ہجرت کا نواں سال
اہل طائف کا قبول اسلام
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے غزوہ تبوک سے واپس تشریف لانے کی خبر اہل طائف نے سنی تو ان کو یقین ہو گیا کہ مسلمانوں سے لڑنے کی طاقت ہم میں نہیں ہے‘ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو طائف میں شہید ہوئے تھے ان کے لڑکے ابوالملیح رضی اللہ عنہ ‘ اور بعض دوسرے آدمی اہل طائف سے مدینہ میں آ کر مسلمان ہو چکے تھے‘ تبوک سے واپس ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عبدیا لیل بن عمرو اہل طائف کی طرف سے وکیل بن کر آئے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان لوگوں کے لیے مسجد میں ایک خیمہ نصب کرا دیا‘ عبدیا لیل اور ان کے ہمراہیوں نے اسلام قبول کیا اور اپنی قوم کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک پر بیعت کی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان پر عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو حکمراں مقرر فرما دیا اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لات کے بت اور مندر کے منہدم کرنے کے لیے روانہ کیا‘ بت خانے کے خزانہ میں سے جو مال برآمد ہوا اس سے سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قرضہ ادا کیا گیا‘ باقی مسلمانوں میں تقسیم کر دیا گیا۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے تبوک سے مدینے میں واپس آتے ہی پھر وفود کا سلسلہ جاری ہو گیا‘ برابر وفود آتے‘ اسلام قبول کرتے اپنی اپنی قوم کی طرف سے بیعت کرتے اور تعلیم اسلام کے لیے معلم ہمراہ لے کر واپس ہوتے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہر ایک وفد کو رخصت کرتے وقت انعام اور صلہ بھی ضرور دیتے تھے۔۲؎
تبوک سے واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک جمعیت دے کر بلادطے کی جانب روانہ کیا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بلادطے کے قریب پہنچ کر حملہ کیا‘ عدی بن حاتم فرار ہو کر شام کی طرف بھاگ گیا‘ سیدنا علی حاتم کی لڑکی کو قید کر لائے اور دو تلواریں ان کے بت خانے سے لوٹ لائے جن کو حرث بن ابی عمر نے چڑھایا تھا‘ حاتم کی لڑکی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مجھ پر احسان کیجئے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے تجھ پر احسان کیا یعنی تجھ کو آزاد کر دیا لیکن تو جلدی نہ کر کوئی معتبر اور معزز شخص آئے تو میں اس کے ہمراہ تجھ کو تیرے ملک میں پہنچا دوں ‘ اتنے میں چند لوگ ملک شام کے آئے ان کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس لڑکی کو کپڑے اور زاد راہ وغیرہ دے کر رخصت کیا۔
یہ لڑکی جب اپنے بھائی عدی بن حاتم کے پاس پہنچی تو عدی نے اپنی بہن سے پوچھا کہ تو نے اس شخص یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو کیسا پایا؟ اس نے کہا کہ وہ شخص ملنے کے قابل ہے نہایت خلیق اور اعلیٰ درجہ کا محسن ہے‘ عدی یہ سنتے ہی اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی قوم کی طرف سے وفد ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی بڑی عزت کی اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے اپنے ہمراہ لیے ہوئے مکان پر آئے اور اس کو بچھونے پر بٹھایا‘ ایک عورت اثناء راہ میں مل گئی‘ اس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو روک لیا‘ جب تک وہ بات کرتی رہی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کھڑے رہے‘ عدی بن حاتم کو اس خلق نے مسخر کر لیا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے عدی بن حاتم کو کچھ نصائح فرمائے‘ عدی بن حاتم نے اپنا ہاتھ بڑھایا‘ بیعت کی اور مسلمان ہو کر اپنی قوم کی طرف واپس ہوئے۔۱؎