رومی سلطنت
سلطان محمد خان ثانی کی وفات
اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا کہ یورپی ممالک سے عیسائیوں کا نام و نشان گم ہو‘ لہٰذا قسطنطنیہ سے روانہ ہوتے ہی سلطان پر درد نقرس کا حملہ ہوا اور اسی مرض میں بروز پنجشنبہ بتاریخ ۳ ربیع الاول ۸۸۶ھ مطابق ۳ مئی ۱۴۸۱ء میں سلطان فاتح نے وفات پائی اور یہ عظیم الشان فوج کشی ملتوی رہ گئی۔
سلطان کی لاش کو قسطنطنیہ میں لا کر دفن کیا گیا‘ یوم الخمیس یوم وفات ہے ۵۲ یا ۵۳ سال کی عمر پائی اور قریباً ۳۱ سال حکمرانی کی‘ سلطان فاتح کی وفات سلطنت عثمانیہ کے لیے بے حد مضر ثابت ہوئی‘
۱؎اسلام میں داڑھی کا ایک خاص مقام ہے۔ جناب رسول اللہe نے مسلمانوں کو داڑھی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے اگر یہ واقعہ درست ہے تو سلطان محمد خاں ثانی کی یہ بات داڑھی کے بارے میں ایک گستاخانہ کلمہ اور داڑھی کی تحقیر ہے۔
سلطان فاتح جس سال ایڈریا نوپل میں اپنے باپ کی وفات کے بعد تخت نشین ہوا اسی سال ہندوستان میں سلطان بہلول لودی تخت نشین ہوا تھا بہلول لودی اور سلطان فاتح دونوں ہم عصر تھے‘ بہلول لودی نے سلطان فاتح کی وفات کے بعد چند سال تک ہندوستان میں حکومت کی‘ کشمیر کا مشہور علم دوست اور روشن خیال بادشاہ زین العابدین بھی سلطان فاتح کا ہم عصر تھا مگر وہ کئی سال پہلے فوت ہو چکا تھا‘ اسی سال یعنی ۵ صفر ۸۸۶ھ کو کو ملک دکن میں التجار خواجہ جہاں محمود گاوان وزیر سلطان محمد شاہ بہمنی مقتول ہوا۔
سلطان فاتح کی وفات سے پورے ۱۱ سال بعد یعنی یکم ربیع الاول ۸۹۷ھ کو اندلس میں اسلامی حکومت کا چراغ گل ہوا اور غرناطہ پر عیسائیوں نے قبضہ پایا‘ یوں سمجھنا چاہیے کہ جب سلطان فاتح کا انتقال ہوا ہے تو اندلس میں اسلامی حکومت دم توڑ رہی تھی‘ کاش سلطان فاتح اور چند سال زندہ رہتا اور اٹلی کا ملک فتح ہو کر سلطنت عثمانیہ میں شامل ہو جاتا تو پھر یقیناً عیسائیوں کو یہ موقعہ نہیں مل سکتا تھا کہ وہ غرناطہ کی اسلامی سلطنت کا نام و نشان مٹا سکتے بلکہ غرناطہ کی اسلامی سلطنت جو دم بہ دم کمزور ہوتی چلی جاتی تھی عثمانیہ سلطنت سے امداد پا کر یکایک تمام جزیرہ نمائے اسپین پر چھا جاتی اور پھر تمام براعظم یورپ اسلامی جھنڈے کے سائے میں ہوتا غرض کہ سلطان فاتح کی وفات عالم اسلام کے لیے مصیبت عظمیٰ تھی۔ ( انا للٰہ وانا الیہ راجعون )