ہجرت کا چوتھا سال

یہود کی شرارت

چنانچہ ایک شخص عمروبن حجاثر بن کعب فوراً اوپر چڑھا کہ پتھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر گرائے ابھی وہ پتھر گرانے نہ پایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ تعالیٰ نے بذریعہ وحی یہودیوں کے اس منصوبے سے اطلاع دی اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم فوراً وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو ہمراہ لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے‘ یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو واپس بلانا چاہا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے ہمارے قتل کرنے کا اس طرح منصوبہ کیا اب ہم کو تمہارا اعتبار نہیں رہا‘ یہودیوں نے اپنے اس منصوبہ سے انکار کیا‘ نہ اظہار ندامت کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ میں پہنچ کر ان کے پاس پیغام بھیجا کہ دوبارہ عہد نامہ لکھو‘ انہوں نے عہد نامہ لکھنے سے انکار کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پھر ان کو پیغام دیا کہ اگر عہد نامہ نہیں لکھتے‘ تو یہاں سے دس روز کے اندر جلاوطن ہو جائو اور کسی دوسری جگہ چلے جائو۔ بنو نضیر نے اس کے جواب میں انکار کیا اور لڑائی کے لیے مستعد ہو گئے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو لے کر ان پر چڑھائی کی‘ بنو نضیر اپنے قلعہ میں محصور ہو کر بیٹھ گئے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے محاصرہ کر لیا‘ یہ محاصرہ پندرہ روز تک جاری رہا۔ مدینہ کے منافقین اور عبداللہ بن ابی نے بنو نضیر کے پاس پیغام بھیجا کہ ہم تمہارے شریک ہیں اگر تم قلعہ سے نکل کر باہر میدان میں لڑوگے تو ہم بھی تمہارے ساتھ مل کر مسلمانوں کو قتل کریں گے‘ اگر تم جلاوطن ہونا قبول کرو گے تو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی مدینہ کو چھوڑ کر جلاوطن ہو جائیں گے۔۱؎