیں جو اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف اور بنی نوع انسان کے لیے بڑی ہی خطرناک چیز ہے‘ مسلمانوں کے خیالات کا یہ تغیر نتیجہ ہے ان کی بزدلی اور کم ہمتی کا۔ یہ بزدلی اور کم ہمتی دین سے ناواقف ہونے اورقرآن و حدیث پر نظر نہ کرنے کے سبب پیدا ہوئی ہے۔