ہجرت کا ساتواں سال
مکہ میں ورود
ماہ شوال ۷ ھ کے آخر تک آپ صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ منورہ میں تشریف فرما رہے‘ شروع ذیقعدہ ۷ ھ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو تیاری سفر کا حکم دیا جو گذشتہ سال صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ تھے۔ چنانچہ وہ تمام صحابہ رضی اللہ عنھم اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنھم بھی عمرہ کے لیے تیار ہوئے اور کل دو ہزار آدمی لے کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم عمرہ ادا کرنے کے لیے مدینے سے مکہ کی جانب روانہ ہوئے‘ مدینے میں سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو عامل مقرر فرما گئے۔
سال گذشتہ جو صلح نامہ حدیبیہ میں مرتب ہوا تھا اس میں یہ شرط تھی کہ مسلمان اس سال بلا عمرہ ادا کئے ویسے ہی لوٹ جائیں اور اگلے سال آ کر عمرہ ادا کریں‘ چنانچہ اسی شرط کے موافق آپ صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ سے روانہ ہوئے‘ مکہ کے قریب پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اور تمام مسلمانوں نے صرف تلواریں حمائل رکھیں‘ باقی تمام ہتھیار اتار ڈالے‘ مکہ میں داخل ہوئے‘ بیت اللہ کے رو برو پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ کندھوں کو برہنہ کر لو اور احرام کا کپڑا بغل کے نیچے سے نکال کر کنارہ بائیں کندھے پر ڈال لینے کے بعد مستعدی سے دوڑتے ہوئے سرگرمی کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کرو‘ مدعا اس سے یہ تھا کہ مشرکین مکہ پر جو مسلمانوں کے اس طواف کرنے کا تماشہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے تھے‘ مسلمانوں کی جفاکشی اور قوت و شوکت کا اظہار ہو‘ مکہ کے بہت سے مشرک مکہ سے باہر گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے گئے تھے تاکہ مسلمانوں کو طواف کرتے ہوئے دیکھ کر رنجیدہ نہ ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں نے مکہ میں تین دن قیام فرمایا‘ ارکان عمرہ سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بی بی ام فضل کی ہمشیرہ میمونہ رضی اللہ عنھا بنت حارث سے نکاح کیا‘۱؎چوتھے دن علی الصباح مشرکین مکہ کی طرف سے سہیل بن عمرو اور حویطب بن عبدالعزیٰ دو مشرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو تین دن ہو گئے‘ فوراً مکہ سے چلے جائو‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس وقت انصار کی مجلس میں بیٹھے ہوئے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے باتیں کر رہے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سہیل سے کہا کہ تم گھبراتے کیوں ہو؟ میں خود ہی جانے کے لیے تیار ہوں‘ مگر تم کو کیا معلوم ہے کہ میں نے یہاں ایک عورت سے نکاح کیا ہے‘ ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہے‘ اگر تم اجازت دو تو میں یہاں ضیافت ولیمہ کروں اور تمام مکہ والوں کو کھانا کھلائوں اور اس کے بعد یہاں سے چلا جائوں ‘ اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے‘ سہیل نے کہا کہ ہم کو تمھارے کھانے کی کوئی حاجت نہیں ہے تم معاہدہ کی پابندی کرو اور فوراً یہاں سے چلے جائو‘ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی وقت کوچ کی منادی کرا دی اور سوار ہو کر مکہ سے باہر تشریف لے گئے‘ حدود حرم سے نکل کر وادی سرف کے اندرونی میدان میں قیام فرمایا‘ یہیں میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنھا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں تشریف لائیں۔
جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم مکہ سے روانہ ہونے لگے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی دختر عمارہ رضی اللہ عنھا جو چھوٹی بچی تھیں‘ دوڑتی ہوئی اور چچا‘ چچا چلاتی ہوئی آئیں کہ مجھ کو بھی اپنے ہمراہ مدینے لے چلیں‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فوراً اس لڑکی کو اٹھا کر اپنے ہووج میں بٹھا لیا‘ اور سیدنا جعفر بن عبدالمطلب اور زید بن حارثہ بھی اس لڑکی کی کفالت و پرورش کے دعویدار ہوئے‘ ہر ایک شخص یہ چاہتا تھا کہ میں اس لڑکی کو اپنی کفالت میں رکھوں اور اس کی پرورش کروں‘ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ میرے دینی بھائی تھے اس لیے میرا حق فائق ہے‘ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میری چچا زاد بہن ہے اور میری بیوی اس کی خالہ ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سب کے دعاویٰ سن کر عمارہ رضی اللہ عنھا کو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا۔ اور فرمایا کہ خالہ بجائے ماں کے ہوتی ہے لہذا اس کی پرورش جعفر رضی اللہ عنہ کے یہاں ہونی چاہیے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو آپ رضی اللہ عنہ نے رضا مند کر دیا۔۱؎