مقدمہ
تاریخ سلطنت
انسان کو دوسرے حیوانات کے مقابلہ میں یہ امتیاز حاصل ہے کہ دوسرے حیوانات اپنی طاقتوں میں محدود رکھے گئے ہیں اور پیدائشی طور پر ان کے حسب ضرورت محدود سامان بلا ان کی سعی و کوشش کے دے دیا گیا ہے‘ لیکن انسانوں کو موقع دیا گیا ہے کہ جس قدر سعی و کوشش کرے گا اسی قدر ترقی کا میدان اپنے سامنے وسیع پائے گا‘ اس مدعا کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ انسان ہر وقت سفر میں رہنے اور پستی سے بلندی کی طرف انتقال کرتے رہنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے‘ انسانوں میں جو انسان زیادہ سفر طے کر لیتا یا یوں کہئے کہ زیادہ بلندی پر پہنچ جاتا ہے وہ چونکہ اپنے سوا دوسرے ہم جنسوں کو پیچھے یا نیچے دیکھتا ہے‘ اس لیے اگرچہ وہ حقیقتاً کامل نہیں ہوتا لیکن نسبتاً کامل اور دوسرے اس کے مقابلہ میں ناقص رہتے ہیں اور چونکہ اس نسبتاً کامل کے لیے ہمیشہ ترقی کی گنجائش باقی ہے اس لیے وہ باوجود ایک نسبتی کمال کے اپنے آپ کو ناقص ہی پاتا ہے۔
دوسرے الفاظ میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی فطرت میں عبودیت یعنی حقیقی واہب ترقیات کی فرمانبردای ودیعت کی گئی ہے {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِِنسَ اِِلَّا لِیَعْبُدُوْن}۱؎ جو انسان سب سے اوپر اور سب سے آگے نظر آتا ہے وہ چونکہ ایک مجازی اور نسبتی کمال رکھتا ہے لہذا عام انسان اپنی فطرت کے تقاضے سے مجبور ہیں کہ اس کے سامنے فرماں برداری کا اظہار کریں اور یہی فلسفہ ہے بادشاہت اور حکومت کا اور اسی سے وہ مقولہ بھی سمجھ میں آ جاتا ہے کہ بادشاہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہوتا ہے۔۲؎ یہ بات فراموش نہیں ہونی چاہیئے کہ بادشاہ یا فرماں روا نسبتی کامل ہے نہ کہ حقیقی‘ کیونکہ حقیقی کمال جس وجود میں پایا جائے گا وہ مطلق ہو گا نہ کہ محدود اور محیط ہو گا نہ کہ محاط اور منفرد ہو گا نہ کہ متعدد اوربانی ہو گا نہ فانی اور واجب ہو گا نہ ممکن وغیرہ اور اسی ذات وحدہ لاشریک کا نام خدائے تعالیٰ ہے جو ہر ایک نقص ہر ایک عیب اور ہر ایک برائی سے مبرا اور تمام صفات حسنہ کاملہ سے متصف ہے اور وہی حقیقی بادشاہ ‘ حقیقی نافذ الفرمان اور حقیقی حاکم ہے۔
غرض کہ انسان چونکہ ہر حالت میں اپنے آپ کو ناقص دیکھنے کی فطرت رکھتا ہے اس لیے فرمانبردای اور اطاعت بھی اس کی فطرت ہوئی اور اسی فطرت کے خلاف کرنے سے حقیقی فرماں روانے اس کو روکا ہے جیسا کہ فرمایا ہے {اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ} ۳؎ مجازی نافذ الفرمان یا بادشاہ وہی ہو سکتا ہے جو دوسروں کے مقابلہ میں کمال رکھتا ہو‘ پس ہر ایک صاحب کمال کا اپنے آپ سے نیچے درجہ والوں کو زیر فرمان دیکھنے کی توقع کرنا بھی ایک فطری تقاضا ہوا‘ لیکن چونکہ انسان میں اپنی فطرت کے خلاف کرنے اور اپنی قوتوں کو ترقی دینے کے بجائے تنزل کرنے کی بھی استعداد ہے‘ اس لیے ضروری تھا کہ ایسا بھی دیکھا جائے کہ ایک انسان جو ایک وقت میں دوسروں سے بہت ناقص اور پیچھے ہو جائے ‘ یا یہ کہ وہ ناقص یا پیچھے ہونے کی حالت میں اپنی فطرت کے خلاف اس چیز کی خواہش کرے‘ جو کسی طرح اس کا حق نہیں بلکہ ایک کامل کا ہے‘یہی وجہ ہے کہ حکومتوں اور بادشاہوں کے سلسلہ میں ہمیشہ کشمکش اور تلاطم ہی نظر آتا ہے‘ نافذ الفرمان ہونے کی دو بڑی قسمیں ہیں‘ ایک روحانی دوسری جسمانی‘ یا یوں کہے کہ ایک نبوت اور دوسری سلطنت۔
