ہجرت کا پانچواں سال
غزوہ خندق
اوپر کے بیان کردہ چند چھوٹی چھوٹی فوج گشتیاں اسی سلسلے میں ہوئیں‘ بنی نضیر میں حیی بن اخطب سب سے بڑا مفسد اور شرارت پیشہ شخص تھا‘ وہ اور قبیلہ بنی نضیر کا بڑا حصہ خیبر میں مقیم ہوا‘ حیی بن اخطب‘ سلام بن ابی الحقیق‘ سلام بن مشکم‘ کنانہ بن الربیع وغیرہ بنو نضیر کے سردار‘ اور ہود بن قیس و ابوعمارہ وغیرہ سرداران بنو وائل متحد ہو کر اول مکہ میں گئے‘ چندہ کی فہرست بھی کھولی چنانچہ قریش نے خوب بڑھ بڑھ کر مال و زر بھی مصارف جنگ کے لیے دیا‘ یہاں جب خوب جوش پیدا ہو چکا تو قریش مکہ سے مشورہ لے کر یہ لوگ قبائل عظفان میں گئے اور ان کو بھی اسی طرح مسلمانوں سے جنگ کے لیے برانگیختہ کرنے میں کامیاب ہوئے‘ قبائل بنو کنانہ بھی آمادہ ہو گئے۔ پھر ان یہودیوں کے ساتھ جو مدینہ میں ابھی تک سکونت پذیر تھے (یعنی بنو قریظہ) سازش کا سلسلہ جاری کیا گیا اور در پردہ ان سے مسلمانوں کے خلاف لڑنے اور ہر قسم کی کوشش کرنے کا معاہدہ کیا گیا ‘ حالانکہ بنو قریظہ ابھی تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہم عہد تھے‘ اور عہد نامہ کے موافق مسلمانوں کی امداد کرنا ان کا فرض تھا‘ بنو سلیم‘ فزارہ اشجع ‘ بنو سعد اور بنو مرہ وغیرہ قبائل‘ قریش اور بنو نضیر اور عظفان وغیرہ قبائل کے سرداروں نے جن کی تعداد پچاس سے کم نہ تھی خانہ کعبہ میں جا کر قسمیں کھائیں کہ جب تک زندہ ہیں مسلمانوں کی مخالفت سے منہ نہ موڑیں گے اور اسلام کی بیخ کنی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ ہونے دیں گے‘ گذشتہ تجربوں سے فائدہ اٹھا کر اس عظیم الشان سازش میں حد سے زیادہ احتیاط برتی گئی اور اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس مدینہ منورہ میں مخالفین اسلام کی اس سب سے بڑی سازش کی خبر وقت سے پہلے نہ پہنچ سکی۔
اول ابوسفیان قریش اور اپنے ہم عہد قبائل کا چار ہزار لشکر لے کر مکہ سے روانہ ہوا‘ مقام مرالظہران میں بنو سلیم کی فوج بھی آ کر مل گئی‘ اسی طرح تمام قبائل راستے میں آ آ کر اس لشکر میں شامل ہوتے گئے‘ بنو نضیر کا سردار حیی بن اخطب اور قبائل غطفان کا سردار عینیہ بن حصن تھا‘ تمام افواج کفار کا سپہ سالار اعظم ابوسفیان تھا۔
مدینہ کے قریب پہنچ کر تمام حملہ آور فوج کی تعداد بروایت مختلف کم سے کم دس ہزار اور زیادہ سے زیادہ چوبیس ہزار تھی‘ اس لشکر اعظم میں ساڑھے چار ہزار اونٹ اور تین سو گھوڑے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو جب اس لشکر گراں کے حملہ آور ہونے کا حال معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجلس مشورت منعقد کی‘ یہ رائے قرار پائی کہ مدینہ کے اندر رہ کر ہی مدافعت کی جائے‘ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ حملہ آور فوج سے محفوظ رہنے کے لیے محصور فوج کے گرد خندق کھودی جائے‘ عرب لوگ اس خندق کھودنے کی ترکیب سے ناواقف تھے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا سلمانی فارسی رضی اللہ عنہ کی اس تجویز کو پسند کیا‘ ایک طرف پہاڑیاں تھیں ایک طرف مدینہ منورہ کے مکانات کی دیواریں فصیل کی قائمقامی کر رہی تھیں‘ جو سمت کھلی ہوئی تھی اور جس طرف سے دشمن کا حملہ ہو سکتا تھا اس طرف خندق کی کھدائی کا کام شروع کر دیا گیا‘ سلسلہ کوہ اور خندق کے درمیان ایک بیضوی شکل کا میدان بن گیا‘ یہی گویا مسلمانوں کا قلعہ تھا‘ اس کے وسط رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا خیمہ تھا‘ خندق پانچ گز چوڑی اور پانچ گز گہری کھودی گئی‘ خندق کی کل لمبائی کے مساوی حصے کر کے دس دس آدمیوں کو ایک ایک حصہ کھودنے کے لیے دیا گیا‘ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی ایک حصہ کی کھدائی میں شامل اور خندق کھودنے میں مصروف تھے‘ اس خندق میں ایک جگہ بڑا اور سخت پتھر آ گیا‘ سب زور آزمائی کر چکے اور پتھر نہ ٹوٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ خندق کو اس جگہ سے پھیر کر اور دوسری طرف موڑ کر کھود لینے کی اجازت دی جائے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم جس جگہ خندق کھودنے میں مصروف تھے وہاں سے اپنا پھائوڑا لے کر چلے‘ اس پتھر والے حصے میں پہنچ کر اور خندق میں اتر کر اپنا پھائوڑا یا کدال اس زور سے مارا کہ پتھر میں شگاف پڑ گیا‘۱؎ ساتھ ہی ایک روشنی نکلی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ اکبر کہا‘ سب صحابہ رضی اللہ عنھم نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی
