ہجرت کا چوتھا سال
روح فرسا حادثہ
چند روز بعد اسی ماہ صفر ۴ھ میں ابوبراء عامر بن مالک بن جعفر بن کلاب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے اسلام کی دعوت دی‘ وہ نہ تو مسلمان ہوا اور نہ اس نے اسلام کو نفرت کی نگاہوں سے دیکھا‘ بلکہ کہنے لگا کہ مجھ کو اپنی قوم کا خیال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کچھ لوگوں کو میرے ساتھ کر دیں کہ وہ نجد میں چل کر میری قوم کو اسلام کی طرف بلائیں‘ اور نصیحت کریں۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھ کو اہل نجد سے اندیشہ ہے کہ وہ ان مسلمان کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ابوبراء نے کہا اس بات کا آپ صلی اللہ علیہ و سلم مطلق اندیشہ نہ کریں میں ان لوگوں کو اپنی حمایت میں لے لوں گا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے منذربن عمرو رضی اللہ عنہ ساعدی کو ستر صحابہ رضی اللہ عنھم کے ساتھ روانہ فرمایا۔ یہ ستر اصحاب رضی اللہ عنھم سب کے سب قاری اور قرآن کریم کے حفاظ تھے۔
جب یہ لوگ ارض بنو عامر اور حرہ بنو سلیم کے درمیان بیر معونہ پر پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا خط حرام بن ملجان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ عامر بن طفیل کے پاس پہنچا‘ یہ عامر بن الطفیل ابوبراء عامر بن مالک مذکورہ کا بھتیجا تھا۔ اس نے اس خط کو پڑھا تک نہیں اور سیدنا حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا‘ پھر اپنی قوم بنو عامر کو ترغیب دی کہ ان تمام مسلمانوں کو قتل کر دو‘ لیکن بنو عامر نے انکار کیا‘ تب اس نے بنو سلیم سے کہا۔ چنانچہ بنو سلیم کے قبائل ‘ رعل‘ ذکوان‘اور عقبہ آمادہ ہو گئے اور بلا جرم ظالموں نے سب کو شہید کر ڈالا۔ ابوبراء عامر بن مالک کو اس حادثہ کا بڑا رنج ہوا کہ اس کی امان میں اس کے بھتیجے نے فتور ڈالا‘ اسی رنج میں چند روز کے بعد وہ مر گیا‘ عامر بن طفیل سیدنا عمروبن امیہ ضمری کو گرفتار کر کے لے گیا تھا‘ پھر ان کے چہرے کے بال تراش کر اس نے چھوڑ دیا‘ کیونکہ اس کی ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی منت مانی ہوئی تھی‘ عامر بن طفیل نے اس منت کو پورا کرنے کے لیے ان کو چھوڑ دیا۔
جب یہ قید سے چھوٹ کر بیر معونہ سے مدینہ کو آ رہے تھے تو ان کو دو شخص جو بنو عامر سے تھے راستہ میں ملے‘ عمروبن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے ان کو دشمن سمجھ کر اور موقع پا کر انتقاماً قتل کر دیا۔ مدینہ پہنچ کررسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو تمام حالات کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مہینے تک ان قاتلوں پر بد دعا فرمائی ۔۔۔۔۔۔ عامر بن طفیل بعد میں طاعون سے ہلاک ہو گیا۔۱؎