خلافت راشدہ
اسلامی خلافت
نوع انسان کی تمام ترقیات اور انسان کی تمام علمی و اخلاقی فضیلتیں درحقیقت نتیجہ ہیں تعلیمات انبیاء علیہ السلام کا ‘ نبی دنیا میں کبھی بحیثیت معلم تشریف لائے ہیں‘ مثلاً سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور کبھی بحیثیت بادشاہ تشریف لائے ہیں مثلاً سیدنا دائود علیہ السلام ‘ بادشاہ نبی کی شریعت بمقابلہ معلم نبی کی شریعت کے زیادہ کامل اور زیادہ عظیم الشان ہوا کرتی ہے‘ معلم نبی اپنی امت کے ہر فرد کی زندگی کے لیے ایک نمونہ پیش کرتا ہے‘ لیکن بادشاہ نبی علاوہ نمونہ پیش کرنے کے اس نمونہ پر لوگوں کو عامل بناجاتا ہے یعنی اپنی لائی ہوئی شریعت کو نافذالفرمان قانون کا مرتبہ دے جاتا ہے۔
معلم نبی جب اپنا کام ختم کر کے اس دنیا سے جاتا ہے تو امر نبوت میں کوئی اس کا جانشیں نہیں ہوتا‘ نہ ہو سکتا ہے‘ کیونکہ نبی خدائے تعالیٰ سے حکم پا کر بندوں کو خبر پہنچاتا ہے یعنی اس پر وحی نازل ہوتی ہے‘ اب اگر اس کام میں کوئی اس کا جانشیں ہو تو اس پر وحی نازل ہونی چاہیے‘ اور جو کام نبی کرتا تھا وہی وہ بھی کرے‘ اندریں صورت وہ جانشیں بجائے خود نبی کہلائے گا اور اس میں اور اس کے پیش رو میں کوئی فرق نہ ہو گا‘ پہلا نبی دنیا سے اسی وقت رخصت ہوتا ہے جب نبوت کے کام کو ختم کر جاتا ہے‘ پس اس کے لیے جانشیں یعنی دوسرے نبی کی مطلق ضرورت نہیں ہوتی‘ یہی وجہ ہے کہ جو نبی صرف معلم نبی تھے ان کا کوئی جانشیں نہیں سنا گیا‘ لیکن بادشاہ نبی چونکہ نبی ہونے کے علاوہ بادشاہ بھی ہوتے ہیں اس لیے ان کے فوت ہونے پر امر نبوت میں تو کوئی ان کا جانشیں نہیں ہوتا‘ لیکن امر سلطنت میں ضرور ان کا جانشیں ہوتا ہے‘ بادشاہ نبی کا جانشیں بادشاہ ہوتا ہے اور چونکہ اس نبی کا تربیت کردہ اور پورے طور پر تعلیم یافتہ ہوتا ہے لہذا اس کی سلطنت و حکومت کا نمونہ اور بہترین حکومت و سلطنت ہوتی ہے‘ یہ جانشین یا خلیفہ نبی کی لائی ہوئی شریعت میں ایک رتی برابر بھی تغیر و تبدل نہیں کر سکتا‘ کیونکہ امر نبوت یعنی شریعت کا کام تو نبی ختم کر گیا‘ اس خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ حکومت و سلطنت کا کام بالکل اپنے رسول کے نمونے پر چلائے‘ اسی لیے اس کی حکومت و سلطنت جو حکومتوں کا اعلیٰ نمونہ ہوتی ہے دوسری حکومتوں سے زیادہ اچھی اور بزرگ و قابل تکریم حکومت سمجھی جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم چونکہ کامل و مکمل اور آخری رسول صلی اللہ علیہ و سلم تھے اور کامل و مکمل ہدایت نامہ لے آئے تھے‘ لہذا بادشاہ نبی تھے‘ ان کی حکومت و بادشاہت دنیا کی تمام حکومتوں اور بادشاہتوں کے لیے قیامت تک بہترین نمونہ ہے‘ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی قیامت تک ہر انسان کے لیے بہترین نمونہ زندگی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد ان کے جانشیں یا خلیفہ کا ہونا ضروری تھا‘ چنانچہ امر سلطنت میں ان کے جانشیں ہوئے‘ ان جانشینوں میں جو لوگ براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے تربیت کردہ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے فیض یافتہ یعنی صحابہ رضی اللہ عنھم کرام تھے‘ وہ خلیفہ سلطنت تھے‘ وہ سلطنت و حکومت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حکومت و سلطنت سے زیادہ مشابہ رکھنے کی قابلیت و اہلیت زیادہ رکھتے تھے‘ لہذا ان کی سلطنت و حکومت یعنی خلافت‘ خلافت راشدہ کے نام سے موسوم ہو گئی‘ اس کے بعد جوں جوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بعد ہوتا گیا خلافت کی حالت وحیثیت میں بھی فرق پیدا ہوتا گیا۔