خلافت راشدہ

دینی خلافت اور دینوی سلطنت کا فرق

خلافت کے متعلق جو کچھ اوپر مذکور ہو چکا ہے اس سے یہ شبہ گذر سکتا ہے کہ خلافت محض بادشاہت اور سلطنت کا نام ہے تو ہر ایک بادشاہ کو خلیفہ کہا جا سکتا ہے‘ اور خلافت کو مذہب سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے‘ لیکن معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمانوں میں خلیفہ صرف اس بادشاہ یا حکمران کو کہا جا سکتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی قائم کردہ حکومت و سلطنت کا وارث اور امر سلطنت میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا جانشیں ہو اور اعمال دینیہ یعنی نماز‘ فتویٰ قضا‘ عدالت‘ احتساب‘ جہاد وغیرہ کا مہتمم اور تکالیف شرعیہ پر عوام الناس کو آمادہ اور عمل کرنے کی ہدایت کرے‘ شریعت اسلام مصالح دینوی اور مصالح اخروی دونوں پر مشتمل ہے‘ ایک غیرمسلم اور دینوی بادشاہ کے ذریعے جو نوع انسان کی خدمت اور رفاہ عامہ کا کام انجام پذیر ہوتا ہے اس سے بدر جہا بہتر یہ کام خلیفہ یعنی احکام رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے موافق حکومت کرنے والے کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ شریعت اسلام چونکہ اپنے پیرو کو ہر دینوی خوبی کا بھی وارث بناتی ہے‘ اس لیے وہ حکومت جو شرع اسلام کے موافق ہو گی بنی نوع انسانی کے لیے زیادہ مفید اور زیادہ اچھی حکومت ہو گی۔ شریعت اسلام یہ بھی چاہتی ہے کہ مسلمان بنی نوع انسان اسی حکومت و سلطنت کے ماتحت زندگی بسر کریں جو شریعت اسلام کے موافق قائم ہو‘ لہذا خلافت کو شریعت اسلام سے خصوصی تعلق ہے اور یہ کہنا کہ خلافت کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں سراسر غلط اور نادرست ہے‘ ایسی حکومت و سلطنت جو احکام شرع کے موافق قائم نہ ہو اور قہرو جبر نیز انسانی تدبیروں کی بنا پر اس کا قیام و استحکام ہو ہرگز بنی نوع انسان کے لیے اس قدر مفید و بابرکت ثابت نہیں ہو سکی جیسی کہ قانون شرع کے موافق قائم شدہ حکومت نوع انسان کے لیے موجب فلاح ثابت ہوئی ہے۔ پس ایسی حکومت جو قانون شرع کے موافق دنیا میں قائم رہی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے اصحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی حکومت تھی اور دنیا میں اس سے پہلے یا اس کے بعد کوئی ایسی حکومت نظر نہیں آتی جو اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حکومت سے بہتر اور بنی نوع انسان کے لیے زیادہ مفید ثابت کی جا سکے‘ اسی حکومت و سلطنت کا نام خلافت راشدہ ہے‘ اس کے بعد اگرچہ خلافت کے نام سے حکومت اسلامی کا سلسلہ آج تک قائم ہے مگر اس میں تھوڑا یا بہت دینوی سلاطین کا طرز و انداز شامل ہوتا رہا ہے اور اسی نسبت سے شرعی حکومت اور قانون شرع کا رنگ ہلکا ہوتا رہا۔