مصر و شام کی اسلامی تاریخ کا اجمالی تتمہ

دولت مملوکۂ مصر طبقہ اول

جب خاندان ایوبیہ کو زوال آیا اور غلاموں کے ہاتھ میں سلطنت کے تمام امور آ گئے تو انھوں نے انتخاب کے ذریعہ اپنے ہی لوگوں میں سے ایک شخص ملک معز عزیز الدین ایبک کو اپنا بادشاہ بنایا ملک معز نے ملکہ شجرۃ الدر سے جو ملک صالح ایوبی کی کنیزک تھی اور چند مہینے بادشاہت کر چکی تھی نکاح کیا۔ ۶۵۵ھ میں مقتول ہوا۔ اس کے بعد امرائے سلطنت نے اس کے بیٹے ملک منصور کو بادشاہت کے لئے منتخب کیا۔ یہ دو برس کے بعد سلطنت سے دست کش ہو گیا۔ اس کی جگہ ملک مظفر بادشاہت کے لئے منتخب ہوا اور گیارہ مہینے سلطنت و حکومت پر فائز رہا۔ اس کے عہد حکومت میں ہلاکو خان کی فوج نے حملہ کر کے مصری فوج سے شکست فاش کھائی۔ ملک مظفر کو قتل کر کے ۶۵۸ھ میں الملک الظاہر رکن الدین تخت نشین ہوا اس نے سترہ سال تک بڑی کامیابی کے ساتھ حکومت کی اور ۶۷۶ھ میں اس کی وفات کے بعد ملک سعید ناصر الدین تخت نشین ہوا۔ ایک سال کے بعد اس کو بھی معزول کیا گیا۔ اس کے بعد عادل بدر الدین تخت پر بٹھایا گیا۔ صرف چار مہینے سلطنت کرنے پایا تھا کہ معزول ہوا۔ اور اس طرح ۶۷۸ھ میں دولت مملوکیہ مصر کے طبقہ کا خاتمہ ہوا۔ ان لوگوں کی مجموعی سلطنت صرف ۲۶ سال تک رہی۔ لیکن ان کی بعض خصوصیات قابل تذکرہ ہیں۔ اول یہ کہ انھوں نے انتخاب کا طریقہ جاری کیا۔ یعنی کثرت رائے سے اپنا بادشاہ منتخب کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ان مغلوں کو قریباً تمام متمدن دنیا کو تہ و بالا کر چکے تھے۔ انھوں نے ہمیشہ شکست دے دے کر بھگایا اور حدود مصر میں ان کو قدم نہ رکھنے دیا۔ ہاں! مغلوں کے بہت سے آدمیوں کو لڑائی میں گرفتار کر کے لے گئے اور اپنا غلام بنا کر مصر میں رکھا۔ ان لوگوں کو غلامان ایوبیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