سلطان محمد فاتح کے بعد خانہ جنگی
سلطان بایزید ثانی
باب : ۲۲ سلطان محمد فاتح کے بعد خانہ جنگی اور شہزادہ جمشیدکی حیرت ناک داستان
سلطان فاتح کی وفات کے وقت اس کے دو بیٹے بایزید و جمشید تھے۔ بایزید ایشیائے کوچک کے صوبہ کا گورنر اور مقام اماسیہ میں مقیم تھا جمشید کر یمیاکی گورنری پر مامور تھا سلطان فاتح کی وفات کے وقت بایزید کی عمر ۳۵ سال اور جمشید کی ۲۲ سال تھی‘ بایزید کسی قدر سست اور دھیمی طبیعت رکھتا تھا۔ بخلاف اس کے جمشید نہایت چست اور مستعد و جفاکش شہزادہ تھا‘ سلطان فاتح کی وفات کے وقت ان دونوں شہزادوں میں سے ایک بھی قسطنطنیہ میں موجود نہ تھا‘ سلطان فاتح نے اپنے وزیراعظم احمد قیدوق فاتح کریمیا کو اٹلی کی جانب فوج کشی کرنے سے پیشتر سپہ سالاری پر مامور کر کے اس کی جگہ محمد پاشا کو وزیراعظم بنا لیا تھا۔ محمد پاشا وزیراعظم کی خواہش تھی کہ سلطان فاتح کے بعد شہزادہ جمشید کو تخت پر بٹھایا جائے۔ چنانچہ اس نے سلطان فاتح کی وفات کا حال پوشیدہ رکھنا چاہا اور جمشید کے پاس خبر بھیجی کہ فوراً قسطنطنیہ کی طرف آئو‘ مگر یہ خبر پوشیدہ نہ رہ سکی جان نثار فوج نے فوراً بغاوت کر کے وزیراعظم محمد پاشا کو قتل کر دیا اور اس کی جگہ اسحاق پاشا کو وزیراعظم بنایا اور بایزید کے پاس خبر بھیجی کہ سلطان فاتح کا انتقال ہو گیا ہے فوراً قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہو جائو۔ اس ینگ چری یعنی جاں نثار فوج نے خود سری کی راہ سے قسطنطنیہ میں بڑی بد نظمی پیدا کر دی‘ سوداگروں اور مال دار لوگوں سے زبردستی روپیہ حاصل کیا اور تمام محکموں پر قابض و متصرف ہو گئے۔ ادہر سپہ سالار احمد قیدوق جو اٹلی کے شہر اوٹرانٹو پر قابض و متصرف ہو کر آئندہ موسم بہار میں روما پر فوج کشی کی تیاریاں کر چکا تھا اور اوٹرانٹو کو ہر طرح قلعہ بند اور مضبوط بنا چکا تھا۔ تاکہ آئندہ چڑھائیوں اور لڑائیوں کے وقت یہ شہر ایک مستقل اور مضبوط مرکزی مقام کا کام دے سکے‘ سلطان کی خبر وفات کو سن کر بہت مغمموم ہوا اس نے فوراً اوٹرانٹو میں ہر قسم کی ضروریات فراہم کر کے اپنے ایک ماتحت سردار کو اوٹرانٹو کا حاکم اور وہاں کی فوج کا سپہ سالار بنایا۔ مناسب ہدایات کیں اور خود قسطنطنیہ کی جانب روانہ ہوا تاکہ وہاں نئے سلطان کی خدمت میں اٹلی کی فتح کے متعلق تمام باتیں عرض کر کے اور اجازت لے کر واپس آئے یا خود سلطان ہی کو اٹلی کی طرف لائے سلطان فاتح کی وفات کا حال بایزید کو اماسیہ میں پہلے معلوم ہو گیا اور وہاں سے صرف چار ہزار فوج لے کر دو منزلہ اور سہ منزلہ یلغار کرتا ہوا قسطنطنیہ پہنچ گیا یہاں آتے ہی تخت سلطنت پر جلوس کیا مگر جاں نثاری فوج نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور اس کے سرداروں نے سلطان سے عرض کیا کہ ہماری تنخواہوں اور جاگیروں میں بیش قرار اضافہ کیجئے اور خوب انعام و اکرام دلوائیے ورنہ ہم ابھی آپ کو قتل کر دیں گے‘ بایزید فوج کے اس خود سرانہ رویہ سے مرعوب ہو گیا‘ اور اس نے جاں نثاری فوج کے مطالبات کو منظور کر کے آئندہ کیلئے اس رسم کی بنیاد رکھ دی کہ جب کوئی نیا سلطان تخت نشین ہو تو فوج کو انعام و اکرام دے کر خزانہ شاہی کا ایک بڑا حصہ اس طرح ضائع کر دے‘ بایزید کی اس پہلی کمزوری نے بتا دیا تھا کہ وہ کوئی زبردست اور قوی بازو سلطان اور اپنے باپ کا نمونہ نہ ہو سکے گا‘ لیکن ایک طرف اس کا اپنے بھائی جمشید سے عمر میں بڑا ہونا‘ دوسرے وزیر اسحاق پاشا اور جاں نثاری فوج کا طرف دار ہونا باعث اس کا ہوا کہ اراکین سلطنت کو باوجود اس احساس کے کہ وہ قوی دل سلطان نہیں ہے اس کی مخالفت کی جرأت نہ ہو سکی چند ہی روز کے بعد سپہ سالار احمد قیدوق بھی اٹلی سے قسطنطنیہ پہنچ گیا چونکہ اس کا رقیب وزیراعظم محمد پاشا بایزید کا مخالف اور جمشید کا طرف دار تھا‘ لہٰذا احمد قیدوق نے بھی بلاپس و پیش آتے ہی سلطان بایزید ثانی کی بعیت کر لی۔
