ہجرت کا تیسرا سال
یہودی قبیلہ بنی قینقاع
غرض اس قسم کی ناملائم باتیں وہ علانیہ بکنے لگے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان تمام ناشدنی باتوں کو نہایت صبر و سکون کے ساتھ سنا اور ان نالائقوں کو جو گویا معاہدہ کو خود توڑ چکے تھے کوئی سزا دینی مناسب نہ سمجھی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خواہش یہی تھی کہ وعظ و پند کے ذریعہ ان کو راہ راست پر لایا جائے‘ اور ان گستاخیوں پر کریمانہ عفو و درگذر سے کام لیا جائے‘ مگر یہودیوں کی شامت نے خود ان کے لیے سامان ہلاکت فراہم کر دئیے تھے۔
ایک روز بنی قینقاع کی بستی میں کوئی میلہ یا بازار لگا‘ اس بازار میں انصار کی ایک عورت دودھ بیچنے کے لیے گئی‘ دودھ بیچ کر وہ سنار کی دوکان پر کوئی زیور خریدنے یا بنوانے گئی‘ اس سنار یہودی نے اس عورت کو چھیڑا‘ ایک انصاری نے جو بازار میں گئے ہوئے تھے انصاری عورت کو مظلوم دیکھ کر اس کی حمایت کی‘ ادھر ادھر سے یہودی جمع ہو گئے اور انصاری پر حملہ کر دیا‘ اس فساد میں وہ انصاری شہید ہو گئے‘ ان کے ہاتھ سے بھی ایک یہودی مارا گیا‘ اس خبر کو سن کر دوسرے مسلمان جو وہاں اتفاقاً موجود تھے پہنچے‘ یہودیوں نے فوراً مسلح ہو کر حملہ کیا‘ یہ خبر مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو لے کر پہنچے‘ اور یہودیوں کو مسلح اور آمادہ قتال پایا‘ غرض مقابلہ ہوا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ بنی قینقاع‘ جن میں سات سو آدمی جنگ جو تھے ان میں تین سوز رہ پوش بھی تھے‘ اپنے قلعہ میں محصور ہو گئے‘ بنی قینقاع سیدنا عبداللہ بن سلام کی برادری تھی‘ مسلمانوں نے قلعہ کا محاصرہ کر لیا‘ پندرہ سولہ روز کے محاصرہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان قلعہ پر قابض و متصرف ہو گئے اور تمام بنی قینقاع کو گرفتار کر لیا۔
ملک عرب کا عام دستور تھا کہ اسیران جنگ بلا دریغ قتل کر دئیے جاتے تھے‘ اہل مکہ کو سب سے زیادہ تعجب اس بات کا ہوا تھا کہ اسیران بدر میںسے صرف وہ شخص جو حد سے زیادہ شرارت میں بڑھے ہوئے تھے قتل کئے گئے باقی سب کو چھوڑ دیا گیا‘ اب جوبنی قینقاع کے سات سو آدمی گرفتار ہوئے تو سب کو یقین تھا کہ یہ ضرور قتل کئے جائیں گے‘ مگر عبداللہ بن ابی ابن سلول جو منافقوں کا سردار تھا اور بظاہر مسلمانوں میں شامل تھا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں سفارشی ہوا کہ ان یہودیوں کوقتل نہ کیا جائے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کسی قدر متامل تھے‘ مگر عبداللہ بن ابی نے بار بار اور باصرار سفارش کر کے سب کی جان بخشی کرا لی۔۱؎ اورسیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ان سب کو خیبر تک نکال آئے‘ عبداللہ بن ابی در پردہ ان یہودیوں کا ہمدرد تھا اور اسی لیے اس نے سب کی جان بخشی کرانے میں گویا اپنا حق دوستی ادا کیا۔
کعب بن اشرف کا ذکر ابھی ہو چکا ہے‘ اس نے اب علانیہ مسلمان عورتوں کے نام عشقیہ اشعار میں استعمال کرنے شروع کئے‘ اس سے مسلمانوں کو سخت صدمہ ہوتا تھا‘ پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قتل کی تدبیریں اورسازشیں شروع کیں‘ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رات کے وقت باہر نکلنے میں احتیاط سے کام لیتے تھے۔
جب کعب بن اشرف کی شرارتیں حد سے بڑھ گئیں تو ایک صحابی محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس شریر کے قتل کی اجازت حاصل کرنے کے بعد کئی اور دوستوں کو ہمراہ لیا اور اس کے گھر جا کر اس کو قتل کیا۔۲؎
کعب بن اشرف کے بعد سلام بن ابی الحقیق یہودی نے اسی قسم کی شرارت پر کمر باندھی‘ اور وہ اپنی شرارتوں میں کعب بن اشرف سے بھی بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی جان کا دشمن بن گیا۔
کعب بن اشرف کو چونکہ بنو اوس نے قتل کیا تھا اس لیے اب بنو خزرج کے آٹھ نوجوانوں نے خیبر کا راستہ لیا جہاں سلام بن حقیق رہتا تھا‘ وہاں پہنچ کر اس کو قتل کیا اور صاف بچ کرنکل آئے۔۳؎