ہجرت کا نواں سال
غزوہ تبوک
فتح مکہ اور جنگ حنین کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو ملک عرب کے مشرک لوگ خود بخود آ آ کر اسلام میں داخل ہونے شروع ہو گئے۔ ۹ ھ کے شروع ہوتے ہی ملک عرب کے دور دراز علاقوں سے قبیلوں اور قوموں نے اپنے وکلاء بھیج بھیج کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا اقرار کیا اور دائرہ اسلام میں داخل ہوئے‘ اس سال بڑی کثرت سے وفود آئے اور عرب قبائل برابر مسلمان ہوتے رہے‘ اسی لیے ۹ ھ عام الوفود کے نام سے مشہور ہے۔۱؎
اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دینوی اعتبار سے بھی شہنشاہ عرب کی حیثیت حاصل ہو چکی تھی‘ مسلمانوں پر تو زکو ۃ فرض تھی‘ جو قبائل ابھی تک مسلمان نہ ہوئے تھے ان سے ایک خفیف رقم بطور جزیہ وصول کی جاتی تھی‘ بس یہی زکو ۃ یا جزیہ وہ خراج تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شہنشاہی میں رعایا سے وصول کیا جاتا تھا‘ زکو ۃ کے متعلق بعض دقتیں بھی پیش آئیں‘ بعض عامل بھی شہید ہوئے‘ بعض قبائل کو اس انتظام کے قائم رکھنے کی وجہ سے سرزنش بھی کی گئی بالآخر یہ انتظام اور ملک کا نظام بحسن و خوبی قائم ہو گیا۔
غزوہ تبوک
جنگ موتہ کی ہزیمت کا انتقام لینے کے لیے غسانی بادشاہ نے ایک لشکر عظیم فراہم کر کے ہرقل روم سے امداد طلب کی‘ ہرقل نے چالیس ہزار کا لشکر جرار غسانی بادشاہ کے پاس بھیجا اور خود بھی عظیم الشان فوج لے کر عقب سے روانہ ہونے کا قصد کیا‘ ابوعامر راہب جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے مکہ سے قیصر روم کے پاس چلا گیا تھا‘ اس کا کام اور مقصد یہی تھا کہ قیصر کو مدینہ پر حملہ آور ہونے کے لیے اکسائے ادھر اس نے منافقین مدینہ سے برابر خفیہ پیام سلام کا سلسلہ جاری رکھا‘ اسی کے دئیے ہوئے مشورے کے موافق منافقین نے مسجد ضرار کی تعمیر شروع کی تھی‘ غرض سرحد شام پر عیسائی فوجوں کے اجتماع اور قیصر کے مدینہ پر حملہ آور ہونے کی خبریں متواتر مدینہ میں پہنچنی شروع ہوئیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس عیسائی حملہ کو ملک شام کی سرحد ہی پر روکنا ضروری سمجھا کیونکہ ملک عرب کے اندر ہرقل روم کی فوجوں کے داخل ہونے سے یک لخت تمام ملک عرب میں بدامنی کے پیدا ہونے کا قوی احتمال تھا‘ نیز سرحد پر ایسے لشکر عظیم کا اجتماع کوئی ایسی بات نہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس کو معمولی سی بات سمجھ کر خاموش رہتے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے عام طور پر قبائل کو اطلاع دی کہ ہرقل کی فوجوں کے مقابلہ کے واسطے آ آ کر شریک لشکر ہونا چاہیے‘ مسلمان اطراف ملک سے آ آ کر مدینہ منورہ میں جمع ہونے شروع ہوئے۔
