ہجرت کا گیارہواں سال
انصاف پسندی
فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے کہ بنی مخزوم میں سے ایک عورت فاطمہ بنت الاسود چوری کے جرم میں پکڑی گئی‘ ثبوت جرم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا‘ شرفائے قریش کو یہ عار ناگوار گذری‘ انہوں نے چاہا کہ سفارش کر کے اس عورت کو سزا سے بچا لیں‘ مگر سفارش کرنے کی جرات نہ ہوئی‘ آخر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو کہہ سن کر آمادہ کیا‘ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے سفارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسامہ رضی اللہ عنہ ! تم اللہ کی مقرر کردہ سزا (حد) میں سفارش کو دخل دیتے ہو‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کے مجمع میں تقریر فرمائی کہ اے لوگو! تم سے پہلے کی قومیں اسی لیے تباہ ہو گئیں کہ جب ان میں کوئی خاندانی شخص چوری کرتا تھا تو لوگ اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تھا تو اسے سزا دیتے تھے‘ خداگواہ ہے کہ اگر فاطمہ رضی اللہ عنھا بنت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے چوری کی ہوتی تو یقینا میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالتا۔۱؎