ہجرت کا آٹھواں سال
انصار کی والہانہ محبت رسول صلی اللہ علیہ و سلم
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مقام جعرانہ میں جب مال غنیمت تقسیم کیا تو مکہ والوںکو جو مولفۃ القلوب تھے زیادہ زیادہ رقمیں دیں اور بعض کو کئی گناہ ان کے حصہ سے زیادہ مال غنیمت ملا‘‘ مکہ والے چونکہ اکثر قریش یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اپنے رشتہ دار اور ہم وطن تھے اس لیے انصار کے بعض نوجوانوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رشتہ داروں اور ہم وطنوں کو بلا استحقاق مال و دولت عطا کی اور ہم کو معمولی حصہ سے زیادہ کچھ نہ دیا‘ حالانکہ عطیات کے زیادہ مستحق تو ہم لوگ تھے۔
بہ بھنک اڑتی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سمع مبارک تک بھی پہنچ گئی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام انصار کو ایک جگہ جمع کیا‘ جب سب جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سب کو مخاطب کر کے فرمایا۔: کہ کیا تم نے ایسا ایسا کہا ہے؟ انصار کی طرف سے جواباً عرض کیا گیا کہ ہمارے نوجوانوں نے اس قسم کی باتیں ضرور کی ہیں‘ لیکن ہم میں سے کسی پختہ مغز اور سمجھدار شخص کو اس بات کا خیال تک بھی نہیں آیا‘ نہ ہم کو کبھی ایسا خیال آ سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ سن کر فرمایا کہ ’’اے جماعت انصار! کیا یہ سچ نہیں ہے کہ تم لوگ گمراہ تھے‘ خدائے تعالیٰ نے میری بدولت تم کو ہدایت عطا فرمائی؟ انصار نے عرض کیا’’بے شک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ہم پر بہت بڑا احسان ہوا‘‘۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ’’تم لوگ آپس ایک دوسرے کے دشمن تھے‘ میری بدولت تم میں اتفاق پیدا ہوا‘ انصار نے عرض کیا بے شک آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہم پہ بڑا احسان فرمایا‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم لوگ نادار تھے‘ میری بدولت اللہ تعالیٰ نے تم کو غنی کیا‘ انصار نے عرض کیا بے شک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ہم پر بڑا احسان ہوا۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ نہیں تم مجھ کو جواب دے سکتے ہو کہ ساری دنیا نے تجھ کو جھٹلایا اور ہم نے تیری تصدیق کی‘ سب نے تجھ کو چھوڑ دیا اور ہم نے پناہ دی‘ تو محتاج تھا ہم نے تیری مدد کی اور میں تمہاری ان سب باتوں کی تصدیق کروں گا‘ اے جماعت انصار! کیا تم کو یہ پسند نہیں کہ لوگ اونٹ اور بکری لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے گھر لے کر جائو‘‘۔
یہ تقریر سن کر انصار بے اختیار رو پڑے اور آنسئوئوں کی جھڑی سے ان کی ڈاڑھیاں تر ہو گئیں‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر ہجرت ایک تقدیری حکم نہ ہوتا تو میں بھی انصار میں ہی شامل ہوتا‘ اگر انصار ایک راستے پر چلیں اور لوگ دوسرا راستہ اختیار کریں تو میں یقینا انصار کا راستہ اختیارکروں گا۔ اے اللہ! انصار اور انصار کے لڑکوں پر اور ان کے لڑکوں پر رحم کر‘‘ یہ سن کر انصار کی جو حالت تھی اور ان کو جس قدر خوشی تھی اس کا ہم صرف تصور کر سکتے ہیں‘ بذریعہ الفاظ کیسے بیان کیا جا سکتا ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انصار کو سمجھایا کہ یہ لوگ ابھی تازہ مسلمان ہوئے ہیں‘ تالیف قلوب کے خیال سے ان کو زیادہ مال دیا گیا ہے‘ یہ نہیں کہ ان کا حق زیادہ ہے۔۱؎