ہجرت کا آٹھواں سال

فتح مکہ

ماہ شعبان ۸ ھ میں مکہ کے اندر ایک عجیب حادثہ رونما ہوا‘ بنو خزاعہ اور بنوبکر حدیبیہ کے صلح نامہ کی رو سے اپنی عداوتوں کو فراموش کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور قریش مکہ کے حلیف بن گئے تھے‘ اب وہ ایک دوسرے پر حملہ آور نہیں ہو سکتے تھے‘ بنو بکر کی نیت بگڑی اور ان کے سردار نوفل بن معاویہ نے خزاعہ سے بدلہ لینا چاہا‘ قریش مکہ کا فرض تھا کہ وہ اپنے حلیف بنوبکر کو اس ارادے سے باز رکھتے اور بنو خزاعہ پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حلیف تھے حملہ نہ کرنے دیتے کیونکہ حدیبیہ میں دس سال کے لیے صلح ہوئی تھی‘ لیکن قریش مکہ نے الٹا بنوبکر کو ہتھیاروں وغیرہ سے مدد دی اور قریش میں سے صفوان بن امیہ‘ عکرمہ بن ابی جہل‘ سہیل بن عمرو وغیرہ نے بنوبکر کے ساتھ حملہ میں شرکت کی‘ بنوبکر معہ سرداران قریش بنو خزاعہ پر جا چڑھے اور اچانک ان کو قتل کرنا شروع کر دیا‘ یہ حملہ رات کے وقت ایسی حالت میں کیا گیا کہ بنو خزاعہ پڑے ہوئے سو رہے تھے‘ بنو خزاعہ مقابلہ سے مجبور ہو کر حرم میں جا چھپے‘ ظالموں نے وہاں بھی ان کو نہ چھوڑا‘ بدیل بن ورقہ خزاعی کے گھر میں گھس کر اس کا تمام گھر بار لوٹ لیا‘ اس شبخون میں بنو خزاعہ کے بیس یا تیس آدمی مارے گئے جن میں سے بعض بیت اللہ کے اندر قتل کئے گئے‘ بدیل بن ورقہ اورعمروبن سالم معہ اپنی قوم خزاعہ کے چند آدمیوں کے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بنوبکر اور قریش کے اس نقض عہد کی شکایت کریں۔ جس رات مکہ میں معاہدہ صلح کی ایسی ظالمانہ طور پر دھجیاں اڑائی جا رہی تھیں‘ خزاعہ کے چند آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا نام لے کر فریاد کی کہ اے خاتم النبیین ہماری مدد کیجئے اور فریاد سنئے بنی بکر نے ہم پر ظلم کیا ہے‘ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ام المومنین سیدنا میمونہ رضی اللہ عنھا کے حجرے میں وضو کر رہے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے خزاعہ والوں کی یہ فریاد جو مکہ میں کر رہے تھے مدینہ میں سنی اور فوراً جواب میں ’’لبیک لبیک‘‘ فرمایا۔ سیدنا میمونہ رضی اللہ عنھا نے عرض کیا کہ لبیک آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کس کے جواب میں کہا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا کہ اس وقت بنو خزاعہ کے لوگوں کی فریاد میرے کانوں تک پہنچی ہے اس کا جواب میں نے دیا ہے۔ عجیب تر یہ کہ بنو خزاعہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز اپنی فریاد کے جواب میں سنی۔۱؎ صبح کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا کہ رات مکہ میں بنو خزاعہ کو بنو بکر اور قریش نے مل کر قتل کیا ہے‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا گمان ہے کہ قریش بد عہدی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ انہوں نے ضرور عہد شکنی کی ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے حق میں حکم صادر کرنے والا ہے‘ کئی روز کے بعد بدیل بن ورقا اور عمروبن سالم خزاعی مدینے میں پہنچے‘ قریش مکہ کی عہد شکنی اور مظالم کی شکایت کی‘ عمرو بن سالم خزاعی نے ایک نہایت پردرد نظم میں اپنی مظلومی کی داستان سنائی‘ اس نظم کے بعض شعر یہ ہیں۔ ان قریشا اخلفوک الموعدا ونقضوا میثاقک الموکدا قریش نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے! اور انہوں نے مضبوط معاہدہ کو جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے کیا تھا توڑ ڈالا ہے۔ وجعلوا لی فی کداء رصدا وزعموا ان لست ادعوااحدا اور ہمیں خشک گھاس کی طرح پامال کر دیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری مدد کو کوئی نہ آئے گا۔ و ھم اذل و اقل عد داً!ھم بیتونا بالوتیر ھجدا اور وہ ذلیل ہیں اور تعداد میں قلیل ہیں۔ انہوں نے وتیر (وہ محلہ جہاں بنو خزاعہ آباد تھے) ہم کو سوتے ہوئے جا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بنو خزاعہ کے ان لوگوں کی تسلی تشفی کی اور کہا کہ ہم تمہاری امداد کو ضرور پہنچیں گے‘ ان لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینے سے مکہ کی جانب رخصت فرما دیا‘ جب یہ لوگ مدینے سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ابوسفیان مکہ سے مدت صلح بڑھانے اور عہد کو مضبوط کرنے کے لیے روانہ ہو گیا‘ لیکن وہ ناکام واپس جائے گا۔۲؎ مکہ والوں کو جب اپنے کرتوت کے نتائج پر غور کرنے کا موقع ملا تو وہ بہت خائف ہوئے اور ابوسفیان کو روانہ کیا کہ مدینے میں جا کر شرائط صلح از سر نو قائم کرے‘ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ سفر اورلڑائی کی تیاری شروع کر دو‘ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جنگ کی اس تیاری کے پوشیدہ رکھنے کی تاکید فرمائی‘ ادھر بدیل بن ورقا معہ ہمراہوں کے مدینے سے باہر جا رہے تھے‘ اور ابوسفیان مکہ سے مدینے کو آ رہے تھے‘ راستہ میں دونوں کی ملاقات ہوئی‘ ابوسفیان نے پوچھا کہ کہاں سے آ رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم اسی وادی تک آئے تھے‘۱؎ ابوسفیان کو یہ یقین تھا کہ ابھی تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تک مکہ کے اس واقعہ کی خبر نہ پہنچی ہو گی‘ اسی لیے وہ صلح نامہ کی تجدید جلد از جلد کرنا چاہتا تھا۔