سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

نام و نسب

آپ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن ابوقحافہ بن عامر بن عمروبن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہربن مالک بن نضر بن کنانہ ہے‘ مرہ پر آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے نسب میں مل جاتے ہیں اور باعتبار مراتب آباء ایک ہی درجہ میں ہیں‘ کیونکہ دونوں میں مرہ تک چھ چھ پشتوں کا فاصلہ ہے‘ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام سلمیٰ بنت صخربن کعب بن سعد ہے‘ یہ ابوقحافہ کی چچا زاد بہن تھیں اور ام الخیر کے نام سے مشہور تھیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے والد ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کا نام عثمان رضی اللہ عنہ ہے‘ آپ رضی اللہ عنہ کو زمانہ جاہلیت میں عبدالکعبہ کہا جاتا تھا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کا نام عبداللہ رکھا‘ آپ رضی اللہ عنہ کا نام عتیق بھی تھا‘ مگر علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ تاریخ الخلفاء رضی اللہ عنہ میں لکھتے ہیں کہ جمہور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ عتیق آپ رضی اللہ عنہ کا نام نہ تھا‘ بلکہ لقب تھا‘ اس لیے کہ حدیث شریف کے موافق آپ رضی اللہ عنہ نار دوزخ سے عتیق یا آزاد تھے‘ بعض نے کہا کہ حسن و جمال کے سبب آپ رضی اللہ عنہ کا نام عتیق مشہور ہوا‘ بعض کا قول ہے کہ چونکہ آپ رضی اللہ عنہ کے نسب میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جو عیب سمجھی جائے پس سلسلہ نسب بے عیب ہونے کے سبب آپ رضی اللہ عنہ کا نام عتیق مشہور ہوا۔ تمام امت محمدی صلی اللہ علیہ و سلم کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا لقب صدیق ہے‘ کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ نے بے خوف ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بلاتامل تصدیق فرمائی اور صدق کو اپنے لیے لازم کر لیا‘ معراج کے متعلق بھی آپ رضی اللہ عنہ نے کفار کے مقابلہ میں ثابت قدمی دکھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قول کی تصدیق فرمائی‘ آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے دو سال دو مہینے چھوٹے تھے‘ لیکن بعض لوگوں نے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بڑے تھے‘ آپ رضی اللہ عنہ مکہ میں پیدا ہوئے‘ وہیں پرورش پائی تجارت کی غرض سے آپ رضی اللہ عنہ باہر سفر میں بھی جایا کرتے تھے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور مدینہ میں ہی داعی اجل کو لبیک کہا۔