ہجرت کا آٹھواں سال

غزوہ حنین

فتح مکہ‘ اور اکثر قریش کے داخل اسلام ہونے کی خبر سن کر عرب کے ان قبائل میں زیادہ کھلبلی اور پریشانی پیدا ہوئی جو مسلمانوں کے حلیف نہ تھے‘ انہیں میں ہوازن اور ثقیف کے قبائل تھے‘ جو طائف اور مکہ کے درمیان رہتے اور قریش کے حریف و مدمقابل سمجھے جاتے تھے‘ یہ قبائل نہ مسلمانوں کے حلیف تھے‘ نہ قریش مکہ کے‘ ان کو یہ فکر پیدا ہوئی کہ مسلمان مکہ کے بعد اب ہمارے اوپر حملہ آور ہوں گے‘ بنو ہوازن کے سردار مالک بن عوف نے بنو ہوازن اور بنو ثقیف کے تمام قبائل کو جنگ کے لیے آمادہ کر کے اپنے گرد جمع کر لیا‘ قبائل نصر‘ حبشم‘ سعد وغیرہ بھی سب آمادہ جنگ ہو کر شریک ہو گئے اور مقام اوطاس میں اس لشکر عظیم کا اجتماع ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جب مکہ میں اس لشکر عظیم کے جمع ہونے کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے عبداللہ بن ابی حدرد اسلمیٰ کو بطور جاسوس خبر لینے کے لیے روانہ کیا‘ انہوں نے واپس آ کر بیان کیا کہ دشمنوں کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں‘ اور وہ جنگ کے لیے مستعد ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فوراً جنگ کی تیاری شروع کی‘ دس ہزار مہاجر و انصار آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ مدینے سے آئے تھے وہ سب اور دو ہزار اہل مکہ‘ کل بارہ ہزار کا لشکر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ مکہ سے روانہ ہوا‘ اہل مکہ کے دو ہزار آدمیوں میں کچھ نو مسلم تھے اور کچھ لوگ ایسے تھے جوابھی تک مشرکانہ عقائد پر قائم تھے‘ پہلی شوال ۸ ھ کو لشکر اسلام تہامہ کی وادیوں سے گذر کر وادی حنین میں پہنچا ‘ دشمنوں نے لشکر اسلام کے قریب پہنچنے کی خبر سنا کر وادی حنین کے دونوں جانب کمین گاہوں میں چھپ کر مسلمانوں کے لشکر کا انتظار کیا۔ مسلمان وادی کی شاخ در شاخ اور پیچیدہ گذر گاہوں میں ہو کر نشیب کی طرف اترنے لگے تھے‘ اور صبح کاذب کی تاریکی پھیلی ہوئی تھی کہ اچانک دشمنوں کی فوجوں نے کمین گاہوں سے نکل نکل کر تیر اندازی اور شدید حملے شروع کر دئیے‘ اس اچانک آپڑنے والی مصیبت اور بالکل غیر متوقع حملے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان سراسیمہ ہو گئے‘ اور اہل مکہ کے دو ہزار آدمی سب سے پہلے حواس باختہ ہو کر بھاگے‘ ان کو دیکھ کر مسلمان بھی جدھر جس کو موقع ملا منتشر ہونے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم وادی کے داہنی جانب تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا فضیل بن عباس رضی اللہ عنہ ‘ ابوسفیان بن الحراث رضی اللہ عنہ اور ایک مختصر سی جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی رہ گئی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے سفید خچر دلدل نامی پر سوار تھے‘ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اس کی لگام تھامے ہوئے تھے‘ اس سخت پریشانی اور افرا تفری کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم بلند آواز سے فرماتے تھے۔ اناالنبیلاکذباناابنعبدالمطلب۱؎ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس استقلال اور شجاعت نے کسی قدر مسلمانوں کی ہمت بندہائی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اردگرد دشمن پوری طاقت سے حملہ آور تھے اور یہ مٹھی بھر آدمی ان سے لڑ رہے تھے‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو جو بلند آواز تھے حکم دیا کہ مسلمانوں کو اس طرف بلائو‘ چنانچہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ہر قبیلہ کا نام لے لے کر آواز دینی شروع کی کہ اس طرف آئو‘ اس آواز کو پہچان کر مسلمان اس طرح اس آواز کی طرف دوڑے جیسے گائے کے بچھڑے اپنی ماں کی آواز سن کر اس کی طرف دوڑتے ہیں‘ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب صرف سو ہی آدمی پہنچ سکے باقی دشمنوں کے درمیان حائل ہو جانے سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم تک نہ پہنچ سکے اور وہیں سے لڑنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ اکبر کہہ کر دلدل کو دشمنوں کی طرف بڑھایا اور ان سو آدمیوں کے مختصر دستے نے ایسا سخت حملہ کیا کہ اپنے سامنے سے دشمنوں کو بھگا دیا اور ان کے آدمیوں کو گرفتار کرنا شروع کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا نعرہ تکبیر سن کر اور دشمنوں پر حملہ آوری دیکھ کر مسلمانوں نے بھی ہر طرف سے سمٹ کر دشمنوں پر نعرہ تکبیر۲؎ کے ساتھ حملہ کیا اور ذرا سی دیر میںلڑائی کا نقشہ بدل گیا‘ دشمنوں کو کامل ہزیمت ہوئی۔۳؎ اس لڑائی میں مسلمانوں کو مشرکین اہل مکہ کے سبب جو شریک لشکر تھے ابتدا میں ہزیمت ہوئی تھی‘ کیونکہ انہوں نے خود بھاگ کر دوسروں کے قدم بھی متزلزل کر دئیے تھے‘ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی انتہائی شجاعت اور استقلال نے تھوڑی ہی دیر میں مسلمانوں کو سنبھال لیا اور دشمنوں کو شکست فاش نصیب ہوئی۔ جس وقت لڑائی کا عنوان بگڑا ہوا تھا اور مسلمانوں میں جنگ کی افراتفری نمودار تھی تو ایک شخص مکہ والوں میں خوشی کے لہجے میں پکار اٹھا کہ لو آج سحر کا خاتمہ ہو گیا‘ ایک شخص نے کہا کہ مسلمانوں کی ہزیمت اب رک نہیں سکتی‘ یہ اسی طرح ساحل سمندر تک بھاگتے ہوئے چلے جائیں گے‘ ایک شخص شیبہ نامی نے کہا آج میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے بدلہ لوں گا‘ یہ کہہ کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف برے ارادہ سے چلا لیکن راستے ہی میں بیہوش ہو کر گر پڑا۔۱؎ ہوازن کے میدان جنگ میں بہت سے آدمی مارے گئے اور وہ بالآخر میدان چھوڑ کر بھاگ گئے‘ ان کے بعد قبائل ثقیف کے لوگوں نے تھوڑی دیر میدان کار راز کو گرم رکھا آخر وہ بھی فرار کی عارگوارا کرنے پر مجبور ہوئے‘ اس لڑائی میں دشمنوں کے بڑے بڑے سردار اور بہادر لوگ مسلمانوں کے ہاتھ سے مارے گئے‘ لیکن ان کا سپہ سالار اعظم مالک بن عوف فرار ہو کر طائف کی طرف گیا اور طائف والوں نے ان مفروروں کو اپنے یہاں پناہ دے کر شہر کے دروازے بند کر لیے‘ مفرورین کا ایک حصہ مقام اوطاس میں جمع ہوا اور ایک حصہ نے مقام نخلہ میں پناہ لی‘ دونوں جگہ مقابلہ اور مقاتلہ ہوا‘ لیکن مسلمانوں نے ہر مقام پر دشمنوں کو شکست دے کر بھگا دیا‘ اور مال غنیمت نیز قیدیوں کو لے کر واپس ہوئے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام اسیران جنگ اور مال غنیمت کو مقام جعرانہ میں جمع کرنے کا حکم دیا اور سیدنا مسعود بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کو حفاظت کے لیے مقرر فرما کر طائف کا قصد فرمایا۔ اس لڑائی میں چھ ہزار قیدی ۲۴ ہزار اونٹ‘ ۴۰ ہزار سے زیادہ بھیڑ بکریاں‘ چار ہزار اوقیہ چاندی مسلمانوں کے ہاتھ آئی‘ یہ لڑائی جنگ حنین کے نام مشہور ہے‘ تمام قبائل ثقیف طائف میں جمع ہو چکے تھے‘ اور اہل طائف ان کے ہمدردر بن چکے تھے۔