منافقین کی جماعت مدینے میں موجود تھی‘ یہ لوگ مسلمانوں کو ہمیشہ بہکانے اور اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہتے تھے۔ اس سے پہلے جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی طرف کو فوج لے جانے کا عزم فرمایا پہلے سے اس کا اعلان نہیں فرماتے تھے‘ تاکہ منافقین کو اعتراض کرنے اور مسلمانوں کے بددل بنانے کا موقع نہ مل سکے‘ عین وقت کے وقت مسلمانوں کو معلوم ہوتا تھا کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں‘ اس مرتبہ چونکہ بڑا لشکر جمع کرنا تھا اور اس کا سامان فراہم کرنا بھی دشوار کام تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اعلان کر دیا تھا کہ ہرقل کی فوجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سرحد شام کی طرف مسلمانوں کو جانا پڑے گا‘ گذشتہ سال چونکہ خشک سالی رہی تھی اس لیے لوگوں کی مالی حالت بھی سقیم تھی‘ اس سال فصل اور پیداوار اچھی ہوئی تھی اور اس کے کاٹنے کا وقت آ چکا تھا‘ لہذا لوگ اپنی فصلوں کو چھوڑ کر جانا بالطبع کسی قدر گراں محسوس کرتے تھے۔
ہرقل اور اس کے وزراء نے اپنے اس حملہ کی تیاریوں کے سلسلہ میں منافقین مدینہ کو پہلے ہی سے اپنا شریک بنا لیا تھا‘ مدینہ کے منافقوں کی سازشی مجلسیں سویلم نامی یہودی کے یہاں روزانہ منعقد ہوتی تھیں‘ بارہ منافقوں نے مل کر اپنی ایک مسجد علیحدہ تعمیر کی‘ مدعا یہ تھا کہ اس مسجد میں سازشی جلسے اور ہر قسم کی مخالف اسلام صلاح و مشورہ کی باتیں ہوا کریں گی اور اس مسجد کے ذریعہ مسلمانوں میں تفرقہ و نا اتفاقی پیدا کرنے کا سامان پیدا کیا جائے گا‘ ان منافقوں نے جب دیکھا کہ مسلمان جنگ اور سفر کی تیاریوں میں مصروف ہیں تو ہمت شکن باتیں کرنی شروع کیں‘ اور موسم گرما کے اس طویل سفر کی دقتیں لوگوں میں بیان کرنے لگے‘۱؎ کیونکہ ان کا مقصد قیصر کی فوجوں کو مدینہ پر حملہ آور کرانا تھا‘ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان ملک شام کی طرف پہلے ہی حملہ آور ہو کر عیسائی فوجوں کے سیلاب کو عرب میں داخل ہونے سے روک دیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ میں تمام صحابہ رضی اللہ عنھم کو تیار کرنے اور شریک لشکر ہونے کا حکم دیا تھا‘ ساتھ ہی زاد راہ‘ سواری‘ سلاح جنگ وغیرہ کے لیے روپے کی زیادہ ضرورت تھی‘ اس لیے چندہ کی بھی عام اپیل فرمائی تھی‘ منافقین نے لوگوں کے بہکانے اور مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اپنا مال تجارت شام کی طرف روانہ کرنے والے تھے‘ انہوں نے وہ تمام سامان لشکر کی تیاری کے لیے چندہ میں دے دیا جس کی مقدار نو سو اونٹ‘ اور سو گھوڑے معہ سازو براق‘ اور ایک ہزار دینار طلائی تھی۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کا تمام مال و اسباب لا کر چندہ میں دے دیا اور کہا کہ بال بچوں کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر آیا ہوں۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے مال و اسباب سے نصف راہ اللہ تعالیٰ میں لا کر دے دیا اور نصف اہل و عیال کے لیے چھوڑا۔
جو لوگ بہت ہی غریب تھے اور محنت مزدوری سے گذر کرتے تھے انہوں نے بھی بڑی دلیری سے جو کچھ ان سے ہو سکا لا لا کر جمع کر دیا‘ منافقین نے اس چندہ میں بھی شرکت نہ کی‘ تیس ہزار لشکر مدینہ میں جمع ہو گیا‘ فوجی سامان صرف اس قدر درست ہوا کہ تمام فوج نے جوتے بنا لیے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا تھا کہ تم لوگ جوتے بنا لو کیونکہ پائوں میں جوتا ہونے سے آدمی سوار کے حکم میں سمجھا جاتا ہے۔