وہ کمالات جن کا سلطنت اور مادی حکومت سے تعلق ہے اور جو حکومت و فرمانبرداری کا موجب بنتے ہوئے دیکھے گئے ہیں‘ ان کا تذکرہ طالوت اور دائود علیہ السلام کی بادشاہتوں کے ذکر میں اس طرح ہے کہ: {وَ قَالَ لَھُمْ نَبِیُّھُمْ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوْتَ مَلِکًا} ۱؎ ’’ان کے نبی نے ان سے کہا کہ خدائے تعالیٰ نے تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ بنایا ہے۔‘‘ بنی اسرائیل نے طالوت کی بادشاہت کا حال سن کر اعتراض کیا تو جواب ملا کہ {اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰہُ عَلَیْکُمْ وَ زَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ} ۲؎ یعنی خدائے تعالیٰ نے طالوت کو تمہارے اوپر بادشاہت کرنے کے لیے منتخب فرما لیا ہے اور طالوت کو علم اور جسم میں فوقیت حاصل ہے‘‘ پھر آگے دائود علیہ السلام کی نسبت فرمایا:
{وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ عَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآئُ} ۳؎
تاریخی مطالعہ سے جہاں تک پتہ چلتا ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کو کسی قوم کی عصبیت کا مرکز بننے اور علمی و جسمانی طور پر فوقیت حاصل کرنے کا موقع ملا وہ فوراً اس قوم کا فرمان روا اور سلطان تسلیم کرلیا گیا‘ اب سے تین ہزار سال پیشتر تک قوت جسمانی اور پہلوانی و بہادری ہی حکومت و سلطنت حاصل کرنے کے لیے ضروری چیز سمجھی جاتی تھی‘ جس کے ساتھ قوت دماغی بھی ایک ضروری چیز تھی۔ اس کے بعد بتدریج نسل انسان میں جوں جوں دوسرے صفات پیدا ہوتے گئے اسی مناسبت سے بادشاہوں کی صفات اور بادشاہت کی شرائط میں اضافہ ہوتا گیا‘ غرض کہ دنیا میں ہمیشہ بادشاہ کا مفہوم بہترین اور قیمتی انسان رہا ہے اور فتنہ و فساد کے ہنگامے قتل و غارت کے حوادث اسی وقت رونما ہوئے جب کہ غیر مستحق یعنی ناقابل بادشاہت شخص کو تخت حکومت پر جگہ ملی۔ اس کلیہ میں کسی جگہ استثناء نہ پائو گے اور اس حقیقت کے خلاف ہرگز دوسری بات ثابت نہ کر سکو گے۔
ہر ایک انسان چونکہ اپنی پیدائش اور فطرت میں یکساں حقوق اور یکساں مرتبہ رکھتا ہے‘ لہذا اکتسابی صفات اور سعی و کوشش کے نتائج سے جو فضائل ہو سکتے ہیں وہی انسان کو حکومت و فرمانروائی کا مقام دلا سکتے ہیں۔ {لَّیْسَ لِلْاِِنسَانِ اِِلَّا مَا سَعٰی} ۱؎ ہربزرگ خاندان اپنی صفات حسنہ کی وجہ سے اپنے خاندان والوں کا فرماں روا اور بادشاہ ہے ‘ ہر گائوں کا نمبر دار اپنے گائوں کا فرماں روا اور بادشاہ ہے اور یہ نوع انسان کی ابتدائی زمانہ کی حکومت وسلطنت کے نمونے ہیں جو آج ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں‘ اور ہم ان میں کوئی نقص اور سقم نہیں نکال سکتے‘ ہاں اگر نقص اور سقم بتایا جاسکتا ہے تو اسی حالت میں جب کہ افراد خاندان میں سے غیر مستحق اور ناقابل شخص کو بزرگ خاندان مانا گیا‘ یا گائوں کا نمبردار‘ برادری کا چودھری‘ محلہ کا میر محلہ اس گائوں اس برادری‘ اس محلہ کا بہترین شخص نہ ہو۔