ایران کی اسلامی تاریخ کا اجمالی تتمہ

شاہان سیستان

سیستان کے ملک کو نیم روز بھی کہتے ہیں سلطان سنجر سلجوقی نے اس ملک پر ایک شخص ابو الفضل تاج الدین کو عامل مقرر کیا تھا۔ دولت سلجوقیہ کے اختلال کو دیکھ کر اس نے علم استقلال بلند کیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا شمس الدین محمد تخت نشین ہوا۔ اس کے ظلم و ستم سے ملک سیستان کی رعایا نالاں رہی۔ آخر لوگوں نے ہجوم کر کے اس کو قتل کر دیا۔ اور اسی خاندان کے ایک شخص تاج الدین حرب ابن عزالملک کو تخت نشین کیا یہ نیک سیرت اور اچھا بادشاہ تھا۔ اس کے زمانے میں ملک خراسان سلطنت غور میں شامل تھا۔ اس نے چھ سال حکومت کی اس کے فوت ہونے پر اس کا بیٹا یمین الدین بہرام شاہ تخت نشین ہوا۔ مگر چند روز کے بعد ملحدوں کے ہاتھ سے مقتول ہوا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا نصرت الدین تخت نشین ہوا۔ مگر اس کے دوسرے بیٹے رکن الدین نے اپنے بھائی کی مخالفت اور تخت سلطنت کا دعویٰ کیا دونوں بھائیوں میں لڑائیاں ہوئیں۔ آخر نصرت الدین اپنے بھائی رکن الدین کے ہاتھ سے مارا گیا۔ رکن الدین کے عہد حکومت میں سیلاب چنگیزی آیا اور مغلوں کے ہاتھ سے یہ مارا گیا۔ اس کے بعد تاج الدین حرب کا بیٹا شہاب الدین محمد تخت نشین ہوا۔ مگر چند روز کے بعد یہ بھی مقتول ہوا۔ اس کے بعد تاج الدین حرب کا بیٹا شہاب الدین محمد تخت نشین ہوا۔ مگر چند روز کے بعد یہ بھی مقتول ہوا۔ اس کے بعد تاج الدین نامی ایک شخص اسی خاندان کا تخت نشین ہوا اور دو سال محصور رہ کر مغلوں کے ہاتھ سے مقتول ہو کر اس خاندان کا خاتمہ کر گیا۔