تقلید میں نعرہ اللہ اکبر بلند کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھ کو ملک شام کی کنجیاں دی گئیں‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دوسری ضرب اس پتھر پر لگائی‘ جس سے وہ اور بھی زیادہ پھٹ گیا‘ اس ضرب سے بھی روشنی نکلی اور اسی طرح نعرہ اللہ اکبر بلند ہوا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا مجھ کو ملک فارس کی کنجیاں دی گئیں‘ تیسی ضرب میں پتھر ریزہ ریزہ ہو گیا اور اسی طرح روشنی نکلی‘ اللہ اکبر کا نعرہ بلند ہوا‘ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھ کو یمن کی کنجیاں دی گئیں‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا مجھے جبرئیل امین نے خبر دی ہے کہ یہ تمام ملک تمہاری امت کے قبضے میں آ جائیں گے۔۲؎
اس جگہ غور کرنا چاہیے کہ چوبیس ہزار کفار کے جرار لشکر کے مقابلہ میں مٹی بھر مسلمان اپنی حفاظت اور جان بچانے کی تدبیروں میں مصروف ہیں‘ تمام ملک عرب دشمنی پر تلا ہوا اور خون کا پیاسا ہے‘ بظاہر بربادی پیش نظر ہے …لیکن ایران‘ روم‘ اور یمن کے ملکوں کی سلطنت و حکومت کی خوش خبری سنائی جا رہی ہے‘ یہ کام اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے سواکوئی ایسی خبر نہیں دے سکتا۔
اسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر ملی کہ بنی قریظہ کے سردار کعب بن اسید نے بھی مسلمانوں کے خلاف حملہ آوروں سے معاہدہ کر لیا ہے۔ اور حیی بن اخطب بنی قریظہ کے قلعہ میں دوستانہ داخل ہو کر ان کو آمادہ قتال کر رہا ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تحقیق حال اور نیز ہدایت و نصیحت کے لیے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو بنی قریظہ کے پاس بھیجا اور ان دونوں بزرگوں نے ہر چند ان کو سمجھایا لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی‘ بنی قریظہ نے نہایت ترش روئی سے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ہم نہیں جانتے‘ اور ان سے ہمارا کوئی معاہدہ ہے۔۱؎
لشکر کفار جب خندق کے سامنے آیا تو خندق کو دیکھ کر متعجب اور حیران ہوا‘ کیونکہ اس سے پیشتر عربوں نے اس قسم کی خندق نہ دیکھی تھی‘ کفار کے ٹڈی دل نے مدینہ کا محاصرہ کرلیا‘ یہ حملہ کفار کی طاقت و شوکت کا انتہائی مظاہرہ اور اسلام کے مقابلہ میں کفر کی گویا سب سے بڑی کوشش تھی‘ مسلمانوں نے اپنی عورتوں اور بچوں کو مدینہ کی ایک خاص گڑھی میں حفاظت کی غرض سے جمع کر دیا تھا‘ یہودیوں کی طرف سے جو گویا مدینے کے اندر ہی تھے حملہ کا ہر وقت خوف تھا‘ ادھر منافقین سے بھی جو مسلمانوں میں ملے جلے رہتے تھے سخت خطرہ تھا‘ کفار کی طرف سے کئی مرتبہ خندق کے عبور کرنے کی کوشش ہوئی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے‘ ایک مرتبہ دو تین کافر ایک مقام سے جہاں خندق کی چوڑائی کسی قدر کم تھی گھوڑا کودا کر اندر آگئے‘ ان میں ایک کافر عمروبن عبد دو ہزار سوار کے برابر سمجھا جاتا تھا اور ملک عرب کا مشہور بہادر تھا اس کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا‘ باقی بھاگ گئے۲؎ صبح سے شام تک تیروں کے ذریعہ لڑائی ہوتی رہی‘ دشمنوں کا محاصرہ نہایت سخت تھا‘ ان کو باہر سے ہر قسم کی امداد پہنچ رہی تھی‘ نہ سامان رسد کی ان کے لیے کمی تھی‘ نہ ان کی جمعیت میں کوئی کمی ہوئی تھی‘ مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ سامان رسد کہیں سے میسر نہ آ سکتا تھا‘ فاقوں پر فاقے جاتے تھے‘ ایک مرتبہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے بھوک کی شکایت کی اور کرتا اٹھا کر دکھایا کہ پیٹ پر پتھر باندھ رکھا ہے تاکہ فاقہ کی وجہ سے کمر جھکنے نہ پائے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا کرتا اٹھا کر دکھایا تو دو پتھر پیٹ پر باندھے ہوئے تھے۔۳؎