جمشید کو باپ کے مرنے کی خبر کسی قدر دیر سے پہنچی اس وقت بایزید ثانی قسطنطنیہ میں آ کر تخت نشین ہو چکا تھا۔ جمشید نے ایشیائے کوچک میں شہروں پر قبضہ کرنا شروع کیا اور شہر بروصہ پر قابض ہو کر اپنے بھائی سلطان بایزید ثانی کو لکھا۔ کہ سلطان فاتح نے آپ کو اپنا ولی عہد نہیں بنایا تھا۔ اس لئے آپ کا تنہا کوئی حق نہیں ہے کہ تمام سلطنت کے مالک و فرماں روا بن جائیں۔ مناسب یہ ہے کہ ایشیائی مقبوضات میرے تحت حکومت میں رہیں اور یورپی ملکوں پر آپ حکمرانی کریں۔ سلطان بایزید ثانی نے اس درخواست کو رد کر دیا اور جواباً کہا کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ قسطنطنیہ میں سلطان فاتح کی بہن اور ان دونوں بھائیوں کی پھوپھی موجود تھی۔ اس نے بھتیجے سلطان بایزید ثانی کے پاس جا کر اس کو سمجھایا کہ دونوں بھائیوں کا لڑنا اچھا نہیں ہے اور مناسب یہی ہے کہ جمشید کو ایشیائے کوچک کا تمام علاقہ دے دیا جائے‘ مگر سلطان بایزید ثانی نے پھوپھی کی نصیحت پر کوئی التفات نہ کیا۔ اور یہی جواب دیا کہ میں زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتا ہوں کے جمشید مع اہل و عیال بیت المقدس میں جا کر سکونت اختیار کرے اور میں اس کے پاس صوبہ کریمیا کی آمدنی کا ایک حصہ اس کے گزارہ کے لئے بھجواتا رہوں گا‘ بہرحال مصالحت کی کوئی شکل پیدا نہ سکی‘ جمشید اس بات سے واقف تھا کہ اگر میں تخت سلطنت کو حاصل نہ کر سکا تو سلطان بایزید ثانی مجھ کو ہرگز زندہ نہ چھوڑے گا لہٰذا وہ اپنی جان کی حفاظت کے لئے بھی مجبور ہو گیا کہ سلطان بایزید ثانی کا مقابلہ کرے اور تخت سلطنت کے حصول کی کوشش میں کوتاہی نہ کرے۔ غرض سلطان بایزید ثانی نے اپنے سپہ سالار احمد قیدوق کی قابلیت و تجربہ کاری سے فائدہ اٹھایا اور اپنے بھائی جمشید کے مقابلہ پر مستعد ہو گیا۔ چنانچہ ۸۸۶ھ مطابق ۲ جون ۱۴۸۱ء دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا جمشید کی فوج کے اکثر سردار معہ اپنی اپنی جمعیتوں کے عین معرکہ جنگ میں سلطان بایزید ثانی کی طرف چلے آئے‘ اور اس طرح جمشید کو سلطان بایزید ثانی کی فوج سے شکست کھانی پڑی۔
ادھریہ دونوں بھائی ایشیائے کوچک میں مصروف جنگ تھے ادہر روما کا پوپ جو روما سے بھاگنے کی تیاریاں کر چکا تھا سلطان فاتح کی خبر وفات سن کر روما میں ٹھہرا رہا اور یورپ کے عیسائی ملکوں سے صلیبی مجاہدین کو دعوت دی کہ آ کر اٹلی کو بچائو اور اس فرصت کو غنیمت سمجھ کر اٹرانٹو سے ترکوں کو نکال دو‘ چنانچہ ہسپانیہ اور فرانس وآسڑیا تک کے عیسائی دوڑ پڑے اور عیسائی فوجوں نے اٹرانٹو پر چڑھائی کر کے اس کا محاصرہ کر لیا‘ ایشیائے کوچک میں جب سلطان بایزید ثانی و جمشید کی فوجیں ایک دوسرے کے مد مقابل پہنچ چکی تھیں تو اسی زمانہ میں اٹرانٹو پر حملہ آوری کی تیاریاں عیسائیوں نے کر لی تھیں‘ قسطنطنیہ سے کوئی مدد اٹرانٹو کی فوج کو نہ مل سکی ترکوں نے خوب جم کر عیسائی فوجوں کا مقابلہ کیا۔ لیکن جب ان کو قسطنطنیہ کی طرف سے مایوسی ہو گئی تو انہوں نے عیسائیوں کے پاس پیغام بھیجا کہ ہم مدافعت کی پوری طاقت رکھتے ہیں اور ہم کو مغلوب کرنا تمھارے لئے آسان کام نہیں ہے مگر ہم اب دیر تک لڑنا اور خون بہانا مناسب نہیں سمجھتے اگر تم صلح کے ساتھ اس شہر کو لینا چاہتے ہو تو ہم تمھارے سپرد کرنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ ہم کو یہاں سے عزت و اطمینان کے ساتھ قسطنطنیہ کی طرف چلے جانے کی اجازت دو‘ عیسائیوں نے فوراً اس پیغام کو منظور کر کے شرائط صلح کی دستاویز لکھ کر ترکی سردار کے پاس بھیج دی جس کی رو سے عثمانیہ لشکر کے ہر فرد کی جان و مال کو امن دی گئی تھی۔ اس طرح صلح نامہ کی تکمیل کے بعد ترکوں نے شہر کا دوازہ کھول دیا اور عیسائیوں کا شہر پر قبضہ کرا کر خود وہاں سے روانہ ہونے کی تیاری کرنے لگے‘ لیکن عیسائی سرداروں نے بد عہدی کر کے تمام اسلامی فوج کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ شہر کی گلیاں میدان جنگ بن گئیں اور عیسائیوں نے ہر طرف سے گھیر کر نہایت ہی طالمانہ اور غیر شریفانہ طور پر قریباً تمام ترکوں کو قتل کر ڈالا اور اٹرانٹو کی گلیاں ترکوں کے خون سے لالہ زار بن گئیں۔
سلطان بایزید ثانی کی تخت نشینی کے بعد ہی سلطنت عثمانیہ کو یہ نہایت سخت و شدید نقصان پہنچا‘ کہ جو میخ ملک اٹلی میں گئی تھی وہ اکھڑ گئی اور ملک اٹلی کی فتح کا دروازہ جو ترکوں نے کھول لیا تھا وہ پھر بند ہو گیا اور روما کے گرجے پر جو حسرت و مایوسی کے بادل چھا گئے تھے وہ یک لخت دور ہو گئے اور اندلس کے ضعیف مسلمانوں کو جو زبردست امداد پہنچنے والی تھی اس کا امکان جاتا رہا احمد قیدوق کو پھر اتنی فرصت ہی نہ ملی کہ وہ سلطان بایزید ثانی سے رخصت ہو کر اس طرف آتا اور اٹلی والوں سے اپنے مقتول سپاہیوں کا انتقام لیتا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)
جمشید شکست کھا کر ایشیائے کوچک میں نہیں ٹھہرا۔ اور اپنے ہمراہیوں کی غداری کا معائنہ کرنے کے بعد اس نے ایشیائے کوچک کے کسی ترکی سردار و صوبہ دار پر بھی اعتماد کرنا مناسب نہیں سمجھا بلکہ اس کی مآل اندیش نظر نے اپنی حفاظت اور آئندہ مقابلہ پر مستعد ہونے کے لیے سلطنت مصر کو سب سے بہتر خیال کیا‘ مصر میں مملوکیوں کی حکومت تھی اور خاندان چراکسہ کا بادشاہ ابو سعید قائد بیگ حکمران تھا‘ چوں کہ مصر میں عباسی خلیفہ بھی رہتا تھا اس لیے عالم اسلام میں مصر کی سلطنت خاص طور پر تعظیم و تکریم کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی بایزید سے شکست کھا کر چند جاں نثار ہمراہیوں اور اپنی والدہ اور بیوی کے ساتھ جمشید مصر کی جانب روانہ ہوا۔ ابھی حدود سلطنت عثمانیہ سے باہر نہیں نکلا تھا‘ کہ ایک ترک سردار نے اس کے قافلہ پر چھاپا مارا اور تمام سازو سامان جو جمشید کے ساتھ تھا لوٹ لیا‘ جمشید اپنا سامان لٹوا کر جلد حدود سلطنت عثمانیہ سے نکل گیا اور وہ ترک سردار اس کا لوٹا ہوا سامان لے کر اس امید پر قسطنطنیہ پہنچا کہ سلطان بایزید ثانی خوش ہو گا اس نے جب سلطان بایزید ثانی کی خدمت میں جمشید کا سامان پیش کیا تو سلطان بایزید ثانی نے اس ترک سردار کو جس نے ایک شکست خوردہ اور تباہ حال قافلہ کو لوٹا تھا قتل کر دیا۔ جمشید کے قریب پہنچنے کا حال جب مصر کے چرکسی سلطان نے سنا تو اس نے نہایت عزت و احترام کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور بادشاہوں کی طرح اپنا مہمان رکھ کر اس کو تسلی و دل جوئی کی جمشید چار مہینے ابوسعید قائد بیگ کا مہمان رہا اس کے بعد وہ مصر سے حج بیت اللہ کے لیے روانہ ہوا‘ حج بیت اللہ سے فارغ ہو کر اور مکہ و مدینہ کی حاضری سے سعادت اندوز ہو کر جمشید مصر میں آیا اس عرصہ میں سلطان بایزید ثانی اور سلطان مصر کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا اور سلطان مصر نے اپنے مہمان شہزادہ کے خلاف کوئی حرکت کرنے پر مطلق رضا مند نہ ہوا بلکہ اس نے جمشید کو ہر قسم کی امداد دینا اپنا اخلاقی فرض سمجھا آخر جمشید نے مصر پہنچ کر جنگی تیاری شررع کی اور سلطان مصر اس کو فوج اور روپیہ سے مدد دی۔ جمشید اپنی حالت درست کر کے اپنی ماں اور بیوی کو مصر ہی میں چھوڑ کر سلطان بایزید ثانی کے مقابلہ کے لیے روانہ ہوا‘ فلسطین و شام کے ملک میں ہوتا ہوا ایشیائے کوچک کے جنوبی و مغربی حصہ سے داخل ہوا‘ بایزید یہ خبر سنتے ہی اپنے تجربہ کار سپہ سالار احمد قیدوق کو ہمراہ لے کر مقابلہ کے لیے روانہ ہوا۔ اس مرتبہ خوب زور و شور کی لڑائی میں بھی جمشید کو ایشیائے کوچک کے بعض سرداروں کی وجہ سے شکست ہوئی ان لوگوں نے جمشید کے ساتھ مل کر سلطان بایزید ثانی سے لڑنے کا وعدہ کر کے جمشید کو مصر سے بلایا تھا اور اس طرح اس کی باقی فوج کو بھی بد دل کر کے سلطان بایزید ثانی کی فتح کا موجب ہو گئے اس مرتبہ شکست کھا کر جمشید کو مصر کی طرف جاتے ہوئے شرم دامن گیر ہوئی اور اس نے کہا کہ اب سلطان مصر اور اپنی بیوی اور والدہ کو منہ دکھانے کا موقعہ نہیں رہا اگر وہ مصر چلا جاتا‘ تو یقیناً چند روز ہی کے بعد ایسا وقت آ جاتا‘ کہ سلطنت عثمانیہ کے تمام سپہ سالاران افواج متفقہ طور پر اس کو مصر سے قسطنطنیہ لے جانے کی کوشش کرتے اور تخت سلطنت پر بٹھاتے مگر قضا و قدر کو کچھ اور ہی منظور تھا‘ جمشید نے بجائے مصر کے اس بات کی کوشش کی کہ کسی طرح سلطنت عثمانیہ کے یورپی حصے میں پہنچ کر اور وہاں کے سرداروں نیز سرحد کے عیسائی سلاطین سے امداد حاصل کر کے جنگ و پیکار کا سلسلہ جاری کروں اس شکست کے بعد بھی اس کی حالت بہت نازک ہو گئی تھی اور تیس چالیس سے زیادہ رفیق اس کے ساتھ نہ تھے اس لیے وہ چاہتا تھا کہ کسی جگہ دم لینے اور اپنی حالت درست کرنے کا موقعہ ملے یہ موقعہ اس کو مصر ہی میں خوب مل سکتا تھا جہاں سلطان مصر اس کی ہر طرح مدد کرنے کو تیار تھا مگر اس نے روڈس کے حکمران عیسائیوں کی پارلیمنٹ کو لکھا کہ کیا تم اس بات کی اجازت دے سکتے ہو کہ اس تمہارے جزیرے میں چند روز قیام کر کے پھر یونان و البانیہ کی طرف چلا جائوں اور اپنے ملک کو حاصل کرنے کی کوشش کروں اس پیغام کو سنتے ہی روڈس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اور ان مقدس عیسائیوں نے جمشید کے اس ارادہ کو نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر عیسائی سلاطین کے چہروں پر ذالت و کمینگی کا سیاہ پوڈر ملنے کے لیے ایک شیطانی منصوبہ سوچا‘ جمشید ممکن تھا کہ اپنے روڈس جانے کے ارادہ پر نظر ثانی کرتا اور ملک شام میں مقیم رہ کر چند روز انجام اور عواقب امور کو سوچتا اور اس عرصہ میں سلطان مصر باصرار اس کو مصر واپس بلاتا اور اس کی ماں اور بیوی کی محبت اس کو مصر کی طرف کھینچتی‘ لیکن روڈس کی پارلیمنٹ کے صدر مسمی ڈابسن نے فوراً جمشید کو لکھا کہ ہم آپ کو سلطنت عثمانیہ کا سلطان تسلیم کرتے ہیں اور آپ کی تشریف آوری ہمارے لیے موجب عزت و افتخار ہو گی اور میں اپنی پارلیمنٹ کی جانب سے آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ ہماری عزت افزائی کے لیے ضرور روڈس میں قدم رنجہ فرمائیں‘ ہماری تمام فوج‘ تمام خزانہ تمام جہاز اور تمام طاقتیں آپ کی خدمت گزاری اور اعانت کے لئے وقف ہیں اور یہاں آپ کے لئے ہر قسم کا ضروری سامان اور طاقت موجود و مہیا کر دی جائے گی‘ اس جواب کو سن کر جمشید تامل نہیں کر سکتا تھا‘ وہ بلا توقف تیس آدمیوں کو ہمراہ لے کر روڈس کی طرف چل دیا۔ جزیرہ کے ساحل پر اتر کر اس نے دیکھا کہ استقبال کے لیے آدمی موجود ہیں وہاں سے وہ تزک و احتشام کے ساتھ دارالسلطنت میں پہنچایا گیا‘ ڈی آبسن یا ڈابسن نے جو پارلیمنٹ کا پریذیڈنٹ تھا‘ فوج کے ساتھ شان دار استقبال کیا اور شاہی مہمان کی حیثیت سے ٹھیرایا‘ لیکن بہت جلد شہزادہ جمشید کو معلوم ہو گیا کہ وہ مہان نہیں بلکہ ایک قیدی ہے۔ ڈابسن نے سب سے پہلے جمشید سے ایک اقرار نامہ اس مضمون کا لکھوایا کہ اگر میں سلطنت عثمانیہ کا سلطان ہو گیا تو فرقہ ٹائٹس یعنی روڈس کے حاکموں کو ہر قسم کی مراعات عطا کروں گا اس کے بعد اس نے سلطان بایزید کو لکھا کہ جمشید ہمارے قبضہ میں موجود ہے اگر آپ ہم سے صلح رکھنا چاہتے ہیں تو ہم کو اپنے تمام بندرگاہوں میں آنے جانے اور تجارت کرنے کی آزادی دیجئے ہر قسم کے محصول ہم کو معاف کئے جائیں اور آپ کا کوئی اہل کار ہم سے کسی جگہ کسی قسم کا محصول طلب نہ کرے نیز ۴۵ ہزار عثمانی سکے سالانہ ہم کو دیئے جائیں تاکہ ہم جمشید کو اپنی حفاظت اور قید میں رکھیں اور اگر آپ نے ہماری ان شرائط کو منظور نہ کیا تو ہم اس شہزادے کو آزاد چھوڑ دیں گے تاکہ وہ آپ سے تخت سلطنت چھین لینے کی کوشش کر سکے۔
سلطان بایزید ثانی نے بلا تامل ڈی آبسن کے تمام مطالبات کو منظور کر لیا اور ۴۵ ہزار ڈاکٹ یعنی تین لاکھ روپے سے بھی زیادہ سالانہ رقم روڈس والوں کے پاس بھجواتا رہا ادھر ڈی آبسن پریذیڈنٹ روڈس نے جمشید کی دکھیا غریب الوطن ماں کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ ہمارے پاس بھیجتی رہو گی تو ہم تمہارے بیٹے جمشید کو سلطان بایزید ثانی کے سپرد نہ کریں گے اور اس کو بہ حفاظت آرام سے اپنے پاس رکھیں گے‘ ورنہ سلطان بایزید ثانی اس سے بھی زیادہ روپیہ ہم کو دینا چاہتا ہے ہم مجبوراً اس کے سپرد کر دیں گے اور ظاہر ہے کہ وہ جمشید کو قتل کر کے اطمینان حاصل کرے گا‘ اس پیغام کو سنتے ہی جمشید کی ماں نے جس طرح ممکن ہو سکا ڈیڑھ لاکھ روپیہ ڈی آبسن کے پاس بھیج دیا اور لکھا کہ میں ہمیشہ یہ رقم بھیجتی رہوں گی‘ غرض کہ روڈس والوں نے جمشید کو جلب منفعت کا بہترین ذریعہ بنایا اور اس کے ذریعہ سے فائدہ اٹھانے میں جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے سے مطلق پرہیز نہیں کیا اس طرح جلب منفعت کی تدابیر کام میں لا کر روڈس والوں نے سوچا کہ کہیں ایسا نہ ہو سلطان بایزید ثانی یا سلطان مصر جمشید کے حاصل کرنے کے لیے ہمارے ملک پر حملہ کر دیں اور یہ سونے کی چڑیا ہاتھ سے جاتی رہے‘ لہٰذا انہوں نے جمشید کو روڈس میں رکھنا مناسب نہ سمجھا۔ اور اس کو سلطنت فرانس کی حدود میں شہر نائس کی طرف روانہ کر دیا اور ایک جمعیت اس کی نگرانی اور دیکھ بھال پر مامور کر دی۔ نائس سے پھر دوسرے مختلف شہروں میں اس کو تبدیل کرتے رہے اور اس عرصہ میں شہزادے کے ہمراہیوں کو یکے بعد دیگرے جدا کرتے رہے‘ یہاں تک کہ جمشید تنہا رہ گیا‘ فرانس کے ایک شہر میں جب جمشید کو ٹھہرایا گیا تو اتفاقاً حاکم شہر کی لڑکی فلپائن ہلنیا اس پر عاشق ہو گئی‘ چند روز کے بعد اس شہر سے بھی اس کو جدا کر کے اس کو ایک خاص مکان میں جو اسی کے لیے فرانس کے بادشاہ نے تعمیر کرایا تھا لے جا کر رکھا اب گویا شہزادہ پر بادشاہ فرانس نے اپنا قبضہ کر لیا کیوں کہ وہ ایک نہایت قیمتی مال تھا اور ہر شخص اس پر قبضہ جمانا چاہتا تھا یہ مکان کئی منزل کا تھا‘ نیچے اور اوپر کی منزل میں تو محافظ اور چوکیدار رہتے تھے‘ بیچ کی منزل میں شہزادے کو رکھا جاتا تھا‘ اس عرصہ میں شاہ فرانس‘ پوپ روما‘ اور دوسرے عیسائی سلاطین نے ڈی آبسن سے خط و کتابت کر کے شہزادہ جمشید کو اپنے اپنے قبضہ میں لینے کی درخواست کی‘ شہزادہ گویا ایسا مال تھا جو نیلام کے میدان میں رکھا ہو اور ہر شخص اس پر بولی بول رہا ہو ڈی آبسن چونکہ شہزادہ کے ذریعہ خوب نفع اٹھا رہا تھا اور وہ اس کو اپنے قبضہ میں رکھنے کی قیمت پہچانتا تھا لہٰذا اس نے نہ تو کسی کو صاف جواب دیا نہ اس کے دینے پر رضا مند ہوا بلکہ خط و کتابت کے طول دینے اور شرائط کے طے کرنے میں وقت کو ٹالتا رہا ۸۹۵ھ تک شہزادہ جمشید ملک فرانس