سلطان محمد فاتح کے بعد خانہ جنگی
اسمٰعیل صفوی کا حال
اسمٰعیل صفوی کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے‘ اسماعیل بن حمید‘ بن جنید‘ بن ابراہیم‘ بن خواجہ علی بن صدرالدین‘ بن شیخ صفی الدین بن جبرئیل۔ اس خاندان میں سب سے پہلے جس شخص نے شہرت و ناموری حاصل کی وہ شیخ صفی الدین تھے جو اردبیل میں سکونت پذیر اور پیری مریدی کرتے تھے انہیں کے نام سے اس خاندان کا نام صفی خاندان مشہور ہوا۔ جب شیخ صفی الدین کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے صدر الدین نے باپ کا خرقہ سنبھالا اور اپنے باپ کے مریدین اور حلقہ اثر میں پیر طریقت تسلیم کئے گئے۔ شیخ صدر الدین سلطان بایزید یلدرم اور تیمور کے ہم عصر تھے تیمور نے ۸۰۴ھ میں سلطان بایزید یلدرم کو شکست دے کر گرفتار کیا تو اس کے ساتھ اور بھی بہت سے ترک سپاہی اس لڑائی میں قید ہوئے‘ تیمور اس فتح کے بعد اردبیل پہنچا تو وہاں عقیدۃ یا مصلحتاً شیخ صدر الدین کی خانقاہ میں بھی گیا اور شیخ سے کہا کہ اگر آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو یا کوئی کام میرے کرنے کا ہو تو فرمائیے میں اس کو ضرور پورا کروں گا۔ شیخ صدر الدین نے کہا کہ جنگ انگورہ میں جس قدر ترک سپاہی تم نے قید کئے ہیں ان سب کو رہا کر دو‘ تیمور نے فوراً ان کے آزاد کر دینے کا حکم دیا یہ ترک قیدی آزاد ہوتے ہی شیخ کے مرید ہو گئے اور اردبیل ہی میں طرح اقامت ڈال کر شیخ صدر الدین کی خدمت گزاری میں مصروف رہنے لگے‘ شیخ صدر الدین نے چونکہ سفارش کر کے ان کو آزاد کرایا تھا اس لئے انھوں نے اس احسان کا بدلہ یہی مناسب سمجھا کہ شیخ کے مریدوں میں شامل ہو کر اپنی بقیہ زندگی شیخ کی خدمت میں گذار دیں۔ جوں جوں زمانہ گذرتا گیا ان ترک قیدیوں کی اولاد بڑھتی گئی اور ساتھ ہی ان کی عقیدت و فرماں برداری شیخ اور شیخ کی اولاد کے ساتھ ترقی کرتی گئی۔ تیمور کی وفات کے بعد تیموری سلطنت اس کی اولاد میں تقسیم ہو کر پارہ پارہ ہو گئی تھی‘ بحیرہ قزوین اور بحیرہ اسود کے درمیانی علاقے یعنی آذر بائیجان میں ترکمانوں کے قبیلہ قراقو نیلو نے تیمور کے بعد ہی اپنی حکومت دوبارہ قائم کر لی تھی‘ اسی طرح کردستان یعنی عراق کا شمالی حصہ ترکمانوں کے دوسرے قبیلہ آق قونیلو کے حصے میں آ گیا‘ ترکمانان آق قونیلو کردستان میں تیمور ہی کے زمانہ سے بطور باج گذار فرماں روا تھے‘ قراقونیلو کا سردار قرایوسف ترکمان تیمور سے برسر پر خاش اور اس کی زندگی میں مصر وغیرہ کی طرف فرار رہا‘ تیمور کی وفات کا حال سنتے ہی واپس آ کر آذر بائیجان کا حاکم نشین شہر تھا اور کردستان کا دارالسطنت دیار بکر تھا‘ شیخ صدر الدین کا پڑپوتا شیخ جنید تھا شیخ جنید کے زمانہ میں مریدوں کی اس قدر کثرت ہوئی کہ جہاں شاہ ابن قرایوسف ترکمان بادشاہ آذربائیجان نے متوہم ہو کر شیخ جنید کو حکم دیا کہ آپ اردبیل سے تشریف لے جائیں اس