ایران کی اسلامی تاریخ کا اجمالی تتمہ

دولت سلجوقیہ

سلجوقیوں کے مختصر حالات خلفائے عباسیہ کے سلسلہ میں بیان ہو چکے ہیں۔ بقیہ مختصر حالات ۱؎عبداللہ بن مقفع عربی و فارسی دونوں زبانوں کے ادیب تسھے‘ کلیلہ دمنہ ان کی تصنیف ہے‘ جس کا انہوں نے فارسی سے عربی زبان میں ترجمہ کیا۔ اصل کتاب سنسکرت میں تھی‘ جس کا اب پتہ نہیں چلتا۔ ابن مقفع کو ۱۶۲ھ میں ۳۵ سال کی عمر میں منصور عباسی کے حکم سے قتل کیا گیا۔ ذیل میں درج کیے جاتے ہیں۔ ترکوں کی قوم کا ایک شخص جس کا نام وقاق اور لقب تیمور تالیغ تھا۔ ترکستان یعنی دشت قبچاق کے بادشاہ پیغو کے متوسلین میں تھا۔ اس کے بیٹے کا نام سلجوق تھا جو اپنے آپ کو افراسیاب کی چونتیسویں پشت میں بتاتا تھا۔ وہ بھی اپنے باپ کے بعد پیغو کے دربار میں رسوخ رکھتا تھا۔ ایک روز کسی بات پر سلجوق پیغو سے خفا ہو کر معہ اپنے بیٹوں کے سمر قند و بخارا کی طرف چلا آیا۔ اور مقام جند کے قریب اس مختصر قافلہ نے قیام کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ بخارا کے تخت پر نوح ثانی سامانی متمکن تھا۔ جند کے مسلمان عامل کی ترغیب سے سلجوق نے دین اسلام قبول کیا۔ یہ علاقہ اس زمانہ میں پیغو بادشاہ ترکستان کا باج گزار تھا۔ چند روز کے بعد پیغو کے عمال زرخراج وصول کرنے آئے۔ تو سلجوق نے وہاں کے حاکم سے کہا کہ مجھ سے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کفار آ کر مسلمانوں سے خراج وصول کریں۔ سلجوق کی اس ہمت کو دیکھ کر وہاں کے باشندے بھی آمادہ ہو گئے اور سلجوق کے ساتھ مل کر پیغو کے عمال پر حملہ آور ہوئے۔ اس حملہ میں سلجوق کو فتح ہوئی۔ اور اس کی بہادری کی دور دور تک شہرت ہو گئی۔ اور اس کے قبیلہ کے لوگ آ آ کر اس کے ساتھ شامل ہوئے جب ایلک خان نے نوح ثانی پر حملہ کیا تو سلجوق نے نوح ثانی کی طرف سے ایلک خان کے مقابلے میں بڑی بہادری دکھائی۔ اسی لڑائی میں سلجوق کا بیٹا میکائیل مارا گیا۔ میکائیل کے دو بیٹے طغرل بیگ اور چغر بیگ اپنے دادا سلجوق کے زیر تربیت پرورش پانے لگے۔ سلجوق کے چار بیٹے اور تھے جن کے نام اسرائیل۔ یونس۔ ینال۔ موسی تھے۔ ترک اور مغول قبائل میں کسی شخص کا غیر معمولی بہادری دکھانا اس کے سردار قوم بنا دینے کے لیے کافی تھا۔ سلجوق اور اس کے بیٹوں کو بہت جلد ناموری اور سرداری حاصل ہو گئی تھی اور ان کے گرد ترکوں کی جمعیت کثیر فراہم ہو چکی تھی۔ ایلک خان اور پیغو نے مل کر اس نئے قبیلہ کو جو قبیلہ سلجوق کے نام سے مشہور ہو چکا تھا۔ برباد کرنا چاہا۔ اس عرصہ میں سلجوق کا انتقال ہو گیا۔ اور اس کے پوتے چغر بیگ نے ایک جمعیت لے کر ملک ارمینیا کی جانب عیسائیوں پر جہاد کرنے کے لیے جانا چاہا۔ راستے میں محمود غزنوی کا علاقہ یعنی صوبہ طوس پڑتا تھا۔ طوس کے عامل نے ایک مجاہد سبیل اللہ کو اپنی عملداری سے گذرنے دیا۔ سلطان محمود غزنوی بہت ذی ہوش اور مآل اندیش بادشاہ تھا۔ اس کو جب یہ معلوم ہوا کہ سلجوقی گروہ اس کے علاقے میں ہو کر گذرا ہے تو اس نے عامل طوس سے جواب طلب کیا۔ اور اندیشہ مند ہوا کہ کہیں یہ لٹیرا گروہ میری مملکت کو اپنی غارت گری کا تختہ مشق نہ بنائے۔ چغر بیگ ارمینیا کی طرف سے سالماً غانماً واپس آیا اور سلجوقیوں کی تعداد اور طاقت میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ اب انہوں نے نواح بلخ میں اپنے مویشیوں کو چرانا شروع کیا اور وہیں طرح اقامت ڈال دی۔ محمود غزنوی نے ان حالات سے مطلع ہو کر اپنے عامل کے ذریعہ سلجوقیوں کے سردار کو اپنے دربار میں طلب کیا عمر کے اعتبار سے اب سلجوق کا بیٹا۔ اسرائیل سب سے بڑا اور ذی ہوش شخص تھا۔ چنانچہ اسی کو دربار محمودی میں روانہ کیا گیا۔ محمود غزنوی نے اسرائیل کو عزت کے ساتھ دربار میں جگہ دی۔ اور بہت سی باتوں کے بعد دریافت کیا کہ اگر مجھ کو فوج کی ضرورت پڑے تو تم کتنے آدمیوں سے امداد کر سکتے ہو۔ اسرائیل نے اپنا تیر سامنے رکھ دیا اور کہا کہ اس تیر کو آپ ہمارے جنگلی قبائل میں بھیج دیجیے ایک لاکھ آدمی حاضر ہو جائیں گے محمود نے کہا اگر اس سے زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہو تو اور کتنے دے سکتے ہو۔ اسرائیل نے اپنی کمان سامنے رکھ دی اور عرض کیا کہ اس کمان کو اگر آپ ہمارئے قبائل میں بھیج دیں گے۔ تو دو لاکھ آدمی تیار ہو کر آ جائیں گے۔ اس جواب کو سن کر محمود نے ان لوگوں کی کثرت تعداد کا اندازہ کیا۔ اور اسرائیل کو بطور یرغمال اور بطریق ضمانت امن روک کر ہندوستان کی طرف بھیج دیا۔ جہاں وہ سات سال تک کا لنجر کے قلعہ میں محبوس رہا سلجوقیوں کی سرداری طغرل بیگ اور چغر بیگ سے متعلق رہی یہ دونوں بھائی آپس میں نہایت اتفاق و اتحاد کے ساتھ رہتے۔ اور مل کر اپنے قبائل متعلقہ پر حکومت کرتے تھے۔ محمود غزنوی نے سلجوقیوں کو اول ماوراء النہر میں کچھ زمین بطور چراگاہ دے دی۔ اور پھر اس بات کی بھی اجازت دے دی کہ وہ دریائے جیحون کو عبور کر کے خراسان میں آباد ہو جائیں۔ اس پر ارسلان جاذب عامل طوس وبلخ نے اعتراض کیا کہ یہ جنگ جو قوم ہے کسی وقت باعث اذیت ہوں گے آپ ان کو دریائے جیحون سے اس طرف آنے کی اجازت کیوں دیتے ہیں۔ مگر محمود کو اپنی طاقت کا حال معلوم تھا۔ نیز وہ جانتا تھا کہ ان کو فوج میں بھرتی کر کے ان سے کام لیا جا سکتا ہے۔ ادھر اس نے اسرائیل کو بطور یرغمال نظر بند کر رکھا تھا۔ جب محمود غزنوی کا انتقال ہوا تو سلطان مسعود نے اسرائیل کو کالنجر کے قلعہ سے فوراً آزاد کر دینے کا حکم صادر کیا۔ اسرئیل قید سے آزاد ہو کر اپنے بھتیجوں کے پاس پہنچ گیا اس کے پہنچتے ہی سلجوقیوں نے زور پکڑا ادھر سلطان مسعود اپنی تخت نشینی کے بعد مہمات سلطنت پر پورے طور پر مستولی نہ ہونے پایا تھا۔ کہ ادھر چغر بیگ نے مرو اور ہرات پر قبضہ کر لیا۔ اور طغرل بیگ نیشا پور پر قابض ہو کر مضبوط ہو بیٹھا۔ مسعود غزنوی جب ان کے استیصال کی طرف متوجہ ہوا تو دونوں بھائیوں نے مقابلہ کیا۔ اور سلطان مسعود کو اس قدر پریشان کیا کہ انجام کار اس کی حکومت تمام ملک خراسان سے اٹھا دی۔ اس کے بعد طغرل بیگ نے اپنا دارالحکومت رے قرار دیا۔ اور چغر بیگ مرو میں مقیم ہوا۔ دونوں بھائیوں کا نام خطبہ میں پڑھا جانے لگا۔ طغر بیگ نے خراسان پر قابو پا کر خوارزم کے ملک کو بھی اپنی حکومت میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد رومیوں پر حملہ آور ہو کر وہاں سے کامیاب واپس ہوا۔ اس کے بعد بغداد پہنچا۔ دیلمیوں کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ اور خلیفہ بغداد کا مدارالمہام اور حامی خلافت مقرر ہوا۔ خلیفہ کے دربار سے خلعت و خطاب پایا۔ ۴۴۷ھ میں بغداد کے اند طغرل بیگ کا خطبہ پڑھا گیا۔ خاندان خلافت سے رشتہ داری کا شرف حاصل کر کے ۸ رمضان المبارک ۴۵۵ھ کو جمعہ کے دن ستر برس کی عمر میں طغرل بیگ نے وفات پائی چغر بیگ اس سے چار سال پہلے ۱۸ رجب ۴۵۱ھ کو فوت ہو چکا تھا۔ طغرل بیگ لاولد فوت ہوا۔ اس لیے اس کے بعد اس کا بھتیجا سلطان الپ ارسلان بن چغر بیگ اس کا جانشین اور مدارالمہام خلافت مقرر ہوا۔ ۴۶۵ھ میں بتاریخ ۱۰ ربیع الاول سلطان الپ ارسلان نو برس اور ڈھائی مہینے حکومت کرنے کے بعد فوت ہوا۔ سلطان الپ ارسلان بڑا ہی دین دار‘ عالی جاہ اور اپنے زمانے کا سب سے بڑا زبردست بادشاہ تھا۔ الپ ارسلان نے ایک مرتبہ صرف بارہ ہزار سواروں سے عیسائیوں کی تین لاکھ جرار فوج کو شکست فاش دے کر روم کے قیصر کو گرفتار کر لیا تھا۔ جس کا ذکر گذشتہ ابواب میں آ چکا ہے۔ الپ ارسلان کے بعد اس کا بیٹا ملک شاہ سلجوقی تخت نشین ہوا۔ الپ ارسلان کے بھائی قادرد نے بھتیجے کے خلاف علم مخالفت بلند کیا۔ مگر آخر گرفتار ہو کر مقتول ہوا۔ اسی قادر بیگ کی اولاد میں سلاجقہ کرمان کی حکومت کا سلسلہ جاری ہوا۔ ملک شاہ نے شام و مصر کو بھی اپنی حکومت میں شامل کیا۔ ادھر دریائے سیحون کے دوسری طرف تک اس کے نام کا خطبہ پڑھا جاتا تھا۔ ملک شاہ کی حدود حکومت الپ ارسلان سے بھی زیادہ وسیع تھی۔ ایک مؤرخ کا بیان ہے کہ دیوار چین سے بحر قلزم تک ملک شاہ کا حکم جاری اور اس کے نام کا خطبہ پڑھا جاتا تھا۔ ۴۸۴ھ میں ملک شاہ نے وفات پائی۔ اس کے بعد اس کا بیٹا برکیارق تخت نشین ہوا۔ اور سلجوقیوں کا زوال شروع ہو گیا۔ برکیارق کے بعد اس کا بھائی محمد بن ملک شاہ ۴۹۶ھ میں تخت نشین ہوا۔ اس کے بعد سنجر بن ملک شاہ ۵۰۹ھ میں تخت نشین اور سلطان السلاطین۱؎ کے نام سے موسوم ہوا۔ اسی سے سلطان بہرام غزنوی نے دب کر خراج گزاری گوارا کی تھی۔ جب سلطان علاء الدین غوری جہاں سوز نے بہرام کو بے دخل کر کے غزنین کو فتح کیا۔ تو سلطان سنجر سلجوقی نے پہنچ کر علائو الدین غوری کو گرفتار کیا۔ ایک مرتبہ نواح بلخ میں ترکان غزنے موقعہ پا کر سلطان سنجر کو گرفتار کر لیا اور یہ ۱؎حدیث میں ایسے القاب اور ناموں سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ جناب رسول اللہe نے فرمایا : ’’سب سے ذلیل ترین نام‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کا نام ہے جو اپنا نام بادشاہوں کا بادشاہ رکھے۔‘‘ (صحیح بخاری‘ کتاب الادب‘ حدیث ۶۲۰۵۔ صحیح مسلم‘ کتاب الآداب)۔ بنا بریں ملک الملوک یعنی بادشاہوں کا بادشاہ اور شہنشاہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات جلیلہ ہے۔ چار سال تک ان کی قید میں رہا۔ اس عرصہ میں ترکان غزنے تمام ملک خراسان کو اپنی لوٹ مار سے تباہ و ویران کیا۔ آخر ان کی قید سے آزاد ہو کر پھر سلطان سنجر ملک خراسان پر قابض ہوا۔ اس کے بعد اس کے ایک خادم اور عامل خوارزم نے بغاوت و خود مختاری اختیار کی۔ اور خوارزم میں ایک نئی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ اس سلطنت کو دولت خوارزم شاہیہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یوں سمجھنا چاہیئے کہ خوارزم شاہیوں اور غوریوں کی سلطنت کے قائم ہونے کا زمانہ قریب ہی تھا۔ سلطان سنجر کی وفات کے بعد اس کا خواہر زادہ محمود خاں نیشاپور میں تخت نشین نے ۵۵۵ھ میں وفات پائی۔ اسی سال محمود خان تخت نشین ہوا۔ اس کے زمانے میں خراسان کے ایک حصہ پر غوریوں نے اور دوسرے حصے پر خوارزم شاہیوں نے قبضہ کر کے خراسان سے سلجوقیوں کی حکومت کا نام و نشان مٹا دیا۔ ملک شاہ شلجوقی کی اولاد جو عراق عرب میں حکمران اور خلافت بغداد سے متعلق رہی اس کا تفصیلی تذکرہ خلفائے بغداد کے سلسلہ میں آ چکا ہے یہاں اعادہ کی ضرورت نہیں۔ قادرد بیگ کی اولاد میں دس بادشاہ جو سلاجقہ کرمانیہ کہلاتے ہیں۔ شہر ہمدان میں یکے بعد دیگرے تخت نشین ہوتے رہے جن کی تفصیل اس طرح ہے قادرد بیگ ۴۶۵ھ میں مسموم مقتول ہوا۔ اس کے بعد ملک شاہ ابن الپ ارسلان کے حکم سے اس کا بیٹا سلطان شاہ کرمان میں حکمران مقرر ہوا۔ ۱۲ سال حکومت کر کے جب وہ فوت ہوا۔ تو اس کی جگہ اس کا بھائی توران شاہ تخت نشین ہوا۔ توران شاہ نے ۱۳ سال حکومت کی اس کے بعد اس کا بیٹا ایران شاہ تخت نشین ہوا جس نے ۴۲ سال حکومت کی۔ اس کے بعد اس کا بیٹا مغیث الدین محمد تخت نشین ہوا۔ جس نے ۱۴ سال حکومت کی۔ اس کے بعد محی الدین طغرل شاہ تخت نشین ہوا۔ اور ۱۲ سال حکومت کرتا رہا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا بہرام شاہ اس کے بعد ارسلان شاہ اس کے بعد توران شاہ اس کے بعد محمد شاہ تخت نشین ہوئے۔ خوارزم شاہیوں کے عروج تک یہ لوگ کرمان میں حکمران رہے۔ اس کے بعد ان پر فنا وارد ہو گئی۔ سلیمان قتلمش بن اسرائیل بن سلجوق کو سلطان الپ ارسلان سلجوقی نے ایشیائے کوچک کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا۔ اس نے وہاں اپنی ایک جداگانہ حکومت قائم کی۔‘ اس کی اولاد میں چودہ بادشاہ ہوئے۔ جو سلاجقہ روم کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کا دارالسلطنت شہر قونیہ تھا۔ یہ لوگ ساتویں صدی ہجری کے آخر تک حکمران اور اکثر رومیوں سے بر سر جنگ رہے۔ ان کے بعد ہی سلطنت عثمانیہ کا سلسلہ شروع ہوا۔ جس کا حال مناسب موقع پر بیان ہو گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ سلجوقیوں اور غزنویوں کے حالات میں خوارزم شاہیوں اور غوریوں کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے۔ لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں سلطنتوں کا بھی مختصر سا تذکرہ اب کر دیا جائے۔