ہجرت کا چھٹا سال

شرائط

اس صلح نامہ یا عہد نامہ کے شرائط یہ تھے۔ ۱۔ مسلمان اس سال عمرہ نہ کریں گے‘ آئندہ سال آ کر عمرہ کریں گے‘ مکہ میں داخل ہوتے وقت سوائے تلوار کے کوئی ہتھیار ان کے پاس نہ ہو گا‘ تلوار بھی نیام کے اندر ہو گی اور تین دن سے زیادہ مکہ میں قیام نہ کریں گے۔ ۲۔ صلح کی میعاد دس سال ہو گی‘ اس عرصہ میں کوئی فریق دوسرے فریق کے جان و مال سے قطعا متعرض نہ ہو گا‘ باہم امن و امان کے ساتھ رہیں گے۔ ۳۔ عرب کی ہر ایک قوم اور ہر ایک قبیلہ کو اختیار ہو گا کہ وہ جس فریق کے ساتھ چاہے ہم عہد ہو جائے‘ ان ہم عہد قبائل پر بھی اس صلح نامہ کی شرائط اسی طرح نافذ ہوں گی‘ دونوں فریق قبائل کو اپنا ہم عہد اور حلیف بنانے میں آزاد ہوں گے۔ ۴۔ اگر قریش میں سے کوئی شخص بلا اجازت اپنے ولی کے مسلمانوں کے پاس چلا جائے گا تو قریش کی طرف واپس کیا جائے گا‘ لیکن اگر کوئی مسلمان قریش کے پاس آ جائے گا تو وہ واپس نہیں کیا جائے گا۔۲؎