ہجرت کا چوتھا سال

غزوہ ذات الرقاع

اس عرصہ میں بنو محارب اور بنو ثعلبہ (قبیلہ غطفان کی شاخیں ہیں) کے متعلق متواتر خبریں پہنچیں کہ وہ شرارت پر آمادہ اور حملہ کی تیاریوں میں مصروف ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ۲؎ کو مدینہ کا عامل مقرر فرما کر صرف چار سو صحابہ رضی اللہ عنھم کے ساتھ ان کے مقابلہ کے لیے گئے‘ وہ لوگ مقام نخل میں جمع تھے‘ اسلامی لشکر جب ان کے قریب پہنچا تو وہ سب منتشر ہو کر بھاگ گئے‘ کوئی معرکہ نہیں ہوا اس غزوہ کا نام غزوہ ذات الرقاع ہے جو جمادی الاولی ۴ ھ میں وقوع پذیر ہوا۔ ذات الرقاع اس کا نام اس لیے رکھا گیا کہ پہاڑی اور پتھریلی زمین میں سفر کرنے سے اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے پائوں زخمی ہو گئے تھے‘ جس کی وجہ سے غازیوں نے پائوں میں کپڑے لپیٹ لیے تھے‘ بعض کا خیال ہے کہ ذات الرقاع اس پہاڑی کا نام ہے جہاں علاقۂ نجد میں جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قیام فرمایا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھ کر کفار فرار ہو گئے تھے۔۳؎