حکم کی تعمیل میں شیخ جنید اپنے مریدوں کے ساتھ جو سب تقریباً انھیں مذکورہ ترک قیدیوں کی اولاد تھے اردبیل سے رخصت ہو کر دیاربکر کی طرف روانہ ہوا‘ دیابکر یعنی کردستان کا بادشاہ اس زمانہ میں حسن طویل آق قونیلو تھا‘ اس نے جب شیخ جنید کی اس طرح تشریف آوری کا حال سنا تو بہت خوش ہوا اور نہایت عزت و احترام کے ساتھ شیخ کا استقبال کیا اور عزت و آرام کے ساتھ شیخ اور اس کے مریدوں کو ٹھہرایا‘ چند روز کے بعد حسن طویل نے اپنی بہن کی شادی شیخ جنید سے کر دی‘ ترکمانوں کے ان دونوں قبیلوں یعنی آق قونیلو اور قراقونیلو میں قدیمی رقابت چلی آتی تھی چوں کہ شیخ جنید ایک درویش گوشہ نشین کی حیثیت سے تبدیل ہو کر شاہی خاندان کے قریبی رشتہ دار بن چکے تھے اور ریاست و حکومت ان کے گھر میں داخل ہو چکی تھی لہٰذا انھوں اپنے مریدوں کو جو ترک سپاہیوں کی اولاد تھے درویشوں سے سپاہیوں کی شکل میں تبدیل کر دیا اور ایک فوج ترتیب دے کر حسن طویل کے مشورے سے اردبیل پر حملہ کیا چوں کہ اردبیل کے بادشاہ نے شیخ کو اردبیل سے خارج کیا تھا اس لئے یہ حملہ آوری اور فوج کشی انتقاماً سمجھی گئی اور شیخ کے مریدوں یا دوسرے لوگوں کو زیادہ عجیب نہ معلوم ہوئی شیخ کا جب جہاں شاہ سے مقابلہ ہوا تو شیخ کو جو ایک نا تجربہ کار سپہ سالار تھا فرار ہونا پڑا وہاں سے فرار ہو کر شیخ حاکم شیروان پر جا چڑھے جو جہاں شاہ کا حلیف اور دوست تھا‘ مگر جب شاہ شیروان کی فوج سے مقابلہ ہوا تو شیخ کو پھر شکست ہوئی اور اسی افراتفری میں کہ شیخ اپنی جان بچا کر لے جانے کی فکر میں تھا ایک تیر آ کر لگا اور شیخ نے سفر آخرت اختیار کیا۔
شیخ جنید کے مارے جانے پر اس کا بیٹا حیدر جو سطان حسن طویل کا بھانجا تھا باپ کی جگہ گدی نشین اور زہد و ارشاد کے سلسلہ کا پیر تسلیم کیا گیا حیدرماں کی جانب سے شہزادہ اور باپ کی جانب سے درویش تھا اس میں امارت‘ و طریقت دونوں چیزیں جمع ہو گئیں۔ اس کے گرد شیخ جنید سے بھی زیادہ مریدوں کا ہجوم ہو گیا۔ شیخ جنید کی وفات کے بعد امیر حسن طویل نے جہاں شاہ سے عارضی صلح کر لی اور مرزا ابوسعید تیموری کو قتل کر کے خراسان کا ملک اپنی حکومت میں شامل کر لیا اس کے بعد ہی امیر حسن طویل نے جہاں شاہ سے آذر بائیجان کا ملک بھی چھین لیا اور تمام ملک ایران کا ایک زبردست بادشاہ بن گیا اس کے بعد حسن طویل بادشاہ ایران نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے بھانجے شیخ حیدر سے کر دی اس طرح شیخ شاہ ایران کا ہمشیر زادہ تھا اب داماد بھی بن گیا‘ حسن طویل نے طرابزون کے عیسائی بادشاہ کی بیٹی سے شادی کی تھی طرابزون کی حکومت کا ذکر اوپر آ چکا ہے اس عیسائی حکومت کو سلطان محمد خان ثانی فاتح قسطنطنیہ نے ۸۶۶ھ میں فتح کر کے اپنی قلم رو میں شامل کر لیا تھا حسن طویل کی اس عیسائی بیوی کے پیٹ سے یہ لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام پارسا اور بقول بعض شاہ بیگم رکھا گیا تھا‘ اسی کی شادی شیخ حیدر سے کی گئی تھی‘ جس کے پیٹ سے شیخ حیدر کے تین بیٹے‘ علی ‘ ابراہیم ‘ اور اسمٰعیل پیدا ہوئے‘ حسن طویل کی زندگی میں شیخ حیدر بالکل خاموش رہا‘ لیکن جب حسن طویل فوت ہوا اور اس کا بیٹا امیر یعقوب ایران کے تخت پر بیٹھا تو شیخ حیدر نے اپنے مریدوں کی ایک فوج تیار کی اور دوسرے لوگوں کو بھی اپنی فوج میں بھرتی کرنے کے لئے ترغیب دی تاکہ شاہ شیروان سے اپنے باپ کے خون کا بدلہ لے حسن طویل کی زندگی میں خاموش رہنے کا سبب یہ تھا کہ شیخ جنید کے مارے جانے پر حسن طویل نے جس طرح جہان شاہ سے چند روزہ صلح کر لی تھی اسی طرح شاہ شیروان سے بھی اس نے صلح کی تھی اور شاہ شیروان نے ابو سعید مرزا تیموری کے قتل کرنے میں حسن طویل کی بہت مدد کی تھی اس لئے حسن طویل کی زندگی تک شروان کے بادشاہ سے اس کی صلح قائم رہی اور اسی لئے شیخ حیدر شاہ شروان کے خلاف کسی کارروائی پر آمادہ نہ ہو سکا اب شیخ حیدر نے شروان پر حملہ کیا‘ شروان میں کئی سو سال سے ایک ایرانی خاندان کی حکومت چلی آتی تھی جو اپنے آپ کو بہرام چوبین کی اولاد میں بتاتے تھے شروان کے بادشاہ کا نام فرخ یسار تھا‘ فرخ یسار نے جب سنا کہ شیخ حیدر اپنے باپ کے خون کا بدلہ لینے آ رہا ہے تو وہ کبھی مقابلہ پر مستعد ہو گیا اور ۸۹۳ھ میں جب دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا تو شیخ حیدر بھی باپ کی طرح ہزیمت پا کر مارا گیا اس کی لاش کو لوگوں نے اردبیل میں لے جا کر دفن کر دیا۔
شیخ حیدر کے بعد اس کے مریدوں نے اس کے بڑے بیٹے علی کو جو جوان ہو چکا تھا اپنا پیر بنایا اور باپ کی گدی پر بٹھایا‘ علی کے گرد بھی مریدوں کا بہت ہجوم رہنے لگا امیر یعقوب نے جو حسن طویل کے کے بعد ایران کا فرماں روا تھا یہ دیکھ کر کہ علی بھی اپنے باپ اور دادا کی طرح شروان پر چڑھائی کرنے کی تیاری کرے گا اور اس طرح ملک میں خواہ مخواہ فتنہ پیدا ہو گا‘ فرخ یسار شاہ شروان سے حسن طویل کے زمانہ کی صلح کو قائم رکھنا مناسب سمجھا اور علی اور اس کے بھائیوں کو اصطخر کے علاقے میں ایک قلعہ کے اندر نظر بند کر دیا یہ تینوں بھائی چار سال سے زیادہ عرصہ تک اس قلہ میں قید رہے۔ جب امیر یعقوب بیگ فرماں روائے ایران فوت ہوا اور اس کی جگہ اس کا بیٹا الوند بیگ تخت نشین ہوا تو علی مع اپنے بھائیوں کے قید خانہ سے فرار اور اردبیل پہنچ کر مریدین کی فراہمی میں مصرف ہوا الوند بیگ نے یہ خبر سن کر اور علی کو آمادہ بغاوت دیکھ کر اس کی تادیب اور گرفتاری کے لئے فوج بھیجی‘ علی نے اس فوج کا مقابلہ کیا اور اپنے باپ دادا کی طرح شکست کھا کر مارا گیا۔ اس کے دونوں چھوٹے بھائی‘ ابراہیم و اسماعیل لباس بدل کر اردبیل سے گیلان کی طرف بھاگے‘ ابراہیم گیلان پہنچ کر فوت ہو گیا‘ صرف اسماعیل جو سب سے چھوٹا اور ابھی بچہ ہی تھا باقی رہ گیا‘ الوند بیگ نے اسمٰعیل کو کم عمر اور کم حوصلہ سمجھ کر اس کے حال سے کچھ تعرض نہ کیا بلکہ آزاد رہنے دیا‘ اسمٰعیل کے گرد اس کے خاندان کے باوفا مرید پھر آ آ کر جمع ہو گئے ۹۰۶ھ میں جب کہ اسماعیل کی عمر چودہ سال کی تھی اس کے مریدوں کا جو ہمہ اوقات مسلح رہتے تھے اس قدر ہجوم ہوا کہ ایک نہایت زبردست اور شائستہ فوج مرتب ہو گئی‘ اسماعیل اپنے مریدوں کی اس زبردست فوج کو لے کر یکایک شروان پر حملہ آور ہوا‘ اور اتفاقاً فرخ یسار فرماں روائے شروان اس لڑائی میں مارا گیا‘ اسماعیل اور اس کے ہمراہیوں کے حوصلے دو چند ہو گئے۔ اسماعیل کی اس فتح کا حال الوند بیگ نے سنانا تو وہ چونک پڑا اور اس نے اسماعیل کے خطرے کو فوراً دور کرنا ضروری سمجھ کر اپنی حاضر رکاب تھوڑی سی فوج لے کر بلا توقف کوچ کر دیا‘ الوند بیگ سے یہ بہت بڑی غلطی ہوئی۔ اس نے اسماعیل کی طاقت کا صحیح اندازہ کرنے اور اپنی طاقت کو مجتمع کرنے کے لئے مطلق توقف نہیں کیا اس عجلت اور شتاب زدگی کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب اسمٰعیل سے مقابلہ ہوا تو الوند بیگ بھی مارا گیا اس کے بعد قبیلہ آق قونیلو کے ایک اور سردار مراد بیگ نے ہمدان کے قریب اسماعیل کا مقابلہ کیا مگر وہ بھی مغلوب ہوا ان پیہم فتوحات کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام عراق و ایران و آذر بائیجان وغیرہ اسماعیل کے قبضے میں آ گئے چار برس پہلے ۹۰۳ھ میں جو شخص گیلان کے اندر ایک خستہ حال فقیر کی زندگی بسر کرتا تھا اب صاحب گنج دادرنگ اور مالک ملک و لشکر ہو گیا‘ ترکی سپاہیوں کی اولاد نے بھی خوب ہی حق وفاداری ادا کیا اور اپنے محسن صدر الدین اردبیلی کی اولاد کو بادشاہ ہی بنا کر چھوڑا کس قدر حیرت اور تعجب کا مقام ہے کہ جن لوگوں کی مسلسل پامردی و جواں مردی نے اسماعیل بن حیدر صفوی کوایران کا بادشاہ بنایا انہیں کی ہم قوم سلطنت عثمانیہ کا اسماعیل صفوی بلا وجہ دشمن بن گیا‘ اسمٰعیل صفوی کو چونکہ ابتداہی سے پیہم فتوحات حاصل ہوئی تھیں۔ اس لئے آئندہ فتوحات اور لڑائیوں میں یہ شہرت بہت مفید ثابت ہوئی اور عام طور پر لوگ اس سے مرعوب نظر آنے لگے اگر اسماعیل صفوی سلطان سلیم کے ملک میں اپنی خفیہ سازشوں کا جال نہ پھیلاتا اور سلطان عثمانی سے صلح و صفائی رکھنا ضروری سمجھتا تو یقیناً سلیم یورپ کی طرف متوجہ ہوتا اور اس طویل زمانہ مہلت کو جو بایزید ثانی کے عہد حکومت میں عیسائی بادشاہوں کو حاصل رہی ختم کر کے تمام یورپ کو فتح کرتا ہوا اندلس تک جا پہنچتا‘ لیکن اسماعیل صفوی نے سلیم کو یورپ کی طرف متوجہ نہ ہونے دیا‘ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے عیسائی سلاطین کے ساتھ صلح کے عہدناموں کی تجدید کر کے اس طرف سے اطمینان حاصل کیا اور یورپ والوں کو اور بھی آٹھ دس سال کی مہلت مل گئی جس میں وہ اپنے آپ کو خوب طاقتور بنا کر اپنی حفاظت کی تدابیر سوچ سکے۔