میں رہا اور روڈس والے برابر سلطان بایزید ثانی سے روپیہ وصول کرتے رہے‘ جب ڈی آبسن کو یقین ہو گیا کہ عیسائی سلاطین بالخصوص فرانس کا بادشاہ جمشید پر قبضہ کر لے گا کیوں کہ وہ اس کے ملک میں فروکش ہے تو اس نے جمشید کو بلا لینے کی تجویز کی اور ادہر جمشید کی ماں کو لکھا کہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ سفر خرچ کے لیے بھیج دو تو میں تمہارے بیٹے کو فرانس سے بلا کر تمہارے بیٹے کو پاس مصر میں پہنچا دوں‘ اس بیچاری نے فوراً یہ روپیہ بھجوا دیا اور ڈی آبسن نے اپنے آدمیوں کو لکھا کہ جمشید کو ملک فرانس سے اب اٹلی میں لے آئو یہ حال جب فرانس کے باشادہ چارلس ہشتم کو معلوم ہوا تو اس نے مخالفت کی اور کہا کہ میں جمشید کو ہرگز اپنی عمل داری سے باہر نہ جانے دوں گا آخر بڑی ردوکد کے بعد چارلس ہشتم نے اس شرط پر جمشید کو اٹلی جانے کی اجازت دی کہ پوپ دس ہزار روپیہ بطور ضمانت جمع کرے کہ اگر دربار فرانس کی اجازت کے بغیر جمشید کو اٹلی سے باہر جانے دیا تو یہ دس ہزار روپیہ ضبط ہو جائیں گے‘ ادھر پوپ نے ایک ضمانت روڈس کے حاکموں کو دی جس کا منشاء یہ تھا کہ اگر وہ فوائد جو روڈس کی حکومت کو جمشید کے ذریعے پہنچ رہے ہیں جمشید کے اٹلی آنے سے رک گئے تو پوپ ان نقصانات کی تلافی کرے گا۔
غرض ۸۹۵ھ میں شہزداہ جمشید شہر روما میں داخل ہوا اور یہاں اس کا شاندار استقبال کیا گیا اور پوپ کے شاہی محل میں ٹھہرایا گیا‘ فرانسیسی سفیر شہزادے کے ہمراہ تھا‘ جب فرانسیسی سفیر اور جمشید پوپ سے ملنے گئے‘ تو وہاں پوپ کے نائبوں نے جو دربار میں موجود تھے‘ شہزادہ کو پوپ کے سامنے اسی طرح جھکنے کے لیے بار بار کہا جس طرح فرانسیسی سفیر اور دوسرے عیسائی سردار پوپ کے سامنے جھکتے تھے‘ لیکن سلطان فاتح کے بیٹے نے یہ ذلت کسی طرح گوارنہ کی اور وہ نہایت بے پروائی اور فاتحانہ انداز سے پوپ کے پاس جا بیٹھا‘ اور نہایت بے پروائی اور شاہانہ جرأت کے ساتھ پوپ سے گفتگو کی اور اسی گفتگو میں کہا کہ میں آپ سے کچھ تخلیہ میں بھی باتیں کرنا چاہتا ہوں پوپ نے اس بات کو منظور کیا اور جب تخلیہ ہو گیا تو جمشید نے عیسائی سرداروں کی بد عہدی اور غیر شریفانہ برتائو کی شکایت اور اپنے مصائب کی داستان سنائی اور اپنی ماں اور بیوی کی جدائی کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اس داستان غم کو سن کر پوپ کے دل پر بڑا اثر ہوا اور وہ بھی چشم پر آب ہو گیا مگر کچھ سوچ کر اس نے کہا کہ تمہارا مصر جانا تمہارے لیے مفید نہ ہو گا اور تم اپنے باپ کا تخت حاصل نہ کر سکو گے تم کو شاہ ہنگری نے بھی بلایا ہے تم اگر ہنگری کی طرف چلے جائو گے تو تمہارا مقصد بآسانی پورا ہو سکے گا اور سب سے بہتر تو تمہارے لیے یہ بات ہے کہ تم دین اسلام کو چھوڑ کر دین عیسوی قبول کر لو تو پھر تمام یورپ تمہارے ساتھ ہو گا اور نہایت آسانی سے تم قسطنطنیہ کے تخت پر جلوس کر کے سلطنت عثمانیہ کے بادشاہ بن جائو گے‘ پوپ اسی قدر کہنے پایا تھا کہ جمشید نے فوراً اس کو روک کر کہا کہ ایک سلطنت عثمانیہ کیا اگر ساری دنیا کی حکومت و بادشاہی بھی مجھ کو ملنے والی ہو تو میں اس کو ٹھوکر مار دوں گا‘ لیکن دین اسلام کے ترک کرنے کا خیال تک بھی دل میں نہ لائوں گا پوپ نے یہ سنتے ہی اپنے کلام کا پیرایہ بدل دیا اور معمولی دل جوئی کی باتیں کر کے جمشید کو رخصت کر دیا اور وہ جس طرح فرانس میں زیر حراست رہتا تھا اسی طرح روما میں بطور قیدی رہنے لگا‘ جمشید کے روما میں آ جانے کا حال سن کر سلطان مصر نے اپنا ایلچی روما میں بھیجا اس کو یقین تھا کہ روما سے جمشید اب مصر پہنچایا جائے گا اس لیے یہ ایلچی استقبال کے لیے بھیجا گیا تھا ادھر