رومی سلطنت

شہر قسطنطنیہ کی تاریخ

قسطنطنیہ کی یہ فتح دنیا کا نہایت ہی اہم اور عظیم الشان واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی فتح قسطنطنیہ پر یورپی مؤرخین کی اصطلاح میں مڈل ایجیز یعنی زمانہ وسطی ختم ہو جاتا ہے اس کے بعد روشنی کا زمانہ یعنی دور جدید شروع ہوتا ہے۔ اس موقعہ پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قسطنطنیہ کے مختصر تاریخی حالات بیان کر دیئے جائیں۔ جس موقعہ پر قسطنطنیہ آباد ہے۔ اسی موقعہ پر سنہ عیسوی سے ۶۶۷ سال پہلے بائی زنیتم نامی ایک شہر کسی خانہ بدوش قبیلے نے آباد کیا تھا۔ اس شہر پر بہت سے حادثے گذرے اور وہ اپنے ارد گرد کے علاقے کا مرکزی شہر اور ایک مختصر سی ریاست کا دارالصدربن گیا۔ سکندر یونانی کے باپ فیلقوس نے اس شہر پر حملہ کر کے اس کو اپنے قبضہ میں لانا چاہا۔ اس نے رات کی تاریکی میں اپنی فوجوں کو شہر بائی زنیتم تک پہنچانا اور شہر پر اچانک قبضہ کرنا چاہا۔ اسی رات کی تاریکی میں جب کہ فیلقوس کی فوج شہر کی فصیل تک پہنچ گئی تھی شمال کی جانب سے ایک روشنی نمودار ہوئی اور اس روشنی میں شہر والوں نے حملہ آور فوج کو دیکھ لیا اور فوراً مقابلہ کی تیاری اور مدافعت پر آمادہ ہو گئے۔ فیلقوس شہر والوں کو مستعد دیکھ کر واپس ہو گیا اور شہر اس طرح بچ گیا۔ شہر والوں نے اس آئی بلا کے ٹل جانے کو ڈائنا دیبی کا کمال و تصرف تصور کیا اور اس خوشی میں دیبی مذکور کا مندر تعمیر کر کے ہلال کو اپنے شہر کا نشان مقرر کیا۔ اس کے چند روز بعد سکندر نے اس شہر کو فتح کر کے اپنے باپ کی ناکامی کا بدلہ لے لیا۔ سکندر کے بعد بائی زنتیم کو مختلف قوموں نے اپنی تاخت و تاراج کا تختہ مشق بنا لیا۔ اس کے بعد قیصر قسطنطین اول نے اس علاقے کو فتح کیا تو وہ شہر بائی زنتینم کے خوش فضا محل و قوع کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اور اس نے اس شہر اور اس کے متصلہ رقبہ کو شامل کر کے شہر آباد کیا تاکہ اس کو اپنا دارالحکومت بنائے۔ اس جدید شہر کا نام اس نے روما جدید رکھا مگر وہ قسطنطین اپنے بانی کے نام پر قسطنطنیہ مشہور ہوا۔ قسطنطین اول نے قسطنطنیہ کو ۳۲۷ھ میں آباد کیا۔ اس سے پہلے تک قسطنطین اور اس کے باپ دادا سب بت پرست اور لامذہب تھے لیکن قسطنطین نے خود دین عیسوی قبول کر کے قسطنطنیہ کو اس کی آبادی سے تین سال بعد حضرت مریم ؑ کی نذر کیا اور خوب خوشی منائی لہٰذا مئی ۳۳۰ء سے قسطنطنیہ مخصوص عیسائی شہر سمجھا جانے لگا۔ اس کے بعد سلطنت روما جب دو حصوں میں تقسیم ہوئی تو قسطنطنیہ مشرقی سلطنت کا مستقل دارالسلطنت قرار پایا۔ اس سلطنت یعنی مشرقی روم کو کامل عروج قیصر جسٹینن کے عہد حکومت میں حاصل ہوا جس نے ۵۲۷ء سے ۵۶۵ء تک حکومت کی اس قیصر نے قسطنطنیہ کی تعمیر و رونق میں بہت اضافہ کیا۔ اس شہر پر مختلف قوموں نے مختلف اوقات میں چڑھائیاں کیں مگر وہ عموماً نقصان و بربادی سے محفوظ رہا۔ مسلمانوں نے اول ہی اول عہد بنو امیہ میں اس شہر پر چڑھائی کی اور حضرت ابوایوب انصاریt اسی معرکہ میں شہید ہو کر فصیل شہر کے نیچے مد فون ہوئے۔ اس مرتبہ یہ شہر فتح ہوتے ہوتے رہ گیا۔ عیسائیوں نے کئی مرتبہ چاہا کہ حضرت ابو ایوب انصاریt کی قبر مبارک کو اکھیڑ کر پھینک دیں مگر وہ ہمیشہ مسلمانوں کی ناراضگی کے خوف سے اس ارادہ کو پورا نہ کر سکے۔ سلطان محمد خان ثانی فاتح نے فتح قسطنطنیہ کے بعد حضرت ابوایوب انصاری کے مزار مبارک کے متصل ایک مسجد بنوا دی تھی جو جامع ایوب کے نام سے مشہور ہے۔ خلفاء عباسیہ کے عہد حکومت میں کئی مرتبہ قسطنطنیہ کے فتح کرنے کی تیاریاں ہوئیں مگر ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی امر ایسا مانع ہوا کہ یہ کام ناتمام ہی رہ گیا۔ اس کے بعد ۶۰۰ھ میں جب کہ صیلبی لڑائیوں کی سرگرمیاں بڑے زور شور سے جاری تھیں وینس کی ایک فوج نے قسطنطنیہ کو فتح کر کے لاطینی سلطنت قائم کی جو روما کے پوپ کو مذہبی پیشوا مانتی تھی۔ ساٹھ سال تک یہ حکومت قائم رہی اس کے بعد ۶۶۰ھ میں یونانیوں یعنی مشرقی رومیوں نے پھر قسطنطنیہ کو فتح کر کے اپنی مشرقی حکومت دوبارہ قائم کر لی جو اسی پرانے خمیری عقیدے پر قائم اور پوپ روما کی اطاعت سے آزاد تھی۔ دو سو برس کے بعد سلطان محمد خان فاتح نے اس سلطنت کا خاتمہ کر دیا اور بجائے ایڈریا نوپل کے قسطنطنیہ عثمانیہ سلطنت کا دارالسلطنت ہوا‘ قسطنطنیہ سوا گیارہ سو سال تک عیسائی حکومت کا دارالسلطنت رہ کر اسلامی حکومت کا دارالسلطنت بنا اور پونے پانچ سو سال سے زیادہ عرصہ تک اسلامی حکومت و خلافت کا درالسلطنت اور دارالخلافہ رہنے کے بعد ہمارے اس زمانہ میں جب کہ خلافت عثمانیہ کا سلسلہ ختم ہونے پر انگورہ۱؎ ترکوں کی اسلامی جمہوری حکومت کا دارالحکومت قرار پایا قسطنطنیہ۲؎ کی دارالحکومت ہونے کی خصوصیت جاتی رہی تاہم وہ دنیا کا ایک نہایت اہم عظیم الشان شہر اور مسلمانوں کا مایہ ناز مقام ہے۔