ہجرت کا تیسرا سال

جنگ شروع ہو گئی

لڑائی کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ سب سے پہلے ابو عامر راہب ( جو مدینہ کا باشندہ قبیلہ اوس سے تعلق رکھتا تھا اور اپنی قوم میں بڑا بزرگ سمجھا جاتا تھا‘ مدینہ میں مسلمانوں کے آنے سے آتش حسد میں جل بھن گیا تھا اور مکہ میں جا کر رہنے لگا تھا‘ وہ کفار کے ساتھ آیا تھا اور اس کا خیال تھا کہ میں میدان جنگ میں قبیلہ اوس کے لوگوں کو اپنی طرف بلا لوں گا) لشکر کفار سے نکل کر میدان میں آیا اور بنو اوس کو آواز دی‘ مگر انصار رضی اللہ عنہ نے اس کو دھتکار دیا اور وہ شرمندہ و روسیاہ ہو کر رہ گیا‘۲؎ اس کے بعد طرفین سے حملہ آوری ہوئی۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے وہ وہ جواں مردانہ و شجاعانہ کار ہائے نمایاں ظاہر کئے کہ کفار کے حوصلے پست ہو گئے‘ سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ کفار کو قتل کرتے اور صفوں کو چیرتے ہوئے اس مقام تک پہنچ گئے کہ ہند بنت عتبہ زوجہ ابوسفیان ان کی زد پر آ گئی اور اس نے اپنے آپ کو قتل ہوتے ہوئے دیکھ کر چیخ ماری‘ سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر کہ عورت ہے فوراً اپنا ہاتھ روک لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تلوار عورت کے خون سے آلودہ نہ ہو‘۳؎اس طرح ہند بنت عتبہ کی جان بچی۔