سلطان بایزید ثانی نے جمشید کے اٹلی آنے کی خبر سن کر اپنا سفیر تحف و ہدایا کے ساتھ پوپ کی خدمت میں روانہ کیا کہ پوپ سے معاملہ طے کرے کیوں کہ پوپ کی نسبت خیال تھا کہ وہ اپنے اختیار سے جمشید کو چاہے جہاں بھیج سکتا ہے اور روڈس والوں کے منشاء کو پورا کرنا پوپ کے لیے ضروری نہیں ہے‘ شاہ مصر کے سفیر نے روما میں داخل ہو کر اول جمشید کو تلاش کیا اور جب اس کی خدمت میں پہنچا تو اسی طرح آداب بجا لایا جیسے کہ سلطان قسطنطنیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر آداب بجا لاتا‘ اسی سفیر نے جمشید کو یہ حال سنایا کہ آپ کی والدہ سے کس قدر روپیہ سفر خرچ کے لیے ڈی آبسن نے منگایا ہے یہ سن کر جمشید پوپ کی خدمت میں مع سفیر پہنچا اور اس دھوکہ بازی کا استغاثہ دائر کیا پوپ نے بہت ہی تھوڑے سے روپے ڈی آبسن کے وکیل سے جمشید کو دلوا کر اس قصے کو ختم کر دیا‘ مصر کا سفیر ناکام مصر کو واپس چلا گیا بایزید کے سفیر نے پوپ سے مل کر قریباً اسی قدر رقم پر جو ڈی آبسن کو بایزید دیا کرتا تھا معاملہ طے کر لیا اور اس طرف سے اطمینان حاصل کر کے قسطنطنیہ کو واپس چلا گیا اور پوپ نے جمشید کی نگرانی کا معقول انتظام کر دیا اور وہ بدستور قیدیوں کی طرح رہنے لگا اس کے تین سال بعد پوپ جس کا نام شنیوس تھا فوت ہو گیا اور اس کی جگہ اسکندر نامی پوپ مقرر ہوا یہ جدید پوپ پہلے پوپ سے شرارت میں بدرجہا فائق تھا نے تخت نشین ہوتے ہی سلطان بایزید ثانی کے دربار میں ایلچی روانہ کیا اور پیغام بھیجا‘ کہ چالیس ہزار ڈاکٹ سالانہ جو پہلے سے مقرر ہے وہ آپ بدستور بھیجتے رہیں اور تین لاکھ ڈاکٹ یک مشت اب بھیج دیں تو میں ہمیشہ کے لیے آپ کو جمشید کے خطرے سے نجات دے سکتا ہوں یعنی اس کو ہلاک کر سکتا ہوں‘ پوپ اسکندر کے اس سفیر کا نام جارج تھا‘ جارج نے دربار قسطنطنیہ میں بڑے سلیقہ کے ساتھ گفتگو کی اور اپنی قابلیت کا اس خوبی کے ساتھ اظہار کیا‘ کہ سلطان بایزید نے پوپ کو اس سفیر کی سفارش لکھی‘ کہ یہ ایسا لائق ہے کہ اس کو اپنا نائب بنائیں‘ یہ سفیر ابھی قسطنطنیہ ہی میں مقیم تھا کہ ۹۰۱ھ میں فرانس کے چارلس ہشتم نے اٹلی پر حملہ کیا اور اس حملہ آوری کا سبب بھی بجز اس کے اور کچھ نہ تھا کہ شہزادہ جمشید کو اب جدید پوپ اسکندر کے قبضے میں نہ رہنے دیا جائے اور اس گوہر گرا نمایہ کو اپنے قبضے میں لے لیا جائے‘ چارلس ہشتم کے حملہ آور ہونے پر پوپ اسکندر روما سے بھاگ کر سینٹ اینجلو کے قلعہ میں پناہ لی اور بھاگتے ہوئے شہزادہ جمشید کو بھی جسے وہ خزانہ سے زیادہ قیمتی سمجھتا تھا اپنے ساتھ لیتا گیا گیارہ روز کے بعد پوپ اور شاہ فرانس کے درمیان شرائط صلح نامہ طے کرنے کے لیے ایک مجلس منعقد ہوئی‘ سب سے پہلی شرط جو چارلس نے پیش کی وہ یہ تھی کہ جمشید میرے قبضے میں رہے گا آخر ایک مکان میں پوپ‘ چارلس‘ جمشید صرف تین شخص جمع ہوئے اور پوپ نے جمشید کو مخاطب کر کے دریافت کیا کہ کیوں شہزادے تم یہاں رہنا چاہتے ہو یا بادشاہ فرانس کے پاس جمشید نے کہا کہ میں شہزادہ نہیں رہا بلکہ ایک قیدی ہوں مجھ کو جہاں چاہے رکھو میں کچھ نہیں کہتا بہر حال چارلس ہشتم شاہ فرانس جمشید کو اپنے ساتھ نیلپز میں لے آیا اور وہاں اس کو رکھ کر ایک سردار مناسب جمعیت کے ساتھ اس کو نگران مقرر کیا گیا اب پوپ اسکندر کی تمام امیدیں سلطان بایزید ثانی سے روپیہ وصول کرنے کی خاک میں مل گئیں‘ حالاں کہ سلطان بایزید ثانی تین لاکھ ڈاکٹ ادا کرنے پر آمادہ ہو چکا تھا اور پوپ کے سفیر سے معاملہ طے کر لیا تھا‘ پوپ کو چوں کہ روپے کا لالچ تھا اس لیے اس نے سلطان بایزید ثانی کو لکھا کہ اگرچہ جمشید یہاں سے نیلپز چلا گیا ہے مگر میں ضرور اس کا کام تمام کرا دوں گا اور آپ سے روپیہ پانے کا مستحق ہوں گا جیسا کہ طے ہو چکا ہے۔ اس کے بعد پوپ اسکندر نے ایک یونانی حجام کو اس کام کے لیے انتخاب کیا‘ یہ یونانی حجام اول مسلمان ہو چکا تھا اور اس کا نام مصطفیٰ رکھا گیا تھا اس کے بعد وہ مرتد ہو گیا۔ اور اٹلی میں آ کر اپنے پیشہ حجامی کی بدولت پوپ تک پہنچ گیا۔ پوپ نے اس مصطفیٰ حجام کو نیلپز کی جانب روانہ کیا اور زہر کی ایک پڑیا دی کہ کسی طرح یہ پڑیا جمشید کو کھلا دی جائے۔ اس زہر کا اثر یہ تھا کہ آدمی فوراً نہیں مرتا تھا‘ بلکہ چند روز کے بعد بیمار ہو کر مرتا تھا اور کوئی دوا کارگر نہ ہو سکتی تھی‘ مصطفیٰ نیلپز میں پہنچا اور رفتہ رفتہ رسوخ پیدا کر کے شہزادہ جمشید تک پہنچنے لگا‘ ایک حجام کو ایسے معزز قیدی تک پہنچنے سے پاسبانوں نے بھی روکنا ضروری نہیں سمجھا کیوں کہ
اس سے کسی قسم کا اندیشہ نہیں ہو سکتا تھا آخر مصطفیٰ نے موقعہ پا کر وہ زہر کی پڑیا شہرادہ جمشید کو کسی طرح دھوکہ سے کھلا دی اور شہزادہ لا علاج بیماری میں مبتلا ہو گیا اور اس قدر کم زور و ناتوان ہو گیا کہ اسی حالت میں مصر سے اس کی ماں کا خط اس کے پاس پہنچا تو وہ اس خط کو کھول کر پڑھ بھی نہ سکا اور اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلے کہ الٰہی اگر یہ کفار میرے ذریعہ سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں تو مجھ کو آج ہی اٹھالے اور مسلمانوں کو ان کے شر سے بچالے مزید کارروائی کی کہ زہر میں بجھے ہوئے استرے سے جمشید کی حجامت بنائی اور اس طرح بھی اس کی جلد کے نیچے زہر کا اثر پہنچا دیا تھا‘ جس روز جمشید نے یہ مذکورہ دعا مانگی اسی روز اس کی روح نے اس جسم خاکی کو چھوڑ کر عالم باقی کی طرف پرواز کی یہ واقعہ ۹۰۱ھ کا ہے جمشید نے ۳۶ سال کی عمر میں تیرہ برس قید فرنگ کے مصائب جھیل کر وفات پائی اس کی لاش سلطان بایزید ثانی کی درخواست کے موافق عیسائیوں نے بایزید کے پاس بھیج دی اور بایزید نے اس کو بروصہ میں دفن کرایا‘ سلطان بایزید ثانی نے پوپ اسکندر کو بھی وعدہ کے موافق روپیہ ادا کر دیا اور اس حجام مصطفیٰ نامی کو بلا کر اپنے ہاں نوکر رکھا اور پھر ترقی دے کر اس کو وزارت کے عہدہ جلیلہ تک پہنچا دیا‘ تعجب ہے کہ سلطان بایزید ثانی نے ابتدائی ایام میں تو اس ترکی سردار کو قتل کرا دیا تھا‘ جس نے جمشید کو راستے میں لوٹ لیا تھا مگر اب تیرہ سال کے بعد اس نے اس حجام کی ایسی قدر و عزت بڑھائی۔ جس نے جمشید کو قتل کر کے اس ترکی سردار سے زیادہ سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا‘ سلاطین عثمانیہ کے سلسلہ میں شہزادہ جمشید کی دل خراش داستان کو اس لیے مناسب تفصیل کے ساتھ اس جگہ درج کر دیا گیا ہے کہ اس داستان سے اس زمانہ کے عیسائی بادشاہوں کی اخلاقی حالت پر ایک تیز روشنی پڑتی ہے اور صاف طور پر ان عیسائی فرماں روائوں کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس طرح شہزادہ جمشید پر انہوں نے قبضہ کیا اور کس طرح اس سے فوائد حاصل کئے اور کس طرح اس کو قابو رکھنے پر حریص تھے‘ اور اپنے ان مادی اور نفسانی اغراض کے پورا کرنے میں کسی کو شرافت‘ انسانیت اور اپنے شاہانہ مرتبہ کے وقار کی پروا نہ تھی‘ ان کے دل میں رحم کا مادہ بھی نہ تھا اور ان پر سلطنت عثمانیہ کا اس قدر رعب طاری تھا اور وہ ایسے خائف و ترساں تھے کہ شہزادہ جمشید کے ذریعے سلطان عثمانی کو اپنے اوپر فوج کشی کرنے سے روکنے کی ذلت آمیز کوشش میں لگے ہوئے تھے‘ شہزادہ جمشید کی داستان کو یہاں ختم کر کے اب ہم کو سلطان بایزید ثانی کی طرف متوجہ ہونا چاہیئے‘ جو اپنے باپ سلطان محمد خان ثانی فاتح قسطنطنیہ کے بعد تخت نشین ہوا۔