رات کو چونکہ شبخون کا خوف اور خندق کی حفاظت کرنا ضروری تھا لہذا رات بھر سب کو میدان میں بیدار رہنا اور دن بھر دشمن کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا‘ مصعب بن قشیر ایک منافق نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم شام ‘ ایران اور یمن کے ملکوں کی حکومت اپنے دوستوں کو دے رہے ہیں‘ لیکن ہم تو دیکھتے ہیں کہ وہ مدینہ کے اندر بھی اب نہیں رہ سکتے۔
بعض کہتے تھے کہ گھر سے باہر نکل کر پاخانہ پھرنے کے لیے تو جا نہیں سکتے مگر قیصر و کسریٰ کے ملکوں کا خواب دیکھ رہے ہیں۔۱؎ غرض منافقوں کے طعنے رات کی اوس ‘ دن کی دھوپ ‘ بھوک‘ کفار کا مقابلہ‘ بنی قریظہ کا اندیشہ‘ منافقوں کا خطرہ‘ کفار کی کثرت‘ مسلمانوں کی قلت‘ ان تمام حالات میں مسلمانوں نے جس عزم و ہمت اور ثبات قدم کا نمونہ دکھایا اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں نے جب ان کے سامنے ایسی تجویز پیش ہوئی کہ دب کر صلح کر لیں تو صاف انکار کر دیا۔ اس حالت میں بھی سعید روحیں کھینچ کھینچ کر آتی اور اسلام میں داخل ہوتی رہیں‘ چنانچہ ایک شخص نعیم بن مسعود بن عامر قبیلہ غطفان کے لشکر سے نکل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔
انہوں نے مسلمان ہونے کے بعد عرض کیا کہ میں بنی قریظہ اور لشکر کفار میں پھوٹ ڈلوائے دیتا ہوں …چنانچہ وہ اول بنو قریظہ کے پاس گئے‘ پھر ابوسفیان کے پاس گئے اور ایسی باتیں کیں جس سے بنو قریظہ اور قریش دونوں نے ایک دوسرے سے اپنا اپنا اطمینان چاہا‘ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنو قریظہ کفار کے حسب منشاء علانیہ کوئی جنگی حرکت سے باز رہے‘ نعیم رضی اللہ عنہ بن مسعود نے دونوں جگہ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان نہیں کیا تھا‘ اس لیے ان کی باتیں طرفین کے لیے قابل توجہ ہوئیں۔۲؎
جب محاصرہ کو ستائیس روز گذر گئے تو ایک روز رات کو تیز و تند ہوا چلی‘ خیموں کی میخیں اکھڑ گئیں‘ چولہوں پر دیگچیاں گر گئیں۔
{فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا} (الاحزاب : ۳۳/۹)
’’ہم نے ان پر ہوا بھیجی اورایک ایسا لشکر بھیجا جس کو تم نہیں دیکھ سکتے تھے۔‘‘
اس ہوا اور جھکڑنے بڑا کام کیا‘ جا بجا ڈیروں میں آگ گل ہو گئی‘ مشرکوں نے آگ کے بجھنے کو بدشگونی سمجھا اور راتوں رات اپنے ڈیرے خیمے اٹھا کر فرار ہو گئے۔
کفار کے فرار ہونے کی خبر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے دی گئی اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کو خبر لانے کے لیے بھیجا‘ انہوں نے آ کر سنایا کہ کفار کا لشکر گاہ خالی پڑا ہے اور وہ بھاگ گئے‘ ۱؎آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اب کفار قریش ہم پر کبھی حملہ آور نہ ہوں گے‘ مسلمان خوشی خوشی مدینے میں داخل ہوئے‘ یہ واقعہ ماہ ذیقعدہ ۵ ھ میں وقوع پذیر ہوا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم جب کفار کے مقابلے پر مدینہ کے باہر خندق کے اس طرف قیام فرما تھے تو مدینہ میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو عامل بنا گئے تھے‘ مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے واپس آ کر بہت ہی تھوڑی دیر قیام فرمایا‘ اور ظہر کی نماز ادا فرما کر حکم دیا کہ عصر کی نماز یہاں کوئی آدمی نہ پڑھے بلکہ عصر کی نماز بنی قریظہ کے محلہ میں ادا کی جائے‘ بعض صحابہ رضی اللہ عنھم نے ابھی ہتھیار بھی نہیں کھولے تھے‘ یہ حکم سنتے ہی اسی طرح بنو قریظہ کی طرف روانہ ہو گئے۔۲؎